Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / سیاسی پارٹیوں کا طلاقِ ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم

سیاسی پارٹیوں کا طلاقِ ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم

مسلم خواتین اب ہندو خواتین کے مساوی ، اُن کے احترام اور وقار سے زندگی گذارنے کے حق کی توثیق ، مختلف قائدین کے بیانات
نئی دہلی ۔ 22 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی اور کانگریس نے آج سپریم کورٹ کے طلاقِ ثلاثہ پر فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ سپریم کورٹ نے طلاقِ ثلاثہ کو غیردستوری قرار دیا ہے ۔ سیاسی پارٹیوں نے کہاکہ یہ صنفی انصاف اور مساوات کی سمت ایک قدم ہے ۔ چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے اس مسئلہ پر فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اس پر جدید سماج میں فوری پیشرفت کرنی چاہئے ۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے خواہش کی کہ جلد از جلد اس مسئلہ پر قانون سازی کرے ۔ چوہان نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ ہم طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیںاور مرکزی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ جلد ہی اس مسئلے پر قانون مدون کرے۔ طلاقِ ثلاثہ جیسے مسئلے ذہنی اور سماجی ہراسانی ہیں ۔ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو جو عصری ہندوستانی سماج میں ترقی کرنے سے محروم ہیں ہراساں کیا جارہا ہے ۔ کانگریس قائد سلمان خورشید نے بھی فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے ، تاہم انھوں نے کہاکہ اس فیصلے کے پیچھے جو جواز ہے اُس کی اہمیت ہے ۔ جواز فیصلے کے مساوی اہمیت رکھتا ہے اور ہر ایک کو کسی نتیجے پر پہونچنے سے پہلے اس کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے بھی اسے ایک اچھا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم اُس کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔ یہ صنفی انصاف اور صنفی مساوات کی سمت اولین قدم ہے ۔ یہ خواتین کیلئے ایک اچھی علامت ہے۔

اس سوال پر کہ کیا حکومت جلد ہی ایک قانون وضع کرے گی ۔ مینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت قانون سازی پر غور کریگی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اصلاحات کے آغاز کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس نے ایک محتاط حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ طلاقِ ثلاثہ پر چھ ماہ تک امتناع عائد کیا گیا ہے اور پارلیمنٹ سے خواہش کی گئی ہے کہ اس کی تائید اور قانون سازی کرے ۔ سوامی نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ یہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو قریب کردے گا ۔ آج کا دن مسلم خواتین کے لئے ایک بڑا دن ہے ۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمیں خوشی ہے کہ ہندو اور مسلم دونوں خواتین اصلاحات کی تائید میں ہیں۔ مسلم خواتین کے لئے آج کا دن ایک بڑا دن ہے ۔ ہم اُن کے حوصلے کو سلام کرتے ہیں۔ اُن کی بے خوفی اور رکاوٹوں کی پرواہ نہ کرنے پر وہ حقیقی اصلاحات کی تائید کیلئے سلامی کی مستحق ہیں۔ ہمیں اُن کو سلام کرنا اور اُن کی تائید کرنا چاہئے ۔ بی جے پی کے ترجمان امن سنہا نے کہاکہ فیصلے سے نریندر مودی حکومت کے موقف کی توثیق ہوتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کے موقف کی توثیق کی ہے کہ طلاقِ ثلاثہ غیردستوری اور تعصب پر مبنی ہے ۔ انھوں نے وزیراعظم مودی کی یوم آزادی کے موقع پر تقریر کا حوالہ دیا ۔ سینئر ایڈوکیٹ نے کہاکہ وزیراعظم نے یہ مسئلہ خواتین کی حالت زار دیکھتے ہوئے ترقی پسند عمل کے لئے کیاہے ۔ آج اس کی توثیق ہوگئی ہے کہ یہ عمل غیردستوری ہے ۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت طلاقِ ثلاثہ کے مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بن رہی ہے ، اس لئے اُسے کروڑوں مسلم خواتین کے حق زندگی اور باوقار و باحترام زندگی کے لئے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

طلاقِ ثلاثہ :مختلف افراد کا ردعمل
ممبئی ۔ 22 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے مسلم قائدین سے اپیل کی کہ وہ طلاقِ ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرے اور اسے برادری کی خواتین کے محفوظ مستقبل کے لئے استعمال کریں۔ شیوسینا کے سینئر قائد رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ آج کسی کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’مذہب کے نقطۂ نظر ‘‘ سے نہیں دیکھنا چاہئے ۔ لکھنو سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت یوپی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی سیکولر بنیادیں مستحکم ہوں گی ۔ قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی اور لائق خیرمقدم ہے ۔ یہ مساوات اور مسلم خواتین کے ملک میں عزت نفس کے دور کا آغاز ہے ۔ حکومت یوپی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک سنگ میل ہے جس سے خواتین کو بااختیاری حاصل ہوگی اور ملک کی سیکولر بنیاد مستحکم ہوگی ۔ نامور قانون داں سولی سراب جی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ طلاقِ ثلاثہ غیردستوری ہے ۔ انھوں نے مسلم شوہروں سے کہاکہ اب وہ اپنی بیوی کو یہ طریقہ استعمال کرتے ہوئے طلاق نہیں دے سکیں گے ۔ سولی سوراب جی ہندوستان کے سابق سالیسٹر جنرل ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT