Monday , August 21 2017
Home / سیاسیات / سیمانچل میں کامیابی کیلئے مسلم ووٹوں کی تقسیم پر بی جے پی کا انحصار

سیمانچل میں کامیابی کیلئے مسلم ووٹوں کی تقسیم پر بی جے پی کا انحصار

کشن گنج کی پاش ہوٹل مجلس کے کیمپ بیس میں تبدیل، مسلم ووٹرس تقسیم روکنے کیلئے کوشاں، بی جے پی کے مسلم امیدواراپنے ہی قائدین کی اشتعال انگیزی سے پریشان
کشن گنج / پورنیا۔ 4 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلہ کے تحت مسلمانوں کی غالب آبادی والے علاقہ سیمانچل میں 5 نومبر جمعرات کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جہاں جے ڈی (یو) ، آر جے ڈی اور کانگریس پر مشتمل عظیم سیکولر اتحاد کو مسلمانوں اور دلتوں کی خاطر خواہ تائید حاصل ہے وہیں بی جے پی قائدین کی امید ہے کہ سیکولر اتحاد اور حیدرآباد کی جماعت اے آئی ایم آئی ایم (مجلس) کے درمیان دونوں کی تقسیم سے بعض حلقوں میں بی جے پی کے امیدواروں کی کامیاب میں مدد ملے گی ۔ مجلس سیمانچل کے چھ حلقوں میں مقابلہ کر رہی ہے۔ اس کے پانچ امیدوار مسلم ہیںاور حلقہ رانی گنج سے ایک دلت امیت پاسوان کو اس نے اپنا امیدوار بنایا ہے ۔ قبل ازیں مجلس نے بہار کے 26 حلقوں سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن مقامی مسلمانوںکی خاطر خواہ تائیدحاصل نہ ہونے پر سیمانچل سے صرف چھ نشستوں پر مقابلہ پر اکتفا کیا گیا ۔ مجلس کے صدر اسدالدین اویسی اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلانے کیلئے کشن گنج کی ایک پاش ہوٹل کواپنا کیمپ بیس بنلیا ہے جہاں سے ’مہم‘ کی نگرانی کی جارہی ہے ۔ صدر مجلس کے چھوٹے بھائی اور تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے بھی ابتداء میں چند جلسوں سے خطاب کیا تھا لیکن اس شعلہ بیان مقرر کے خلاف مقامی حکام نے مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا تھا جس کے بعد ا کبر اویسی انتخابی مہم سے غائب ہوگئے تھے اور اسد اویسی تنہا یہ مہم جاری رکھے ہوئے تھے لیکن مہم کے آخری مرحلہ میں ’ایمرجنسی‘ وجہ بتاتے ہوئے انتخابی جلسہ سے خطاب کرنے نہیں پہونچ سکے۔ بی جے پی اپنے چند امیدواروں کی کامیابی کیلئے مجلس اور سیکولر اتحاد میں ووٹوں کی تقسیم پر انحصار کر رہی ہے لیکن مجلس کے بارے میں مقامی رائے دہندوں کا موڈ کچھ اور ہے ۔

ایک شخص حاجی نے کہا کہ ’’اس مرتبہ ہم صرف انہیں ( اسد اویسی کو) دیکھیں گے۔ انہیں اپنا خلوص اور جذبہ ثابت کرنے کیلئے مزید وقت درکار ہوگا‘‘ بی جے پی نہ صرف مجلس اور جے ڈی (یو) کے درمیان ووٹوں کی تقسیم پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے بلکہ مسلمانوں کے مختلف طبقات میں بھی پھوٹ ڈالتے ہوئے اپنے دو مسلم امیدواروں کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ پورنیا کے حلقہ آمور میں بی جے پی کے میا ظفر کو مجلس کے نواز الدین عالم اور کانگریس کے جلیل مستان سے مقابلہ ہے ۔ میاظفر نے 2010 ء میں جے ڈی (یو) کے ٹکٹ پر اس حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ کشن گنج  کے حلقہ اسمبلی کوچہ دھامن سے بی جے پی نے عبدالرحمن کو اپنا امیدوار بنایا ہے ، جنہیں جے ڈی (یو) کے محمد مجاہد عالم اور مجلس کے اختر الایمان سے مقابلہ ہے ۔ جے ڈی (یو) اور مجلس کے امیدوار سرجا پوری مسلمان ہیں جبکہ بی جے پی کے عبدالرحمن کا تعلق شیر شاہ بادی مسلم طبقہ سے ہے۔ اس حلقہ میں سرجا پوری مسلمانوں کی تعداد 1.25 ہے اور شیر شاہ بادی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد 40,000 ہے اور 10,000 ہندو ووٹس بھی ہیں ۔ بی جے پی کے یہ دونوں امیدوار اپنی پارٹی کے بعض قائدین کے مخالف مسلم اشتعال انگیز بیانات سے پریشان ہیں۔ صبا ظفر نے کہا کہ وہ جو بھی ووٹ لیں گے یہ ان کی شخصی مقبولیت پر حاصل ہوں گے اور بی جے پی کے نام پر انہیں ووٹ نہیں مل سکتے ۔ اس طرح بی جے پی کے یہ دونوں مسلم امیدوار اپنی کامیابی کیلئے سخت جدوجہد میں مصروف ہیں۔ سیمانچل کے اکثر مسلمانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مرتبہ اسمبلی انتخابات میں فیصلہ کرنا کافی دشوار ہے اور وہ کسی بھی صورت اپنے ووٹ تقسیم ہونے نہیں دے گے کیونکہ ووٹوں کی تقسیم کا راست فائدہ بی جے پی کو ہی ہوسکتا ہے۔

 

متھرا پنچایت انتخابات، بڑے قائدین کو دھکا
متھرا۔ 3 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مختلف سیاسی پارٹیوں کے نامور سیاست دانوں کو پنچایت انتخابات کے نتائج سے زبردست دھکا لگا ۔ بی ایس پی جس نے 38 میں سے 12 نشستیں حاصل کی تھیں۔ موجودہ رکن اسمبلی کی پنچایت انتخابات میں شرمناک شکست کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ بی جے پی کے لئے پنچایت انتخابات کو بھی اپنی توہین برداشت کرنی پڑی جو مودی لہرکے سہارے آئندہ اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کا خواب دیکھ رہی تھیں۔ بی جے پی کے امیدوارہرکیش الیکشن ہار گئے ۔ کسی طرح بی جے وائی ایم کے صدر ستیہ پال چودھری بھی ناکام رہے۔ سماج وادی پارٹی کیلئے بھی انتخابات ملے جلے ثابت ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT