Sunday , August 20 2017
Home / اداریہ / سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ

سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ

سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ
وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا پھر مرکزی حکومت کے دوسرے ذمہ داران ہوں آج کل ہر ایک کی زبان یہی کہتی نظر آ رہی ہے کہ وہ کالے دھن کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اپوزیشن جماعتیں نہیں چاہتیں کہ یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام کو پہونچے ۔ حکومت کا یہ استدل اور ادعا ہے کہ وہ کالا دھن ختم کرنے کے ارادوں پر کاربند ہے اور اس کیلئے کسی بھی نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ حکومت نے اسی منصوبے کے تحت بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلے سے سارے ملک میں بے چینی اور عملا نراج کی کیفیت پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ عوام کی مشکلات اور پریشانیوں میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حکومت اور مرکزی وزرا یہ کہتے ہوئے خود کو شاباشی دینے لگے ہیںکہ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر قطاریں کم ہوگئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بینکوں میں لوگوں نے اپنی رقومات جمع کروادی ہیں اور اب انہیں بینکوں سے پیسے واپس نہیں مل رہے ہیں اس لئے عوام کی قطاریں کم نہیں ہوئی ہیں بلکہ بڑھی ہیں۔ جہاں تک اے ٹی ایم مشینوں کا سوال ہے یہاں ضرور قطاریں کم ہوگئی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو یہاں کئی گھنٹوں تک انتظار کرنے کے باوجود بھی دو ہزار روپئے کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ ایک الگ صورتحال ہے ۔ حکومت نے اپنے اقدام اور فیصلے کے نتیجہ میں عوام کو تو مشکلات سے دوچار کردیا ہے لیکن جہاں تک سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کاسوال ہے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات سے قبل اور اس کے بعد سے کروڑ ہا روپئے کے عطیات مل رہے ہیں۔ ان عطیات کا حساب کتاب کس کے پاس ہے یہ واضح نہیں ہے ۔ کانگریس یا دوسری جماعتیں بھی عطیات کے حصول میںکسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ جب حکومت عوام کے پاس رکھی ہوئی خون پسینے کی کمائی کے تعلق سے نت نئے فیصلے کرتے ہوئے انہیں عملا ہراسانی کا شکار کرسکتی ہے تو اسے سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے تعلق سے بھی کچھ کرنا چاہئے ۔ سیاسی جماعتوں میں پیسے کی طاقت ہی ہے جو انہیں غیر جمہوری طریقے اختیار کرنے کی اہلیت دیتی ہے اور پھر ان ہی طریقوں سے منتخب افراد رشوت اور کالے دھن کے مالک بن جاتے ہیں۔
سارا ملک جانتا ہے کہ سیاسی جماعتیں کس طرح سے انتخابات میں دولت کا استعمال کرتی ہیں۔ کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے حقیقی اور اہل امیدواروں کی پیشرفت کو روکا جاتا ہے ۔ عوام کے ووٹ خریدے جاتے ہیں۔ عہدیداروں کو رشوتیں دی جاتی ہیں۔ بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوتی ہیں ۔ انتخابی عمل میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں اور انتخابی عمل میں کالے دھن کو روکا نہیں جاتا اس وقت تک ملک سے کرپشن اور کالے دھن کا خاتمہ کرنا ممکن نہیںہوسکتا ۔ سیاسی جماعتوں کو جو عطیات موصول ہوتے ہیں وہ بھی عملا کرپشن ہی کا ایک حصہ ہوتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے قبل یا دوران میں کروڑہا روپئے کے عطیات موصول ہوتے ہیں۔ یہ خود پہلے سے کالا دھن ہوتے ہیں۔ یہ تاجر اور کروڑ پتی افراد سیاسی دوستیاں خریدنے کیلئے خرچ کرتے ہیں اور پھر ان دوستیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے زیادہ رشوتیں حاصل کرتے ہیں یا کالا دھن جمع کرلیتے ہیں۔ یہ بھی بات ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ جو لوگ کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ان کا مطمع نظر خرچ کی گئی دولت سے کئی گنا زیادہ کمائی کرنا ہوتا ہے ۔ عوام کی خدمت یا بہتری ان کا مقصد نہیں ہوتی ۔ ایسے میں اگر سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین میں کرپشن اور بدعنوانیوں کو نہیں روکا گیا اور انتخابی عمل میںاصلاحات نہیں لائی گئیں تو کالے دھن کا خاتمہ ممکن نہیں ہو پائے گا ۔
ہندوستان میں ایک عرصے سے مطالبات کئے جا رہے ہیں کہ سیاسی عمل کو شفاف بنایا جانا چاہئے اور خاص طور پر سیاسی جماعتوں کو جو نامعلوم ذرائع سے عطیات حاصل ہوتے ہیں اس کا سلسلہ رکنا چاہئے ۔ سیاسی جماعتوں کیلئے یہ لازمی ہونا چاہئے کہ وہ اپنے عطیات شفاف انداز میں حاصل کریں۔ عطیہ دینے والوں کی تفصیلات اور فہرست کو پارٹی کی ویب سائیٹ پر پیش کیا جائے ۔ عطیہ دینے والے افراد کو اقتدار ملنے پر کاروباری اور تجارتی فائدہ پہونچانے کی روایت بھی ملک میں عام ہے ۔ اس روایت کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ الیکشن کمیشن نے خود بھی کئی مرتبہ کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو نامعلوم ذرائع سے عطیات وصول کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے اور سارا عمل شفافیت سے پر ہونا چاہئے ۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ عوام کو نشانہ بنانے سے پہلے سیاسی جماعتوں کے عطیات کو باقاعدہ بناتی ۔ اسے کم از کم اب سیاسی فنڈنگ کو باقاعدہ بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی میدان کرپشن سے پاک ہونا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT