Saturday , October 21 2017
Home / اداریہ / سیکوریٹی جوانوں کیلئے ناقص کھانا

سیکوریٹی جوانوں کیلئے ناقص کھانا

درد کے احساس سے دل کو جگایا جائیگا
سن رہا ہوں ہوش میں پھر مجھ کو لایا جائیگا
سیکوریٹی جوانوں کیلئے ناقص کھانا
ہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے مرکزی حکومت وزارت ڈیفنس کے ذریعہ سب سے زیادہ بجٹ مختص کرتی رہی ہے۔ ہر سال سالانہ بجٹ میں ڈیفنس پر سب سے زیادہ مصارف کا تعین کرنے کے بعد بھی جب سیکوریٹی امور میں کوتاہیوں کا انکشاف ہوتا ہے تو یہ تشویشناک بات ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کی حساس ترین ہندوستانی سرحد پر تعینات جوانوں کو سربراہ کیا جانے والا کھانا غیرمعیار اور ناقص ہونے کی شکایت جب عام ہوئی ہے تو اس شکایت کو مختلف رنگ دے کر معاملہ کی سنگینی کو دبانے کی کوشش بھی ایک افسوسناک عمل کہلاتا ہے۔ بی ایس ایف کے 29 ویں بٹالین کے کانسٹیبل تیج بہادر یادو نے سپاہیوں کو خراب کھانا سربراہ کئے جانے کی شکایت کی۔ سرحد سے ویڈیو کے ذریعہ سوشیل میڈیا پر جب یہ ویڈیو اپ لوڈ کی گئی تو سرحدی علاقوں میں تعینات سپاہیوں کی اصل کیفیت کا عوام الناس کو علم ہوا ہے۔ فوج کے مختلف شعبوں میں ہونے والی دھاندلیوں کا جب انکشاف ہوتا ہے تو فوج کے ذمہ داران اس کو اہمیت دینے سے گریز کرتے ہیں۔ کارگل واقعہ کے وقت تابوت اسکام کا مسئلہ یا ہیلی کاپٹر اسکام یہ اتنے بڑے گھوٹالے تھے کہ اس پر کروڑہا روپئے کی رشوت حاصل کرکے سیاستدانوں نے اپنی تجوریاں بھر لی اور سرحدوں کی سیکوریٹی کو داؤ پر لگا دیا۔ اب بی ایس ایف کے جوان کی شکایت میں سچائی اور دروغ گوئی کی بحث چھڑ کر دفاعی امور کی نگرانی کرنے والوں نے اپنے طور پر ایک خراب مثال پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بی ایس ایف نے اس جوان کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہ اس پر 2010ء میں کورٹ مارشل کیا گیا تھا وہ ڈسپلن شکنی کا عادی ہے اس کو صرف انسانیت کی بنیاد پر فوج میں برقرار رکھا گیا تھا جیسے تبصرے کئے گئے ہیں ۔ بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل ڈی کے اوپادھیا نے جوان تیج بہادر یادو کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہیکہ کسی سیکوریٹی جوان نے سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شکایت کو پورے ملک کے سامنے پیش کیا ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا ہیکہ جوانوں کو جلی ہوئی روٹی اور پانی نما دال سربراہ کی جاتی ہے۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سینئر عہدیدار جوانوں کو کھلانے کیلئے سربراہ کیا جانے و الا راشن کھلی مارکٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ اب فوج کے اعلیٰ آفیسرس ان الزامات کی تردید کرنے پر اتر آئے ہیں تو انہیں یوں ہی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہر دو جانب کیلئے یعنی سرحدی جوانوں اور ڈیفنس کے ذمہ داروں کیلئے اہم مسئلہ ہے۔ اس کا جائزہ لینا اور شکایت کی اصل بنیاد تک پہنچ کر سچائی کا پتہ چلانا حکومت کا کام ہے۔ اگرچیکہ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے سوشیل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی معاملہ کی جانچ کا فیصلہ کیا تھا، فوج میں ڈسپلن کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اعلیٰ آفیسرس اس ڈسپلن کی آڑ میں من مانی کرتے ہوئے جوانوں اور دیگر سپاہیوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ کرتے ہیں تو برداشت اور صبرکا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو تیج بہادر جیسے جوانوں کو ہمت کرنی پڑتی ہے۔ تیج بہادر کے دیگر ساتھی بھی اس جوان کی بہادری پر مطمئن اور خوش نظر آنے کی رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہی کہ سینئر عہدیداروں کے ڈر سے یہ معصوم جوان ہر ستم برداشت کرتے ہیں۔ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے اس ویڈیو کا مشاہدہ کرنے کا ادعا کرتے ہوئے اس ویڈیو کی سچائی کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ جب سرحد پر تعینات جوان ناقص کھانے سے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں اور بسااوقات بھوکے پیٹ سو جاتے ہیں تو یہ حکمرانوں اور فوج کے اعلیٰ ذمہ داروں کیلئے شرم کا معاملہ ہونا چاہئے۔ حب الوطنی کا دعویٰ کرنے والے حکمراں پارٹی کے سیاستدانوں کی قلعی کھل چکی ہے کہ یہ لوگ اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ صرف خود کی بقاء کیلئے کرتے آرہے ہیں جبکہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوان فاقہ کشی کیلئے مجبور ہوئے ہیں۔ تیج بہادر یادو جیسے جوان کی لب کشائی اس کیلئے کورٹ مارشل یا دیگر تادیبی کارروائیوں کا مؤجب بنتی ہے تو یہ بھی قابل اعتراض عمل ہوگا۔ فوج کے اعلیٰ عہدیدار اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کیلئے ایک سچ کو چھپانے یا اس کو دبادینے کیلئے شکایت کنندہ جوان کے ساتھ زیادتی کا معاملہ کرتے ہیں تو یہ دیگر جوانوں کے حوصلے پست کرنے اور اپنی من مانی و غیرقانونی سرگرمیوں کو حق بجانب قرار دینے کی کوشش کہلائے گی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ شکایت کنندہ جوان کے تحفظ کے ساتھ دیگر جوانوں کو درپیش مسائل اور شکایت سے واقفیت حاصل کرے اس کیلئے ایک اعلیٰ سطحی غیرجانبدار اور سیاسی و آفیسر شاہی کے دباؤ سے آزاد کمیٹی تشکیل دے کر فوج کے حق میں بہتر قدم اٹھائے۔

TOPPOPULARRECENT