Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاسی دباؤ ، غیر جانبداری سے فرائض انجام دینے میں دشواری

سیاسی دباؤ ، غیر جانبداری سے فرائض انجام دینے میں دشواری

وقف بورڈ ایگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ خان کا خدمات سے دستبرداری کا فیصلہ
حیدرآباد۔25 نومبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ کے امور میں بڑھتی سیاسی مداخلت اور مبینہ طور پر دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے اپنی خدمات سے دستبرداری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے محکمہ کے اعلی عہدیداروں کو واقف کرادیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ کی روزمرہ کارکردگی میں سیاسی اور وقف مافیہ کی مداخلت میں اضافہ ہوگیا اور اس سلسلہ میں جب وقف ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی  تو چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی جانب سے تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے۔ کئی اوقافی جائیدادوں کے معاملات میں اپنی پسند کا فیصلہ حاصل کرنے کے لئے مقامی سیاسی جماعت کے قائدین چیف ایگزیکٹیو آفیسر پر دبائو بنارہے ہیں۔ بعض گوشوں کی جانب سے انہیں فون پر اور شخصی طور پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس صورتحال سے عاجز آکر محمد اسد اللہ نے وقف بورڈ میں خدمات جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے متعلقہ محکمہ مال کو واپس جانا چاہتے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں ان کی میعاد میں ایک سال کی توسیع کی ہے لیکن وہ عہدے پر مکمل آزادی اور غیر جانبداری کے ساتھ فرائض انجام دینے میں دشواری محسوس کررہے ہیں۔ ایک طرف وقف بورڈ کے ماتحت عملے کا عدم تعاون تو دوسری طرف سیاسی دبائو نے  کارکردگی میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ گزشتہ دنوں حکومت نے وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل شروع کیا ہے اور الیکشن آفیسر کی تلاش جاری ہے۔ مقامی سیاسی جماعت کے دبائو کے تحت حکومت نے وقف بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کیا اور اپنی حلیف جماعت کے من پسند افراد کو بورڈ میں شامل کرنے کے لئے بعض اہم فیصلے کئے گئے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے عہدیدار مجاز کے بعض فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے وقف ایکٹ کی دفع 26 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کیا اور حکومت کو حقیقی صورتحال سے واقف کرایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عہدیدار مجاز اور سکریٹری اقلیتی بہبود جیسے دونوں اہم عہدوں پر ایک ہی شخص فائز ہے اور وہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی کسی بھی دلیل یا اعتراض کو قبول کرنے تیار نہیں ہے۔ مقامی سیاسی جماعت کی سرپرست میں کام کرنے والے مذکورہ اعلی عہدیدار وقف بورڈ سے اہم فائلیں طلب کرتے ہوئے ان کی یکسوئی کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اپنے فیصلے سے ڈپٹی چیف منسٹر کو بھی آگاہ کردیا ہے اور جیسے ہی حکومت الیکشن آفیسر کے تقرر کے ذریعہ ووٹ کی تشکیل کا عمل شروع کرے گی محمد اسد اللہ اپنے متعلقہ محکمہ مال کو واپس ہوجائیں گے۔ گزشتہ دیڑھ برسوں میں محمد اسد اللہ نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے کئی اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اہم رول ادا کیا۔ شہر اور اضلاع کی کئی جائیدادوں میں سیاسی دبائو کو نظرانداز کرتے ہوئے انہوں نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق جائیدادوں کا تحفظ کیا۔ ان کی اصول پسندی اور دیانت داری سے خائف سیاسی قائدین انہیں اس عہدے پر دیکھنا نہیں چاہتے لہٰذا مختلف طریقوں سے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔ اگر عہدیدار کو اعلی عہدیداروں کی تائید حاصل نہ ہو تو پھر کوئی بھی شخص وقف بورڈ میں خدمات انجام نہیں دے سکتا۔

TOPPOPULARRECENT