Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سیول سرویسز امتحانات کے کوچنگ سنٹر کا ہنوز عدم انتخاب

سیول سرویسز امتحانات کے کوچنگ سنٹر کا ہنوز عدم انتخاب

اقلیتی طلبہ میں تشویش کی لہر ‘ امتحان کو ڈھائی ماہ باقی ‘ محکمہ اقلیتی بہبود کا تساہل

حیدرآباد۔ 23۔ مئی  ( سیاست نیوز) جاریہ سال سیول سرویسز امتحانات میں تلنگانہ کے اقلیتی طلبہ کے بہتر مظاہرہ کا خواب پھر ایک بار ادھورا رہ سکتا ہے کیونکہ اقلیتی بہبود محکمہ نے ابھی تک طلبہ کیلئے کوچنگ سنٹر کا انتخاب نہیں کیا۔ اب جبکہ خانگی ، معیاری کوچنگ سنٹر میں سیول سرویسز کوچنگ کے لئے صرف ڈھائی ماہ باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں اقلیتی طلبہ کیلئے مسابقتی امتحانات میں بہتر مظاہرہ کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے میناریٹی اسٹڈی سرکل کے ذریعہ جاریہ سال 62 اقلیتی طلبہ کو معیاری سیول سرویسز کوچنگ سنٹرس میں داخلہ دلانے کا فیصلہ کیا لیکن جس کمیٹی کو کوچنگ سنٹرس کے انتخاب کی ذمہ داری دی گئی ، اس نے آج تک اپنی رپورٹ حکومت کو پیش نہیں کی۔ سیول سرویسز کے امتحانات اگست کے تیسرے ہفتہ میں مقرر ہیں۔ ایسے میں اقلیتی طلبہ کس طرح ڈھائی ماہ کی مختصر مدت میں مکمل کورس کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ خانگی اداروں کی جانب سے سیول سرویسز کیلئے 6 ماہ کی کوچنگ دی جاتی ہے جس کے آغاز کو چار ماہ ہوچکے ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود نے اقلیتی طلبہ کیلئے ابھی تک کوچنگ سنٹرس کا انتخاب نہیں کیا۔ اس سے نہ صرف محکمہ کی کارکردگی بلکہ عہدیداروں کی اقلیتوں کی ترقی سے دلچسپی کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کی جانب سے سیول سرویسز کیلئے اسکریننگ ٹسٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں 288 ء طلبہ نے حصہ لیا تھا۔ اے کے خاںکی نگرانی میں تین رکنی کمیٹی نے 62 طلبہ کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں نامور خانگی اداروں میں کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اداروں کے انتخاب کیلئے ضلع کلکٹرس حیدرآباد راہول بوجا اور آئی پی ایس عہدیداروں اکون سبھروال اور تفسیر اقبال پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی لیکن اس کمیٹی نے آج تک اداروں کی سفارش نہیں کی ہے۔ حکومت نے سیول سرویسز کی کوچنگ کیلئے 12 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ کوچنگ کیلئے منتخب طلبہ اس بات کو لیکر پریشان ہیں کہ کوچنگ کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور امتحانات قریب آرہے ہیں ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اقلیتی طلبہ کا ایک اور سال ضائع ہوسکتا ہے ۔ اگر یہ کمیٹی اداروں کا انتخاب کرتی ہے ، تب بھی ان اداروں کی جانب سے اقلیتی طلبہ کیلئے علحدہ بیاچ شروع کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اگر جاریہ بیاچ میں طلبہ کو شامل کردیا جائے تو وہ دیگر طلبہ سے مسابقت نہیں کرپائیں گے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو اس جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ تاکہ طلبہ کے مستقبل سے ہمیشہ کی طرح کھلواڑ کے بجائے اس کا تحفظ کیا جاسکے۔ طلبہ نے شکایت کی کہ وہ معلومات کیلئے روزانہ اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں کوئی جواب دینے والا نہیں ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عہدیداروں نے حکومت کی اس اسکیم کو ناکام کرنے اور اقلیتی نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کی ٹھان لی ہے۔

TOPPOPULARRECENT