Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / سیاسی جماعتوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ پر اعتراض

سیاسی جماعتوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ پر اعتراض

نریندر مودی اور راہول گاندھی میں ساز باز ، چیف منسٹر دہلی کا الزام
نئی دہلی 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج یہ مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ذرائع عطیات (فنڈنگ) کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن قائم کیا جائے۔ انھوں نے مرکزی حکومت کے اس فیصلہ پر اعتراض کیاکہ 500 اور 1000 روپئے کے پرانے نوٹ ڈپازٹ کروانے پر سیاسی جماعتوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ انھوں نے الزام عائد کیاکہ کل وزیراعظم نریندر مودی اور نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے درمیان ملاقات کے بعد مرکز نے یہ فیصلہ کیا ہے جوکہ باہمی ساز باز کا نتیجہ ہے۔ عام آدمی، 2.5 لاکھ روپئے ڈپازٹ کروانے پر باز پرس کی جارہی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو2,500  کروڑ روپئے بھی ڈپازٹ کروانے پر کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جائے گی۔ اروند کجریوال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ گزشتہ 5 سل کے دوران سیاسی جماعتوں کے بینک کھاتوں کی تفصیلات اور مالی وسائل کی تحقیقات کے لئے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔ انھوں نے مرکز سے کہاکہ نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد سیاسی جماعتوں کی ڈپازٹ کردہ رقومات کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائے اور انکم ٹیکس سے استثنیٰ کے لئے 20 ہزار عطیہ کی حد بندی کو برخاست کردیا جائے اور سیاسی جماعتوں سے ہر ایک پیسہ کا حساب کتاب لیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی روز اول سے ہی انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرتے آرہی ہے اور ہمارا حساب کتاب (عطیات) بالکلیہ شفاف ہے لیکن بی جے پی کے اکاؤنٹس مشتبہ ہونے سے وہ تحقیقات کی مخالفت کررہی ہے۔ اروند کجریوال جوکہ نریندر مودی کے کٹر ناقد ہیں، یہ الزام عائد کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی آڑ میں بلیک منی کو وائٹ میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے جبکہ عام آدمی طویل قطاروں میں ٹھہرے ٹھہرے دم توڑ رہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ ملک کے ساتھ دھوکہ ہے کیوں کہ نریندر مودی اور راہول گاندھی کے درمیان ساز باز کے بعد سیاسی جماعتوں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کا فیصلہ کیا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT