Tuesday , September 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / سیدنا حبیب عیدروس بن حسین العیدروسؒ کی علمی شان و مرتبت

سیدنا حبیب عیدروس بن حسین العیدروسؒ کی علمی شان و مرتبت

سیدنا حبیب عیدروس بن حسین العیدروسؒ کی عمر طویل جہاں قبل از ولادت ہی کرامات و انعامات سے مزین تھی وہیں آپؒ کی ذاتِ گرامی علم و عمل کی بحرِ زخار اور سنتِ نبویﷺ کی آئنہ دار تھی ۔ آپ ؒ کی زندگی کا ایک عظیم ترین حصہ حصولِ علم و فن میں گزارا جس کی چاشنی سے عالمِ ہست و بود نے سیرابی حاصل کی اور آج تک کررہا ہے ۔ آپؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت سے لے کر ظاہر و باطن کی نشوونما کا اولین مرکز آپؒ کے والدِ ماجد قطب زماں حبیب حسین بن احمد العیدروسؒ ہیں جن کی صحبتوں نے آپؒ کو نکھار سنوارکر ایسا خورشید عالم بنایا جس کی چمک سے دنیا آج تک استفادہ فرمارہی ہے ۔ والد بزرگوار کے علاوہ قرآن کے ابتدائی قواعد سے لیکر قرأت قرآن اور حفظ قرآن تک کی تعلیم آپؒ نے شیخ محمد بن عوض باصہبیؒ سے حاصل کی اور ساتھ ہی دوسرے طلباء سے کتاب فتح الرحمن اور رسالۃ ریاضۃ الصبیان صرف پڑھتا ہوا سن کر ہی یاد فرمالیا۔ بعد فراغت حفظ حضرموت کے شہر ’’الشام‘‘ روانہ ہوئے اور العلامہ شیخ عبداﷲ بن ابوبکر بایوسفؒ کے پاس حصول علم میں مصروف ہوئے اور المختصر اللطیف ، ملحۃ الإعراب ، الآجرومیۃ ، المختصر الکبیر فی الفقہ ، الزبد لابن الرسلان ، ابوشجاعؒ کی المختصر ، الفقیہ فی النحو وغیرہ جیسی مختلف فنون پر موجودہ کتابوں کو سبقاً از ابتداء تا انتہاء اُس وقت پڑھاجبکہ حبیب عیدروسؒ کی عمر ابھی سنِ تمیز کو بھی نہیں پہونچی تھی۔ جب آپؒ بشرالشام سے ان تمام کتب کی کامل تدریس و تفہیم کے بعد اپنے وطن ’’الحزم ‘‘ واپس آئے تو کچھ دن قیام کے بعد ہی والدِ محترم نے آپؒ کو ملک لبنان کے شہر ’’الخربیۃ ‘‘ شیخ محمد بن عبداﷲ باسودانؒ کے پاس بھیجا اور وہ مذکورۂ بالا کتب کا ابتداء سے انتہاء تک اعادہ کروایا اور یہاں دس ماہ کی مدت آپؒزیرتعلیم رہے۔ بعد ازاں والد محترم نے یاد فرمایا اور اپنے وطن واپس آئے اور اپنے والد کے چچازاد بھائی العلامہ حبیب عیدروس بن علیؒ کے پاس زیرتعلیم رہے اور یہاں پر جو کچھ کتابیں ماضی میں آپؒ پڑھ چکے تھے ، انہی کتب کا تین مرتبہ اوّل تا آخر اعادہ فرمایا ۔ پھر حبیب عیدروسؒ کو ان کے چچا زاد بھائیوں کے ہمراہ العلامہ الشیخ المحدث حبیب محمد بن علی بن علوی السقاف کے پاس بھیجا گیا جہاں کتب سابقہ کا پھر ایک مرتبہ اعادہ کروایا گیا اور کتاب بشری الکریم ، ابن حجر کی التحفۃ وغیرہ اور حدیث میں بخاری و مسلم المنتقی ، الجامع الصغیر ، سنن ابوداؤد ، سنن بیہقی ، مسند امام شافعیؒ وغیرہ ابتداء تا انتہاء معہ تفہیم ، ازالۂ شبہات ، حلِ مسائل کے ساتھ پڑھیں اور