Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاسی رسوخ والے ہوٹلوں پر پولیس کی نظر اندازی،غیر سیاسی تجارت اور ہوٹلوں کو بند کروانے پولیس پر الزامات

سیاسی رسوخ والے ہوٹلوں پر پولیس کی نظر اندازی،غیر سیاسی تجارت اور ہوٹلوں کو بند کروانے پولیس پر الزامات

حیدرآباد۔2اگسٹ(سیاست نیوز) پرانے شہر میں رات کے اوقات میں پولیس کی جانب سے تجارتی دکانات اور ہوٹلوں کو بند کروانے کے معاملات میں پولیس پر الزام عائد کئے جانے لگے ہیں کہ محکمہ پولیس کی جانب سے ان تجارتی اداروں اور ہوٹلوں کے ساتھ رعایت برتی جارہی جن کے مالکین کے سیاسی رسوخات ہیں یا محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں سے قریبی تعلقات ہیں۔ پرانے شہر میں رات کے اوقات میں تجارتی اداروں اور طعام خانو کو بند کروانے کے سلسلہ میں دکھائی جانے والی مستعدی کے متعلق محکمہ پولیس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رات 12بجے بازار بند کروائے جاتے ہیں اور 3بجے کے بعد تجارتی اداروں کو اپنے کاروبار کا از سر نو آغاز کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور نئے شہر کے علاقوں میں ایسا ہوتا بھی ہے کہ رات 1بجے کے قریب تجارتی اداروں کو بند کروایا جاتا ہے اور بند کروانے کے 2گھنٹے کے بعد انہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت حاصل ہوتی ہے اور نئے شہر کے کئی علاقوں بالخصوص ہائی ٹیک سٹی‘ مادھاپور ‘ پنجہ گٹہ ‘ سوماجی گوڑہ اور دلسکھ نگر کے علاقوں میں بیشتر ہوٹلوں میں صبح کی اولین ساعتوں میں تجارتی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں لیکن ساؤتھ زون میں رات 11بجے کے بعد سے پولیس کے سائرن اور ہنگامہ آرائی کے سبب دو گھنٹوں تک افراتفری کا عالم ہوتا ہے لیکن جن تجارتی مراکز یا ریستوراں کے مالکین کے تعلقات محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں سے ہیں یا ان کے سیاسی رسوخات ہیں ان مراکز کے قریب ایسی کو ئی افراتفری نہیں ہوتی بلکہ ان کے قریب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ پولیس کی نگرانی میں یہ کاروبار انجام دے رہے ہیں۔ ساؤتھ زون پولیس کی جانب سے چبوترہ مشن کے ذریعہ نوجوانوں کو رات میں آوارہ گردی سے روکنے کے اقدامات تو کئے جا رہے ہیں لیکن ان اقدامات سے کس حد تک فائدہ حاصل ہورہا ہے اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئے گی کہ محکمہ پولیس کی جانب سے ریستوراں اور تجارتی اداروں کو فراہم کی جانے والی ڈھیل اور نظرانداز کی پالیسی کے سبب صورتحال میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ پولیس کو بنیادی طور پر سب کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرتے ہوئے یا سب کو وقت مقررہ پر بند کروانا چاہئے یا سب کو تجارتیں کھلی رکھنے کی اجازت فراہم کرنی چاہئے ۔محکمہ پولیس اگر ارادہ کرے تو شہر میں امن و امان کی برقراری کو ممکن بنان سکتا ہے اور وقت مقررہ پر تمام تجارتی سرگرمیوں کو بند کرویا جا سکتا ہے لیکن نظر انداز کے رویہ سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ ایک ہی علاقہ میں بعض اداروں کی بالواسطہ مدد کی جا رہی ہے اور بعض اداروں کو بند کرواتے ہوئے کھلے رہنے والے اداروں کی مدد کی جا رہی ہے۔

 

اورینٹل اردو کالج میں ایم اے اردو
میں راست داخلے
حیدرآباد ۔ 2 ۔ اگست : ( پریس نوٹ ) : ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم اسوسی ایٹ پروفیسر اورینٹل اردو کالج کی اطلاع کے مطابق اورینٹل اردو کالج ( ملحقہ عثمانیہ یونیورسٹی ) میں عثمانیہ انٹرنس ، پری ڈگری کورس ، بی اے لینگویجس اور ایم اے لینگویجس میں داخلوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اس مرتبہ ایم اے ایل اردو میں براہ راست داخلے میرٹ کی بنیاد پر دئیے جارہے ہیں ۔ خواہش مند طلباء وطالبات اور ملازم پیشہ افراد داخلوں کے لیے کالج کے اوقات شام 5 تا 9 بجے ربط کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT