Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / سیمی انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کرانے چیف منسٹر مدھیہ پردیش کا اعلان

سیمی انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کرانے چیف منسٹر مدھیہ پردیش کا اعلان

بھوپال ۔ /4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت مدھیہ پردیش نے سیمی کے آٹھ کارکنوں کے سنسنی خیز انداز میں جیل توڑ کر فرار ہونے اور پھر مبینہ پولیس انکاؤنٹر میں ان کی ہلاکت کے چند دن گزرنے کے بعد اس ضمن میں اپوزیشن کے مسلسل مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے بالآخر اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا آج حکم دے دیا ہے ۔ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے ان تحقیقات کا حکم دیا جو ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج ، جسٹس ایس کے پانڈے کریں گے ۔ حکومت کی جانب سے کل رات دیر گئے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’جسٹس پانڈے ان تمام پہلوؤں کی تحقیقات کریں گے کہ سیمی کے کارکن قیدی سخت سکیورٹی انتظامات کی حامل اس جیل سے آخر کس طرح فرارہوئے اور اس کے بعد کس طرح انکاؤنٹر ہوا تھا ‘‘ ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ انکاونٹر کے دوران بات چیت پر مبنی ایک متنازعہ ویڈیو ٹیپ بھی ان تحقیقات کا حصہ رہے گا ۔ یہ ٹیپ سوشیل میڈیا پر عام ہوگیا تھا ۔ جس میں کنٹرول اس کام میں مصروف پولیس اہلکاروں کو ہدایت کررہا تھا کہ ’’انہیں ماردو ‘‘ بعد میں کہا گیا تھا کہ ’’کھیل ختم ہوگیا ‘‘ ۔ انکاؤنٹر کے دوران ان مکالمات کا تبادلہ ہوا تھا ۔ جس کی کسی نے ریکارڈنگ کرتے ہوئے سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا ۔ ریاستی حکومت نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ سی آئی ڈی افسران پر مشتمل ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) اس انکاؤنٹر کی تحقیقات کرے گی ۔ سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس نندن دوبے جیل توڑنے کے واقعہ کی علحدہ تحقیقات کریں گے ۔ لیکن کانگریس اور چند دیگر اپوزیشن جماعتیں عدالتیں تحقیقات کے مطالبہ پر اصرار کررہی تھیں ۔ ریاستی وزیر داخلہ بوپیندر سنگھ نے آج کہا کہ جیلوں کی سکیورٹی میں بہتری کیلئے پانڈے اپنی سفارشات پیش کریں گے ۔ بی جے پی کے زیرقیادت چوہان حکومت نے انکاؤنٹر سے متعلق پولیس کارروائی کی پرزور دفاع کی تھی اور اپوزیشن جماعتوں پر اس مسئلہ کو سیاسی و فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام عائد کیا تھا ۔ حکومت کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی ترجمان جے پی دھنوپیا نے کہا کہ ’’ اس مسئلہ پر روز اول سے ہی ہمارا موقف واضح تھا کہ ہائی کورٹ کے برسرخدمت جج کے ذریعہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جائیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT