Saturday , October 21 2017
Home / سیاسیات / سیکولرازم پر کانگریس کا نرم موقف

سیکولرازم پر کانگریس کا نرم موقف

نئی دہلی ۔ 7 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کو آج سیکولرازم کے تئیں مبہم اور تذبذب آمیز موقف رویہ اختیار کرنے پر سماجی جہد کاروں اور ماہرین تعلیم سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا جنھوں نے پارٹی سے کہا کہ فرقہ پرستی کے خلاف دفاعی موقف سے باز آجائے ۔ جس پر نائب صدر کانگریس نے اس الزام کو غیرمنصفانہ قرار دیا اور آر ایس ایس کی سیاست کو شکست دینے کا عہد کیا ۔ سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو کی 129 ویں یوم پیدائش تقاریب کے پیش نظر ایک مباحثہ کے شرکاء نے عدم تحمل میں اضافہ پر تشویش کااظہار کیا اور بند کمروں میں بحث و مباحثہ کی بجائے گلی کوچوں میں فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی شروع کرنے پر زور دیا ۔ بیف پر جاریہ تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے سماجی کارکن شبنم ہاشمی جوکہ عوامی فنکار صفدر ہاشمی مرحوم کی بہن ہیں کہا کہ اگر گوا میں بی جے پی کے چیف منسٹر بیف پر امتناع سے انکار کرتے ہیں تو کانگریس کے چیف منسٹرس یہ کام کیوں نہیں کرسکتے ؟ ۔ سنگھ کی دہشت گردی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم اب اور کب تک جارحیت کا مطالبہ کریں گے ۔ چونکہ ہم دفاعی سیاست پر عمل پیرا ہیں جس کے نتیجہ میں فرقہ پرست طاقتیں بے قابو ہورہی ہیں ۔ شبنم ہاشمی نے کہاکہ زندگی کے ہر شعبہ میں فاشزم سرایت کرگیا ہیجس کے خلاف سیول سوسائٹی ہی مقابلہ کرسکتی ہے۔ پروفیسر اپروانند دہلی یونیورسٹی نے کہاکہ پنڈت نہو نے سماج میں سیکولر ازم کو فروغ دینے کی ممکنہ کوشش کی تھی لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ نہرو کی موت کے 20 سال بعد کانگریس نے ہندوؤں کا دباؤ قبول کرلیا اور آج کانگریس یہ کہتی ہے کہ ہمیں مسلمانوں کا ہمدرد بتاکر رسواء کیا جارہاہے ۔

TOPPOPULARRECENT