Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / سیاچن سے زندہ برآمد فوجی دہلی کے فوجی ہاسپٹل منتقل

سیاچن سے زندہ برآمد فوجی دہلی کے فوجی ہاسپٹل منتقل

وزیراعظم نے دواخانہ پہنچ کر عیادت کی، صدرجمہوریہ نے سیاچن کے دلیر فوجیوں کی ستائش کی
نئی دہلی ۔ 9 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) لانس نائیک ہنمنتپا کپڑ جو معجزاتی طور پر برف میں 6 دن تک دفن رہنے کے بعد زندہ دستیاب ہوا۔ بذریعہ طیارہ سیاچن گلیشیر سے فوجی تحقیقی ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔ اس کی حالت نازک لیکن مستحکم ہے۔ اس کے کئی معائنے کئے جارہے ہیں۔ قبل ازیں اسے فوج کے بیس کیمپ سیاچن گلیشیر کے پاس سے برآمد کیا گیا تھا اور ایک خصوصی فضائی ایمبولنس کے ذریعہ دہلی منتقل کیا گیا۔ اسے پالم ٹیکنیکل ایرپورٹ پر پہنچانے کے بعد بذریعہ ہیلی کاپٹر فوجی دواخانہ منتقل کیا گیا۔ کپڑ کرناٹک کا متوطن ہے اور وہ 25 فیٹ بلند برف میں 6 دن تک دفن رہا تھا۔ یہ مقام خط قبضہ کے قریب 19 ہزار 6 سو فیٹ کی بلندی پر ہے جہاں درجہ حرارت منفی 45 درجہ سلسیس تھا۔ دیگر 9 فوجی جو اس چوکی پر تعینات تھے، بشمول ایک جونیر کمیشنڈ آفیسر اور دیگر 8 مختلف رتبوں کے مدراس ریجمنٹ کے عہدیدار تھے، ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاحال 5 نعشیں برآمد کی جاچکی ہیں جن میں سے 4 کی شناخت ہوچکی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آج لانس نائیک ہنومنتپا کی ستائش کی جو 6 دن تک سیاچن گلیشیر پر برف کے زبردست تودے کے نیچے دفن رہنے کے باوجود زندہ رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیرمعمولی سپاہی ہے جس کی طاقت برداشت اور جذبہ کو شکست نہیںدی جاسکتی اور نہ اسے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ وہ فوجی ہاسپٹل پہنچے تھے تاکہ لانس نائیک کی خیریت دریافت کرسکیں۔

صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے سیاچن میں تعینات کرناٹک کے متوطن کپڑ کی دلیری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ 6د ن تک موت سے لڑتا رہا۔ 3 فبروری کو سیاچن گلیشیر پر ایک بڑا برف کا تودا فوجی چوکی پر گر پڑا تھا جس کے نیچے 10 فوجی دب گئے تھے ان میں سے ہنمنتپا واحد فوجی ہے جو زندہ دستیاب ہوا۔ باقی 9 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاحال 9 نعشیں درآمد کی جاچکی ہیں جن میں سے 4 کی شناخت ہوچکی ہے۔ دھارواڑ سے موصولہ اطلاع کے بموجب ہنومنتپا کے ارکان خاندان نے کہا کہ یہ ہنومنتپا کا دوسرا جنم ہے ۔ اس کی بیوی مہادیوی نے کہا کہ ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے ہم سب نے آج نیا جنم لیا ہے۔ ہنومنتپا کپڑ کے زندہ بچ جانے پر پورے خاندان نے اطمینان کی سانس لی ۔ اس کی بیوی مہا دیوی نے جو کرناٹک کے دیہات بیٹاڈور میں مقیم ہے، کہا کہ میرے شوہر کی دادی نے ہنومنتپا کی زندگی کی امید دلا کر میرا حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ ان کی دعاؤں کی وجہ سے ہنومنتپا سیاچن میں یقینی موت سے بچ گیا ہے۔ یہ ہم سب کیلئے نئے جنم کے مترادف ہے۔ ہنومنتپا کرناٹک کا متوطن تھا جسے کل 25 فٹ بلند برف کے نیچے سے زندہ برآمد کیا گیا جبکہ وہ اس کے نیچے گذشتہ 6 دن سے دفن تھا۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے 19 ہزار 600 فٹ بلند ہے جہاں کا درجہ حرارت منفی 45 درجہ سیلسیس ہے۔ ہنمومنتپا کے چچازاد بھائی ایشور نے وزیراعظم نریندر مودی کی ستائش کی جنہوں نے فوجی ہاسپٹل پہنچ کر ان کے بھائی کی خیریت دریافت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT