Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / سیکولرازم نہیں مرسکتا

سیکولرازم نہیں مرسکتا

محمد عثمان شہید ایڈوکیٹ
سیکولرازم ہندوستانی دستور کی روح ہے۔ سیکولرازم کے بغیردستور ایسا ہی ہے جیسے کاغذ کا پھول۔ جیسے بیوہ کی مانگ، جیسے اجالے کا چاند، جیسے سوکھی ندی، جیسے اندھے کی بے نور آنکھ، جیسے خزاں رسیدہ چمن۔ سپریم کورٹ نے بارہا اپنے فیصلوںمیں کہاکہ سیکولر اقدارکی حفاظت کی ضمانت دستور ہند نے تمام شہریوں کو دی ہے، جس کو کسی قیمت پر منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان نے آزادی کے فوری بعد سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ لیا ۔ اس لئے ہندوستان یا بھارت ایک سیکولر اسٹیٹ قرار پایا۔ سیکولر اسٹیٹ کا مطلب ہے کہ حکومت کسی مذہب کی سرپرستی نہیں کرے گی۔ نہ ہی کسی مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی بیجا سرپرستی کرے گی۔ نہ ان کے مفادات کی حفاظت کیلئے ترجیحی اقدامات کرے گی۔ نہ ان کے مذہبی اصولوں اور عقائد کی حفاظت کیلئے سرکاری مشنری کا  استعمال کیا جائے گا۔ نہ ہی کسی فرقے کے مذہبی اصول و عقائد میں بے جا مداخلت کرے گی ۔ دستور ہند کے آرٹیکل 25 میں ایسی ضمانت دی گئی ہے ۔ اس آرٹیکل کے تحت ملک کے تمام شہریوں کو اپنے اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور مذہبی اصولوں کی اشاعت کی آزادی دی گئی ہے۔ سیکولرازم کے تحت ملک میں مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، ملک میں قومی یکجہتی کی بنیاد پر ملک کی ہمہ جہتی ترقی کی ضمانت دی گئی ہے ۔ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام سیکولرازم کا لازمی جز وہے ۔ اس ملک کو ہر شہری اپنی بہترین صلاحیتوں سے سرفراز کرے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم مذہبی تعصب سے بالاتر ہوکر اس ملک کی خدمت کو اپنا نصب العین بنالیں۔ سیکولرازم سیکولراقدار اور سیکولر طرز زندگی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مہا تما گاندھی نے ملک کی تقسیم کے فوری بعد رونما ہونے والے بدترین فرقہ وارانہ فسادات پر اپنے دکھی دل سے اظہار خیال کرتے ہوئے ہندوؤں مسلمانوں اور سکھوں سے کہا تھا کہ

’’اس سے زیادہ غلط خیال اور دوسرا نہیں ہوسکتا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے یا سکھوں کا ملک ہے۔ یہ شک کرنا کہ مسلمان ہندوستان کو اپنا وطن خیال نہیں کرتے، سب سے بڑی غلطی ہے‘‘۔
ان تمام تیقنات و دستوری تحفظات کے باوجود آج سیکولرازم اپنی زندگی کی بقاء کیلئے لڑ رہا ہے ۔ ملک کی بدبختی اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ صرف 33 فیصد ووٹوں کے حصول کے بعد ہندوستان کے سیاسی افق پر بی جے پی کے اقتدار کا سورج طلوع ہوا۔ ایک ایسی جماعت کی مانگ میں وقت کے ظالم ہاتھوں نے اقتدار کا سیندور بھرا جو ’’ہندوتوا‘‘ نظریئے کی خالق ہے ۔ ’’ایک زبان ، ایک مذہب ، ایک قانون‘‘ کا نعرہ جس کی سیاسی جدوجہد کی بنیاد ہے جس کے قائدین نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرت کے بیج بوکر اپنے سیاسی اقتدار کی فصل اُگائی ہے۔ بابری مسجد کو بی جے پی نے اپنے اقتدار کے حصول کی خاطر نشانہ بنایا ۔ بالآخر ایل کے اڈوانی کے زیر قیادت اپنے سفلی عزائم کی تکمیل میں کامیاب ہوئے۔
اُدھر مودی نے گجرات میں خود کو ہندوؤں کا مسیحا ثابت کرنے، اپنا سیاسی قد اونچا کرنے گودھرا کے واقعہ کو ایسا نفرت انگیز رنگ دیا کہ گجرات کی زمین ایسے بانجھ ہوئی کہ آج تک ہندو مسلم اتحاد و فرقہ وارانہ ہم آہنگی یہاں جڑ پکڑ نہ سکی ۔ نفرت کا دریا ایسا رواں دواں ہوا کہ تمام سیکولر اصول بہہ گئے اور مودی چیف منسٹر سے پرائم منسٹر بن گئے۔
سیکولرازم کے اصولوں کے مطابق مذہبی گروہوں کی انفرادیت مذہبی اکائیوں کو متحد رکھنا دوسروں پر اپنا طرز حیات لاگو نہ کرنا ہر جمہوریت پسند شہری و تنظیم کا فرض ہے لیکن سیکولرازم کے آئینے کو بی جے پی فرقہ پرستی کے پتھر سے چکنا چور کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

