Saturday , July 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

محمد قیام الدین انصاری کوثرؔ
سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا اور رضاعی (دودھ شریک) بھائی تھے۔ آپ عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف دو سال بڑے تھے، لیکن بے حد دلیر اور جرأت مند واقع ہوئے تھے۔ اس زمانے میں جب کہ مسلمانوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی اور وہ اپنے ایمان کا اعلان بھی نہیں کرسکتے تھے، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دائرۂ اسلامیں شامل ہونے کی بدولت اسلام کو بے حد تقویت حاصل ہوئی تھی۔ حضرت حمزہ؄ بچپن ہی سے بہادری اور دلیری کے کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے، چنانچہ آپ اس زمانے میں شمشیرزنی، تیراندازی اور پہلوانی کی طرف مائل تھے اور ان کا بیشتر وقت سیر و شکار میں گزرتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی گھاٹیوں میں توحید کی دعوت دینا شروع کردی تھی، لیکن حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ان مشاغل نے انھیں کبھی اس دعوت پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ آپ نے اسلام کے بارے میں جو کچھ بھی سنا، اس سے بے حد متاثر ہوئے۔ ایک روز شکار سے واپس آرہے تھے کہ ایک باندی نے انھیں بتایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے، تو ابوجہل نے انھیں بہت برا بھلا کہا اور بہت زیادہ ستایا، لیکن آنحضرتﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ واقعہ سن کر حضرت حمزہ؄ کی رگ حمیت میں جوش آگیا اور وہ سیدھے خانہ کعبہ پہنچے اور ابوجہل کے سرپر اس زور سے اپنی کمان ماری کہ وہ زخمی ہو گیا۔ یہ دیکھ کر کچھ لوگ ابوجہل کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور پوچھا ’’اے حمزہ! کیا تم بھی اپنا مذہب چھوڑچکے ہو؟‘‘۔ حضرت حمزہ؄ نے جواب میں فرمایا ’’جب مجھ پر حقانیت ظاہر ہو گئی تو مجھے کونسی چیز اس سے باز رکھ سکتی ہے؟۔ ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں سب سچ ہے۔ خدا کی قسم! اب میں اس سے پھر نہیں سکتا، اگر تم سچے ہو تو مجھے روک کر دیکھ لو‘‘۔ یہ صورت دیکھ کر ابوجہل نے اپنے مددگاروں سے کہا ’’انھیں چھوڑدو‘‘۔
اس زمانے میں اول تو مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور دوسرے وہ بہت کمزور تھے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے حضرت ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان میں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام انجام دے رہے تھے۔ اس دور کے مسلمانوں میں علانیہ عبادت کرنے کی جرأت نہیں تھی، لیکن چوں کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شجاعت اور جانبازی سارے مکہ میں مشہور تھی، اس لئے ان کے جوش اسلام کی وجہ سے صورت حال بالکل بدل گئی اور مسلمان، کفار و مشرکین کی دست درازیوں سے محفوظ ہو گئے۔اسلام لانے سے قبل حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی شمشیر بکف دار ارقم پر دستک دی تھی۔ اس وقت حضرت حمزہ؄ بھی وہاں موجود تھے۔ حضرت عمر کی حالت دیکھ کر آپ نے کہا تھا کہ ’’کچھ مضائقہ نہیں آنے دو، اگر مخلصانہ آرہے ہیں تو بہتر، ورنہ ان کی ہی تلوار سے ان کا سر قلم کردوں گا‘‘۔
دوسرے مسلمانوں کی طرح حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے اور غزوہ احد میں جام شہادت نوش فرمانے تک آپ نے تمام غزوات میں اپنی شجاعت اور بے جگری کے جوہر دکھائے تھے۔ ہجرت کے بعد آنحضرتﷺ نے پہلا اسلامی پرچم مرحمت فرماکر تیس جانبازوں کے ساتھ حضرت حمزہ؄ کو ساحلی علاقہ میں قریشی قافلوں کی مزاحمت کے لئے روانہ فرمایا تھا اور وہاں ان کی مڈبھیڑ ابوجہل کے اس قافلہ کے ساتھ ہوئی جو تین سو سواروں پر مشتمل تھا، لیکن ایک شخص کے بیچ بچاؤ کے باعث جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ اسی سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی نقل و حرکت روکنے کے لئے ساٹھ صحابہ کرام کی معیت میں ابوا پر لشکر کشی فرمائی تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو علمبردار اور سپہ سالار مقرر فرمایا، لیکن لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔ پھر اسی سال جب غزوہ بدر پیش آیا تو حضرت حمزہ؄ کے ہاتھوں دشمن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔
سنہ ۳ھ میں جب جنگ احد ہوئی تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اس جوش اور بے جگری کے ساتھ لڑے کہ تنہا تیس کافروں کو واصل جہنم کیا۔ چوں کہ انھوں نے غزوۂ بدر میں کفار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تھا اور پھر غزوہ احد میں بھی ان کی شجاعت و بہادری نے دشمنوں کو ہراساں کردیا تھا، اس لئے مشرکین ان کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ جنگ بدر میں مشرکین کے ایک سردار طعیمہ بن عدی، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا تھا، لہذا اس کے بھتیجہ مطعم نے اپنے غلام وحشی کو حضرت حمزہ؄ کے قتل پر آمادہ کیا۔ وحشی ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا۔ جس وقت حضرت حمزہ؄ اس کے قریب سے گزرے تو اس نے اپنا نیزہ اتنی قوت کے ساتھ پھینکا کہ آپ زخمی ہوکر شہید ہو گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT