Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / سیدنا امام جعفر صادقؓ ،اقوال وارشادات

سیدنا امام جعفر صادقؓ ،اقوال وارشادات

مولانا حافظ محمدمجیب خان نقشبندی
٭ اللہ تعالیٰ نے دنیا سے ارشاد فرمایا (کہ اے دنیا) تو اُس کی خادم بن جا جو میرا خادم اور فرمانبردار ہے اورتو اُسکو تھکادے جو تیری خدمت میں لگا رہتا ہے۔یعنی دنیا کے طلبگار کو ہرگزدنیا نہیں ملتی ہے جب کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندے کی نوکر وخادم بن کراسکے قدموں میں گرتی ہے۔
٭ نماز‘ہر متقی کیلئے رب سے قربت کا ذریعہ ہے حج‘ ہر کمزور کا جہاد ہے‘ تدبیر‘ آدھی زندگی ہے اور محبت آدھی عقل ہے۔
٭ چار چیزیں ایسی ہیں جو تھو ڑی بھی ہوں تو بہت ہیں آگ ‘دشمنی‘ محتاجی‘اور بیماری ۔مذکورہ فرمان اتنا مفید تر ہے کہ واقعی قبل از وقت ‘ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے والا شخص ہی آگ ‘ دشمنی ‘ محتاجی اور بیماری کے نقصانات سے بچ سکتا ہے ۔
٭ اپنے بھائیوں اور دوستوں سے اچھا سلوک کرنا شیطانی کاموں کا کفارہ ہے۔ معلوم ہوا کہ جب بندے سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجائے جو شیطان کا طریقہ ہے تو اُس کا کفارہ یہ ہے کہ اپنے دوست واحباب اور برادران کیساتھ حسن سلوک کرے ۔
٭ بیٹیاں ‘نیکیاں ہیں اور بیٹے ‘نعمتیں ہیں (یادر ہے )کہ نیکیوں پر ثواب دیاجا تا ہے اور نعمتوں کا حساب لیا جا تا ہے ۔
امام بر حق‘ امام جعفر صادق نے اپنے اس قول میں اتنی پیاری بات فرمائی کہ جس سے لڑکوں اور لڑکیوں کے حوالے سے پائے جانیوالے غلط افکار کا علاج ہوجاتا ہے ‘وہ یہ کہ آپ نے سب سے پہلے لڑکیوں اور بیٹیوں کو‘ نیکیاں فرمایا ‘جن پر ثواب دیاجا تا ہے جیساکہ ارشادِ خدا وندی ہے مَنْ جَاء بِالْحََسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ اَمْثَالِھَا (ترجمہ جو شخص ایک نیکی کرے گا تو دس گنا ثواب دیا جائے گا) مگر آپ نے لڑکوں اور بیٹوں کو نعمتوں کے نام سے موسوم کیا اور نعمتوں پر اجر نہیں دیا جاتا بلکہ نعمتوں کا حساب وکتاب لیا جاتا ہے اور نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے کہ تم نے نعمتوں کا حق کیسے ادا کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمْ(پھر تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائیگا)۔
٭ تقوی سے بہتر کوئی توشہ نہیں ہے خاموشی سے اچھی کوئی چیز نہیں ہے‘ جہالت سے زیادہ کوئی دشمن‘ نقصاندہ نہیں ہے اور جھوٹ سے بڑھکر کوئی بیماری نہیں ہے ۔
… جاری ہے

TOPPOPULARRECENT