Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / سیول سرویس امتحان مادری زبان میں لکھنے کی اجازت کا مطالبہ

سیول سرویس امتحان مادری زبان میں لکھنے کی اجازت کا مطالبہ

لسانی حقوق کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور ، راجیہ سبھا میں سی پی آئی ایم کا بیان
نئی دہلی۔ 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سیول سرویس میں امتحان کو مادری زبان میں لکھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے یہ مسئلہ آج راجیہ سبھا میں اُٹھایا جس کی تمام گوشوں سے حمایت کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی لسانی حقوق کو برقرار رکھنے اور ترجیحی بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ وقفہ صفر کے دوران مسئلہ اٹھاتے ہوئے ریٹا برتا بنرجی (سی پی آئی ایم) نے کہا کہ سیول سرویس ٹسٹ کو انگریزی میں لازمی قرار دیا گیا ہے جو ہندی اور دیگر 8 قومی زبانوں کے خلاف امتیازی سلوک ہے۔ اس کیلئے لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے تاہم انگریزی میں ہی پرچہ لکھا جارہا ہے جو امیدوار گزشتہ سال اس موقع سے محروم ہوچکے ہیں۔ انہیں دوبارہ موقع نہیں دیا گیا۔ سی پی آئی ایم رکن نے اصل امتحان میں مادرن زبان کے استعمال کی اجازت دینے پر زور دیا۔ ان کے مطالبہ کی تمام اپوزیشن پارٹیوں تائید کی۔ ان پارٹیوں نے یہ تیقن بھی دیا کہ وہ اس مسئلہ پر ان کا ساتھ دیں گی۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت کو اس کا نوٹ لینا ہوگا۔ جنتا دل (یو) نے شرد یادو نے کہا کہ اس مسئلہ پر حکمران پارٹی کی جانب سے تائید حاصل ہورہی ہے۔ ڈپٹی چیر مین پی جے کورین نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ جواب دے۔ میں اس تعلق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ علی انور انصاری، جنتا دل (یو) نے ٹھیلہ بنڈی والوں کو بلدی حکام کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں اور ہراسانیوں کی شکایت کی۔

TOPPOPULARRECENT