ہر رات دروسِ فقہ و حدیث کے بعد امام غزالیؒ کی کتاب احیاء العلوم کا بھی درس ہوا کرتا جو دیگر کتابوں کے ساتھ ہی اختتام کو پہونچا اور اس کے ساتھ ہی دلائل الخیرات ، راتب العیدروس ، الحداد ، العطاس ، حبیب ابوبکر العدنی ، حبیب شیخ بن عبداﷲ ، شیخ احمد بن علوان ، شیخ ابوبکر بن سلم ، شیخ حسین بن ابوبکر اور حبیب حسین بن طاہر کے اوراد ، اذکار اور حزوب ورد فرمایا کرتے تھے ۔
حبیب عیدروسؒ نے اپنی زـندگی میں سیدی القطب حبیب عمر بن محمد بن سمیطؒ کے دروس کو ترک نہیں فرمایا اور ان کے پاس آپؒ نے امام الحداد کا  رسالۃ المعاونۃ ، حبیب احمد بن حسین العیدروس کی کتاب ارشاد المریدین کا بھی سبق لیا ۔ مزید آپؒ نے اپنے والد حبیب حسین بن احمد العیدروس کے پاس کتاب احیاء العلوم کے علاوہ امام غزالیؒ کی تمام کتاب کو آغاز سے انجام تک پڑھا اور سمجھا اور والد ہی کے پاس بنحبۃ الإحیاء ، تعریف الإحیاء ، فی فضائل الإحیاء کے ساتھ مختلف کتبِ عقائد کا بھی درس حاصل فرمایا اور کتاب قوت القلوب ، الجواھر الشفاف ، کتاب العقد النبوی بھی پڑھی ۔ پھر سیدنا العیدروس الأکبر ، شیخ علی بن ابوبکر السکران اور شیخ ابوبکر بن سالم کی وصایا بھی قرأت فرمائی نیز کتاب المشرع الروی ، ایصاح اسرار علوم المقربین بھی اپنے والد کے پاس درساً پڑھی۔ بلکہ ایک مقام پر حبیب عیدروسؒ خود فرماتے ہیں کہ مشائخین صوفیہ کی کتاب میں ایسی کوئی کتاب نہ تھی جس کو میں نے اپنے والدِ محترم کے پاس پڑھا اور سمجھا نہ ہو۔
ان تعلیمات اور علم کا ہی نتیجہ ہے کہ حبیب عیدروسؒ نے ایسی  گراں قدر تصنیفات و تالیفات فرمائیں جو علم تصوف میں گہر نایاب ہیں ۔ آپؒ تصنیف و تالیف کا بہت ذوق رکھتے تھے ۔ آپؒ کی تصنیفات میں چند آئمہ حدیث کی کتب کی مختصر شروحات ، رواتب و اذکار پرمحمول کتب ، مشائخ سلسلہ عیدروسیہ کے مناقب و اقوال اور تعلیمات پر شمائلِ مصطفی ﷺ اور سیرت و مدحت پر اور دیگر مختلف مضامین پر مشتمل ہیں۔ علاوہ اس کے آپؒ نے کئی رسائل کی بھی شرح فرمائی اور سیدنا ھود علیہ السلام کی مزار مبارک کی تحقیق و فضاء پر کتاب تصنیف فرمائی اور مزید (۱۷) مجامع اور تالیفات ہیں جو نہایت مفید ہیں۔
حبیب عیدروسؒ اپنے اکثر اوقات میں کتب کے مطالعہ ہی میں مشغول رہتے اور ان سے اسرار و رموز یا فقہی مسائل کے دقائق کو آسان کر بیان فرماتے ۔ آپ کے علمی سفر کا احاطہ ہرچند کے مکمل طورپر یہاں پورا بیان نہ کیا جاسکا لیکن ان کی علمی مرتبت و شان و عظمت کا ایک پہلو قارئین کی نذر کیا گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ سیدی حبیب عیدروسؒ کی ظاہری و باطنی قوت سے مستفیض فرمائے اور آپؒ کے اسرار و انوار کی خیرات عطا فرمائے ۔  آمین بجاہ سیدالمرسلین و آلہٖ الطیبین
(ابن سعید بن حسین العیدروس )

TOPPOPULARRECENT