Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / سیونگ اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی حد برخواست

سیونگ اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی حد برخواست

نئی دہلی۔13 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بچت کھاتوں سے ایک ہفتہ میں زیادہ سے زیادہ رقم نکالنے کی حد آج سے ختم ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی اب بینک کھاتوں سے رقم نکالنے کے معاملے میں نوٹ بندی سے پہلے کا موقف بحال ہوگیا ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے 8فروری کو رواں مالی سال کے آخری دو ماہی جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت بچت کھاتوں سے ایک ہفتہ میں پیسہ نکالنے کی حد24ہزار روپے تھی جسے 20فروری کو بڑھا کر 50ہزار روپے کیا گیا تھا۔کرنٹ اکاونٹ ، اوور ڈرافٹ اور کیش کریڈٹ کھاتوں سے پیسہ نکالنے کی حد 30 جنوری کو ہی ختم کردی گئی تھی۔ ساتھ ہی یکم فروری سے اے ٹی ایم سے پیسہ نکالنے کی حد بھی ختم کردی گئی تھی لیکن بچت کھاتوں پر ایک ہفتہ میں رقم نکالنے کی حد برقرار رہنے سے ایسے کھاتہ داروں کے لئے ایک طرح سے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے پر بھی حد متعین تھی۔نوٹ بندی کے بعد آر بی آئی نے خاطر خواہ تعداد میں نئے نوٹ بینکوں اور اے ٹی ایم میں پہنچنے سے پہلے نقد نکاسی کی حد مقرر کردی تھی۔ سرکاری طور سے حد ختم کئے جانے کے باوجود بینکوں کو اپنی طرف سے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی حد مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔ملک کے مختلف ریاستوں سے ملی اطلاع کے مطابق کئی مقامات پر بینکوں کے اے ٹی ایم سے ایک بار میں دو ہزار روپے سے زیادہ نہیں نکل رہے ہیں۔ ہر بینک نے اپنے لحاظ سے الگ الگ حد طے کررکھے ہیں۔ کچھ بینکوں نے سافٹ ویئر میں ایسی تبدیلیاں کی ہیں کہ اے ٹی ایم دوسرے بینکوں کے ڈیبٹ کارڈ ریڈ ہی نہیں کررہے ہیں اور اس طرح وہ صرف اپنے کسٹمرس کو ہی پیسے دے رہے ہیں۔مفت ٹرانزکشن کی حد مقرر ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لئے دو دو ہزار روپے کرکے ضرورت کے لئے پیسے نکالنے میں دقت آرہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT