Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / سیاہنامہ کے مرتب کون ہے ؟

سیاہنامہ کے مرتب کون ہے ؟

مرسل : ابوزہیرنظامی

قضاء ت کا منصب تاریخ اسلام میں بہت ارفع واعلیٰ ہے ، جس کی ابتداء خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہوئی خلفائے راشدین بھی اس خدمت کو انجام دیتے رہے قاضی کی ذات راعی سے رعایا تک ان کے اعمال میں انصاف کے ترازو کی حیثیت رکھتی تھی اس لئے قاضی کے لئے ضروری تھا کہ وہ نہایت متقی پر ہیزگار، صاحب وقار ، راستباز ، دیانت دار، ذکی ، فہیم ، سنجید ہ مزاج ، قانون داں ہونے کے ساتھ ساتھ رعایا کے مذہب اورقومی رسم ورواج سے بھی واقف ہو۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے قاضی کے لئے سودرہم مشاہرہ مقرر فرمایا تھا اور بعد میں اس میں اضافہ بھی ہوتارہا، قضاء ت کے اس منصب کا سلسلہ حضرت شیخ الاسلام مولانا انواراللہ فاروقیؒ کے والدمولانا قاضی حافظ ابو محمدشجاع الدین تک پہنچتا ہے اور ان سے ان کے چھوٹے برادر مولانا قاضی محمد امیراللہ فاروقیؒ کے خاندان میں یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مولانا انواراللہ فاروقیؒ ناظم امور مذہبی اور صدرالصدور کے منصب پر فائزہوئے اور انہوںنے قاضیوں کو شاہی ملازمین میں شمار کرنے کی تجویزپیش کی جس کی قبولیت پر شاہی فرمان جاری کردیاگیا، اس ضمن میں مولانا قطب معین الدین انصاری لکھتے ہیں۔ چنداقتباسات پیش خدمت ہیں:
٭(حضرت شیخ الاسلام )کی توجہ پر عدالت العالیہ نے قانوناً قاضی صاحب کا شمارملازمین شاہی میں کرنے ، مراعات ملازمان شاہی سے استفادہ کرنے ذریعہ احکام جاری کئے۔ اس طرح حضرت شیخ الاسلام کی تجویزپر قاضی صاحبان کو صاحب دفتر اور دفاتر قضاء ت کو باضابطہ سرکاری دفاتر قراردیاگیا۔
٭پیامات نکاح کے تحفظ کے سلسلے میں حضرت شیخ الاسلام نے باضابطہ جو نظام قضاء ت قائم فرمایا مولانا قطب معین الدین انصاری کے بقول سارے ملک میں ان کا یہ منفرد کارنامہ ہے۔
٭حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ سیاہہ نامے کے موجدہیں ، انہوںنے جو سیاہہ جات مرتب کروائے ان میں، ایجاب وقبول ، شہادت مقدار مہر وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے اس سے قبل یہ تمام امور زبانی ہوا کرتے تھے ۔ اس قضاء ت کے نظام کو مولانا نے صدارت العالیہ سے متعلق فرماکر اس کے ذمے آپ نے ، اصلاح مسلمانان ، انتظام سیاہہ جات نکاح او رتنقیح خدمات شرعیہ کاکام بھی تفویض فرمایا ، اور عدالت العالیہ کو پابند کیاگیا کہ مقدمہ طلاق وغیرہ پیش ہوتو صدارت العالیہ کو تاریخ طلاق سے آگاہ کیاجائے تاکہ عدت کے اختتام پر احکام شریعت کے مطابق نکاح ثانی کیاجاسکے۔
٭  حضرت شیخ الاسلام کی ان کاوشوںکا نتیجہ ہے کہ آج بھی یہ سیاہہ نامے ہر ملک کی عدالتوں میں قبول کئے جاتے ہیں۔
٭ ’’محسن علم دین حضرت فضیلت جنگ علیہ الرحمہ (مولانا محمدانوار اللہ فاروقیؒ )کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ سرزمین دکن میں محکمہ قضاء ت کاقیام عمل میں آیا جس کے تحت ہر نکاح مسعودپر تحریری دستاویز کانظم قائم ہے یہ امرلائق تحسین ہے کہ قاضی صاحبان کے جاری کردہ سیاہہ نامے ملک وبیرون ملک کی عدالتوں میں قابل قبول ہیں ۔‘‘

٭ آج سے ایک صدی قبل سیاہہ نامہ کا تصور اور اس کا نفاذ حضرت شیخ الاسلام کا ایسا کارنامہ ہے جس کا اعتراف دیوبند کے عالم دین نے ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’ہندستان کے بعض علاقوں میں ’’نکاح نامہ‘‘ کارواج بہت خوب ہے اور شریعت کے مزاج اور منشا کے موافق ہے ، یوں تو مختلف شہروں میں نکاح نامے مروّج ہیں لیکن دکن اور بھوپال کے علاقہ میں قریب ترین عہد تک مسلم حکومت کے موجود ہونے کی وجہ سے نکاح خوانی کا نسبتاً بہتررواج پایاجاتاہے بھوپال کا نکاح نامہ تو دیکھنے کا موقع نہیں ملا، لیکن دکن میں مروّج نکاح نامہ بہت جامع ، منضبط اور شرعی قیودو تنقیحات کی روشنی میں مرتب کردہ ہے جسے حـضرت مولانا انوار اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (بانی جامعہ نظامیہ )نے اپنی نگرانی میں مرتب کرایا تھا ‘‘۔
(از: مرقع انوار، مرتب مولانا محمد فصیح الدین نظامی)

TOPPOPULARRECENT