Thursday , March 30 2017
Home / Top Stories / سیاسی جماعتوں کو ٹیکس استثنیٰ یا کوئی رعایت نہیں

سیاسی جماعتوں کو ٹیکس استثنیٰ یا کوئی رعایت نہیں

NEW DELHI, DEC 17 (UNI):- Union Minister for Finance and Corporate Affairs Arun Jaitley addressing the 89th Annual General Meeting of FICCI, in New Delhi on Saturday. UNI PHOTO-46U

پرانی کرنسی بطور عطیہ قبول نہیں کی جاسکتی، انکم ٹیکس حکام کو پوچھ تاچھ کا اختیار : جیٹلی
نئی دہلی ۔ 17 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سیاسی جماعتوں کو ٹیکس سے استثنیٰ کے بارے میں جاری الجھن دور کرتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ وہ 500 اور 1000 روپئے کی شکل میں عطیہ جات وصول نہیں کرسکتیں کیوں کہ گزشتہ ماہ ان کا چلن بند کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ سیاسی جماعتوں کو کوئی نیا استثنیٰ نہیں دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو آمدنی پر جو مشروط انکم ٹیکس استثنیٰ حاصل ہے وہی برقرار رہے گا ۔ انہیں مزید کوئی نئی رعایت یا استثنیٰ 8 نومبر کو نوٹ بندی کے اعلان کے بعد یا گزشتہ ڈھائی سال کے دوران نہیں دیا گیا ہے ۔ ارون جیٹلی نے ایک بیان میں کہا کہ کرنسی بندی کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت 500 اور 1000 روپئے کی شکل میں عطیہ قبول نہیں کرسکتی ۔ اگر کوئی جماعت ایسا کرتی ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی طرح سیاسی جماعتیں بھی اپنے پاس موجود پرانی کرنسی 30 دسمبر سے پہلے بینکوں میں جمع کراسکتے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ ذرائع آمدنی کی اطمینان بخش وضاحت کریں اور ان کے اکاونٹس 8 نومبر سے پہلے بھی اس کے مطابق ہوں ۔ اگر اس معاملہ میں کوئی فرق پایا جائے تو انکم ٹیکس حکام دیگر کسی بھی فرد کی طرح سیاسی جماعتوں سے بھی پوچھ تاچھ کرسکتے ہیں ۔ انہیں کوئی تحفظ نہیں دیا گیا ہے اور کسی کو بھی بشمول سیاسی جماعتوں کو استثنیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
عوام کی پریشانی جلد دور ہوگی

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مودی حکومت کے 500 اور ایک ہزار کے نوٹوں کی لین دین کو بند کرنے کے فیصلے کوجرات مندانہ بتاتے ہوئے آج کہا کہ ہندوستان کے پاس نوٹ کی منسوخی جیسے فیصلے کرنے اور اسے نافذ کرنے کی صلاحیت ہے اور جلد ہی نوٹ کی اشاعت سے پریشانی دور ہوگی ۔مسٹر جیٹلی نے صنعتی تنظیم انڈین کامرس اینڈ انڈسٹری فیڈریشن (فکی) کی 89 ویں سالانہ عام اجلاس کا آج یہاں رسمی آغاز کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ کی منسوخی سے طویل مدتی فوائد ہوں گے اور نوٹ کی اشاعت کا عمل جلد ہی پورا ہو جائے گا کیونکہ ریزرو بینک رائج نوٹوں کی زور شور سے فراہمی کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس فیصلے سے مختصر مدتی کچھ مشکلات ہو بھی رہے ہیں تو بھی یہ واضح ہے کہ طویل مدتی اس سے فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے کرنے کے لئے واضح، ہمت، مضبوط کندھوں اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومت نے بڑی قیمت کے نوٹوں کی لین دین بند کرکے جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی کے فیصلے کے کئی طرح سے اثر ہوں گے جس سے ایک نیا ہندوستان بنے گا۔ 70 برسوں میں جو صورتحال تھی اسے آگے برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ یہ زندگی جینے کا طریقہ بن گیا تھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT