Wednesday , September 27 2017
Home / سیاسیات / سیاسی جماعتوں کو نامعلوم عطیوں پر امتناع

سیاسی جماعتوں کو نامعلوم عطیوں پر امتناع

انتخابی کامیابی پر ہی ٹیکس سے استثنیٰ، الیکشن کمیشن کی سفارشات
نئی دہلی ۔ /18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سیاست میں کالا دھن اور رقمی الٹ پھیر کو روکنے کے مقصد سے الیکشن کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حکومت قوانین میں ترمیم کرے ۔ کمیشن نے کہا کہ  صرف ان جماعتوں کو ہی ٹیکس سے استثنیٰ کی اجازت دی جائے جو انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو 2000 روپئے یا اس سے زائد کے نامعلوم عطیہ جات پر امتناع عائد کیا جائے ۔ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 ء کی دفعہ 13A کے تحت سیاسی جماعتوں کو جائیدادوں کے ذریعہ آمدنی ، رضاکارانہ طور پر عطیوں کے ذریعہ ہونے والی آمدنی ، سرمایہ فائدے کے ذریعہ ہونے والی آمدنی اور دیگر ذرائع سے ہونے والی آمدنی پر انکم ٹیکس استثنیٰ حاصل ہے ۔ سیاسی جماعتوں میں صرف ان سربراہان کو جو تنخواہ حاصل کرتے ہیں اور تجارت یا پیشہ سے انہیں آمدنی ہوتی ہے  وہی ٹیکس دینے کے اہل ہیں ۔ کمیشن نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ انکم ٹیکس سے استثنیٰ صرف ان سیاسی جماعتوں کو دیا جائے جو لوک سبھا یا اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کے بعد کامیابی حاصل کرے ۔ کمیشن نے کہا کہ ایسے واقعات ہوسکتے ہیں کہ محض ٹیکس استثنیٰ کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے سیاسی جماعت تشکیل دی جائے ۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کو نامعلوم عطیہ جات کی وصولی پر کوئی قانونی یا دستوری پابندی نہیں ہے ۔ لیکن ایسے معاملات میں بھی 20 ہزار روپئے سے زائد عطیہ دینے پر ڈکلریشن لازمی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ 2000 روپئے یا اس سے زائد کے نامعلوم عطیہ پر پابندی لگائی جانی چاہئیے ۔

TOPPOPULARRECENT