جیسے ہی بی جے پی نے اقتدار کی دہلیز پر قدم رکھا، اس کا خفیہ ایجنڈہ طشت ازبام ہوگیا ۔ مسلمانوں اور دیگر طبقات سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے ایک ایم پی نے کہا کہ بی جے پی کو ووٹ دینے والے ’’رام زادے‘‘ ہیں اور بی جے پی ووٹ نہیں دینے والے ’’حرام زادے‘‘ ہیں۔ ایسی دشنام طرازی اور بے ہودہ بکواس کا مودی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ نہ ہی اس ایم پی کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا ۔ ’’خاموشی نیم رضا‘‘ شاید اسی کو کہتے ہیں۔ مظفر نگر کا فساد گجرات کے ہولناک فساد کے بعد بی جے پی کے اقتدار پر ایسا کلنک ہے جس کو وقت کے ہاتھ شاید ہی دھو سکیں۔ بی جے پی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف مذہب کی بنیاد پر نفرت پیدا کر کے ہندوؤں کو متحد کریں اور نتیجتاً طویل المدتی اقتدار حاصل کریں اور پھر ہندوستان کے دستور کو منسوخ کر کے ایک نیا دستور مدون کریں تاکہ ہندوستان کو ایک ہندو راشٹرا میں بدل دیا جاسکے ۔ یہ خواب صرف اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے جب سیکولرازم کی دیوار زمین بوس ہوجائے ۔
بعض ہندوؤں ، ہاں بعض ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی شدت اس وقت ثابت ہوگئی جب دادری میں صرف افواہ کی بنیاد پر کہ ایک مسلمان نے گائے کو کاٹ کر اپنے گھر گوشت جمع کر رکھا ہے ۔ محمد اخلاق کو مار مار کر شہید کردیا ۔ اس دلسوز روح کو زخمی کردینے والے دل کو تڑپا دینے والے واقعہ نے ہندوستان کے تمام سیکولر افراد کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس لئے ہمارا یہ ایقان ہے کہ ہندوستان کے تمام ہندو مسلم دشمن نہیں ہیں، نہ وہ فرقہ پرست ہیں، نہ وہ ملک کے سیکولر اقدار کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ اگر ہندو بھائی فرقہ پرست ہیں نہ وہ ملک کے سیکولر اقدار کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ اگر ہندو بھائی فرقہ پرست ہوتے تو آر ایس ایس بی جے پی وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ کے بچھائے ہوئے حرام ہمرنگ زمین میں پھنس جاتے اور مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہوجاتے اور بی جے پی کو ناقابل یقین ووٹ حاصل ہوجاتے ۔ صرف 33 فیصد ، صرف 33 فیصد ووٹ کا استعمال اس حقیقت کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی
یہ کہ سیکولرازم کی سد سکندری کو بی جے پی اپنی نفرت انگیز مہم کے پتھروں سے مسمار نہیں کرسکتی۔
راقم الحروف کی بھانجی اسی سال جب موت و زیست کی لڑائی لڑ رہی تھی اور ڈاکٹر نے آپریشن کامیاب ہونے کی ضمانت دینے سے انکارکردیا تھا ایسے وقت B+ve گوپ کے خون کی شدید ضرورت لاحق ہوگئی ۔ آدھی رات گزر چکی تھی۔ یہ ایک ایسا دشوار کن مرحلہ تھا کہ ہر فرد دست بہ دعا تھا ۔ ہم نے ایس ایم ایس کے ذریعہ لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی ۔ جواب میں سب سے زیادہ عطیہ دینے والے ہندو بھائیوں کا تانتا بن گیا ۔ آپریشن کامیاب ہوگیا ۔ اسی طرح ایک اور واقعہ کا ذکر مشہور دانشور ظفر آغا صاحب نے بھی اپنے ایک مضمون میں کیا۔

سنو ! مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنے والو ! سنو مسلمانوں کو حرام زادہ کہنے والو ، سنو  مسلمانوں کو ان کے مذہبی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی مخالفت کرنے والو سنو! بیف کے مسئلہ پر محمد اخلاق کو ہلاک کردینے والو ، مسلمانوں کو پا کستان چلے جانے کا مشورہ دینے والو ، یکساں سیول کوڈ کے ذریعہ شریعت محمدی کے تار و پود بکھیرنے کی کوشش کرنے والو ، تمہاری لاکھ کوششوں کے باوجود ہندو مسلم دوستی نفرت میں نہیں بدل سکتی۔ ہندوستان کا افق سیکولرازم کے خورشید کی روشنی سے محروم نہیں ہوسکتا۔
سنو، گجرات کے 200 دیہاتوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے والے سنگھل سنو ، ایک مسلمان نے گائے کو باؤلی میں نکال کر نئی زندگی دی ، کیا ایسے واقعات  ان مسلم دشمنوں کی سوچ بدلنے کیلئے کافی نہیں۔ مسلمان اس ملک کو اپنی جان سے زیادہ پیار کرتے ہیں ۔ سنگھل اس وطن عزیز کی عطر بیز ہواؤں نے میرے آقاؐ کے دربار میں حاضر ہوکر قدم بوسی کی تھی ۔ اس ملک کے ذرے ذرے سے مسلمان حکیم الامت کے الفاظ میں بے انتہا پیار کرتے ہیں۔ ہزار برس بھی آر ایس ایس کا پروپگنڈہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے ذہن کو زہر آلود نہیں کرسکتا۔
اب گاؤکشی اور بیف کے استعمال پر پابندی جیسے مسائل کو وطن دشمن عناصر قومی یکجہتی کے دشمن ایسے انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے مسلمان گائے کو ذبح کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے ۔ گائے کا گوشت حلال ہے ۔ اللہ نے جس چیز کو حلال قرار دیا ہے اس کو ہم حرام نہیں قرار دے سکتے۔ نہ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت حلال اشیاء کو استعمال کرنے سے روک سکتی ہے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ شہنشاہ بابر نے سب سے پہلے گاؤکشی پر امتناع عائد کردیا تھا۔ پھر اکبراعظم نے اس پابندی پرشدت سے عمل کیا تھا ۔ شہنشاہ اورنگ زیب نے بھی گاؤکشی پر ا متناع عائد کردیا تھا ۔ سلطنت آصفیہ کے فرما نروا نواب میر محبوب علی خاں آصف جاہ ششم نے بھی گا ؤ کے ذبیحہ کو اپنی سلطنت کے حدود میں منع کردیا تھا ۔ نواب میر عثمان علی خاں آصف جاہ ہفتم نے بھی گاؤ کشی پر سختی سے امتناع عائد کردیا تھا لیکن دادری کے دل چیرنے والے واقعہ کے خلاف مسلمانوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے۔ جہاں ان کے رہبروں کے روپ میں رہزنوں نے مجرمانہ تغافل سے کام لیا ہے ۔ جہاں مسلمانوں نے من حیث القوم جمہوری انداز میں احتجاج کرنے میں ناکام رہے ۔ وہیں قلم کے مجاہدوں نے بلا لحاظ مذہب حساس دل رکھنے والے شعراء نے ادیبوں نے قلم کاروں نے ، ادیبوں نے ، ناول نگار ، مضمون نگاروں نے اپنے ردعمل کیا۔ ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ انسانیت ان کی ہمیشہ شرمندۂ احسان رہے گی۔

ملک کی پروقار ساہتیہ اکیڈیمی کی جانب سے دیئے گئے ایوارڈ کو یکے بعد دیگرے واپس کر کے جہاں ان قلم کاروں نے سیکولرازم کے لبادے کو رفو گری سے محفوظ رکھا ، وہیں انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ مذہبی عدم رواداری کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں۔ قلم کار بے شک ایک حساس دل رکھتے ہیں۔ سماجی برائیوں ، سماجی نا انصافیوں روح فرسا واقعات پر ان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ ان کے جذبات و احساسات الفاظ کے قالب میں ڈھل کر صفحہ قرطاس پر نظم افسانہ ناول مضمون کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ سماج میں رونما ہونے والے انسانیت سوز واقعات کے خلاف اپنے قلم کو تلوار بنالیتے ہیں۔ وہ دنیا کی محفل میں میکدہ بہ دوش ہی نہیں بلکہ شمشیر بکف بھی آتے ہیں تاکہ باطل قوتوں استعماری طاقتوں اور طاغوتی عناصر کا قلع قمع کیا جاسکے۔ سلمان رشدی ملیالی زبان کے مصنف سارہ جوزف اردو ناول نگار رحمن عباس کے علاوہ ملیالی زبان کے شاعر سچیدا نندن نے اکیڈیمی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ تھیٹر آرٹسٹ شریمتی مایا کرشنا راؤ کا ضمیر جاگا اور انہوں نے بھی دادری کے اس بہیمانہ واقعہ کے خلاف احتجاجاً اپنا ایوارڈ اکیڈیمی کو واپس کردیا ۔ اب تک 21 مصنفین نے اپنا ایوارڈ واپس کردیا ہے۔

مغربی بنگال کے طلباء نے بھی مظلوم شہید اخلاق کے قتل کے خلاف پرزور احتجاج کیا ہے۔
مارکسسٹ کمیونسٹ قائد سیتارام یچوری نے دکن کرانیکل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس بیف کے استعمال پر پابندی عائد کر کے ہندوستانی سماج کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی سعی مذموم کی ہے جو ملک کے سیکولر اقدار کیلئے سم قاتل ہیں۔ یہ دلیل ہے اس امر کی کہ ہندوستان میں سیکولرازم مر نہیں سکتا۔ سیکولر اقدار کے حفاظت کیلئے اب ہم مسلمان کمربستہ ہوجائیں۔ ہماری غفلت ، ہماری موت کا فرمان جاری کردے گی۔ مسلمان اپنی صفوں میں مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد پیدا کریں۔ اور سرکشی طاقتوں کا سر قلم کردیں   ؎
اٹھو وگر نہ حشر بپا ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

TOPPOPULARRECENT