Saturday , April 29 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاسی سرپرستی کے کوآپریٹیو بینکس کی تحقیقات زیر غور ؟

سیاسی سرپرستی کے کوآپریٹیو بینکس کی تحقیقات زیر غور ؟

حیدرآباد۔15ڈسمبر(سیاست نیوز) غیر محسوب رقومات کو محسوب رقومات کے زمرے میں شامل کرنے کے لئے کی گئی کو آپریٹیو بینکو ںکی سازشوں کی اب تحقیقات ہوں گی! حکومت ہند پر مختلف گوشوں سے اس بات کا دباؤ ڈالا جانے لگا ہے کہ تمام کو آپریٹیو بینک کی نہیں تو کم از کم ان کو آپریٹیو بینکو ںکی تحقیقات کروائی جائیں جو سیاسی سرپرستی میں چلائے جا تے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے مہاراشٹرا میں ڈسٹرکٹ کریڈٹ کو آپریٹیو بینکو ںمیں 8نومبر کے اعلان کے اندرون 4یوم 5000کروڑ روپئے جمع کئے جانے کے بعد جو تحقیقات شروع کی گئی ہیں اس کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ کو آپریٹیو بینکو ںکا سیاسی قائدین نے اپنے دولت کے تحفظ کیلئے استعمال کیا ہے جس کی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ حکومت کو تفویض کردہ ایک رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ کو آپریٹیو بینک وہ بھی ایسے جو سیاسی سرپرستی کے حامل ہیں ان کے ذریعہ ناجائز طریقہ سے حاصل کردہ دولت کو بچانے کی تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور ان تدابیر میں سب سے اہم جو کاروائی کی گئی ہے اس کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ بینک انتظامیہ نے 8نومبر کے بعد پرانی تاریخ میں بھاری فکسڈ ڈپازٹ کی رقومات وصول کی ہیں جس کی تحقیقات کی جانی ناگزیر ہے۔ کو آپریٹیو بینکو ںکے قیام کا مقصد عوام کو سہولت پہنچانا ہوتا ہے لیکن ان بینکوں کے انتظامیہ پر اٹھائی جانے والی انگلیوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بظاہر ان بینکوں کے ذریعہ عوام کو برائے نام سہولت فرہم کی گئی لیکن بینکوں کے سرپرستوں کو بڑی راحت پہنچائی گئی ہے۔اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ کو آپریٹیو بینکوں کی جانب سے کمپیوٹر میں تواریخ کی تبدیلی کے ذریعہ کتنی رقومات فکسڈ ڈپازٹ کے طور پر جمع کی گئی ہیں اور کتنے ایسے کھاتے ہیں جو بے نامی کھولے گئے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ ایکسس بینک میں بے نامی و فرضی کھاتوں کے کھولے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی سرپرستی کے حامل کو آپریٹیو بینکوں میں بھی اس طرح کی سرگرمیوں کی انجام دہی کے خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے کیونکہ سیاسی سرپرستی کے حامل بینکوں کے انتظامیہ کا کنٹرول سیاستدان ہی رکھتے ہیں اور اسی طرح بیشتر سیاسی جماعتوں کے پاس فہرست رائے دہندگان اور آدھار کارڈ کی تفصیلات موجود ہیں جن کے غلط استعمال کی گنجائش سے بھی محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیدار انکار نہیں کر رہے ہیں۔کو آپریٹیو بینکوں میں ابتدائی ایام میں ہی بھاری رقمی تبدیلی اور ڈپازٹ کی اطلاعات کے بعد حکومت نے کو آپریٹیو بینکوں کے ذریعہ تبدیلی کے عمل کو مفقود کردیا جس کے فوری بعد ان بینکوں کی جانب سے پرانی تاریخ میں فکسڈ ڈپازٹ کروائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کی بنیاد پر تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔بینکوں میں موجود دیانتدار ملازمین و عہدیدار محکمہ انکم ٹیکس کے لئے کو آپریٹیو بینکوں میں ہوئی دھاندلیوں کے انکشاف کیلئے بہترین ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں جبکہ یہی دیانتدار ملازمین و عہدیدار انتظامیہ کیلئے درد سر بنتے جا رہے ہیں ۔انتظامیہ ان ملازمین و عہدیداروں کو شکوک کے دائرے میں رکھے ہوئے ہے لیکن محکمہ انکم ٹیکس ان عہدیداروں کے ذریعہ ہی جاری دھاندلیوں کے انکشاف کی راہ اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے اور وہ کو آپریٹیو بینک جو ان سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں انہیں ان حالات سے نکلنا ممکن نظر نہیں آرہا ہے ۔ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے کو آپریٹیو بینکوں میں جمع رقومات اور گذشتہ 3برسوں کے حسابات کا جائزہ لینے کے متعلق غور کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی کوآپریٹیو بینکوں کے کھاتوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان میں بھاری رقومات جمع کروائے جانے کے خدشات ہیں جن کے متعلق تحقیقات کی جائیں گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT