Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق گرفتار

سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق گرفتار

سرینگر ، 13جولائی (سیاست ڈاٹ کام)  وادی کشمیر میں بدھ کو حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی اور میرواعظ مولوی عمر فاروق کو اُس وقت حراست میں لے لیا گیا جب انہوں نے اپنی خانہ نظربندی توڑتے ہوئے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے ڈاؤن ٹاون میں واقع مزار شہداء کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ خیال رہے کہ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہوں اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے حزب المجاہدین کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی موت کو 13جولائی 1931ء کے شہداء کا تسلسل قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ 13جولائی کو یوم تجدید عہد کے طور منایا جائے گا اور اس دن تینوں رہنما بالترتیب حیدرپورہ، جامع مسجد نوہٹہ اور مائسمہ سے مارچ شروع کرکے مزارشہداء واقع نقشبند صاحب ؒپر جمع ہوجائیں گے ، جہاں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا جائے گا اور لوگ یک زبان ہوکر جموں کشمیر میں رائے شماری کرانے کا دیرینہ مطالبہ دہرائیں گے ۔ فرنٹ چیئرمین یاسین ملک 9 جولائی کی رات سے پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں مقید ہیں۔ حریت کانفرنس (گ) کے ایک ترجمان نے کہا کہ مسٹر گیلانی آج مجوزہ پروگرام جس میں 13جولائی 1931ء کے شہداء، برہان وانی اور دیگر شہدائے کشمیر کے حوالے سے مزارِ شہدائِ نقشبند صاحب پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہونے والا تھا میں شرکت کی غرض سے جونہی اپنے دیگر ساتھیوں جن میں ان کے پرسنل سیکریٹری پیر سیف اللہ، معاون سیکریٹری آفس عبدالحمید ماگرے ، سیکریٹری لیگل ایڈ محمد سعید، سید امتیاز حیدر، نثار احمد بٹ، ارشد احمد وانی، محمد عمر، الطاف احمد، ظہور احمد بیگ، فیاض احمداور دیگر کارکنان شامل تھے تو پولیس نے انہیں ائیرپورٹ روڑ پر گرفتار کرکے ہمہامہ پولیس تھانے میں بند کردیا۔

حریت کانفرنس (ع) کے ترجمان نے کہا کہ میرواعظ جنہیں مسلسل 5 روز سے اپنی رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا تھا، نظربندی اور پولیس گھراؤ کو ٹوڑنے کی کوشش کی فورسز اور پولیس کے ساتھ شدید مزاحمت کے بعد مکان کے گیٹ کے اوپر سے اپنے چند حامیوں کے ہمراہ اسلام اور آزادی ، سرکاری دہشت گردی بندکرو، کشمیریوں کا قتل عام بند کرو، ریاستی دہشتگردی بند کرو اور ہم کیا چاہتے آزادی کے نعروں کے بیچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے جنہیں موقعے پر موجود پولیس اور فورسز کی بھاری جمعیت نے انہیں گرفتار کر کے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے ۔ گرفتاری کے دوران میرواعظ نے حالیہ کاروائیوں کے نتیجے میں تین درجن سے زیادہ نہتے کشمیریوں کو جاں بحق کرنے ، سینکڑوں افراد کو شدید زخمی اور ناکارہ بنادینے کے دلخراش واقعات پر سخت برہمی اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی دہشتگری اور ظلم و بربریت کی ایک بار پھر شدید مذمت کی اور اس طرح کے ظلم وتشدد اور قتل و غارت گیری کو ناقابل برداشت قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT