Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / سیکولر ووٹوں کی تقسیم کرنے پر صدر جماعت کا پتلا نذر آتش

سیکولر ووٹوں کی تقسیم کرنے پر صدر جماعت کا پتلا نذر آتش

ناندیڑ سے ابتداء ہوئی ہے، بھیونڈی میں بھی تقلید ہوگی، عوام میں برہمی

حیدرآباد۔14مارچ (سیاست نیوز) ملک سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خاتمہ کیلئے کوشاں فرقہ پرست جماعتوں کی مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے ناندیڑ کے مسلمانوں نے جماعت کے صدر کا پتلہ نذر آتش کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کن لوگوں کی مدد حاصل کرتے ہوئے ووٹوں کی تقسیم اور اکثریتی ووٹ کو متحد کرنے کا مشن اختیار کئے ہوئے ہے۔ اترپردیش انتخابی نتائج کے بعد سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پھیل رہے جماعت کے صدر کے خلاف احتجاج کے ویڈیو کی حقیقت جاننے کی کوشش پر پتہ چلا ہے کہ ناندیڑ میں جن لوگوں نے جماعت کے استحکام کیلئے کام کیا تھا اب وہی لوگ جماعت کے صدر کا پتلہ نذرآتش کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کا مددگار قرار دے رہے ہیں۔ بنگلور‘مہاراشٹرا‘ ممبئی کے علاوہ بہار اور اب اتر پردیش کے نتائج کے بعد جماعت کی جانب سے کی جانے والی تمام حرکات واضح ہونے لگی ہیں اور عوام میں یہ بات عام ہورہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جماعت کے صدر اور ان کے برادر کا استعمال کر رہی ہے۔ ناندیڑ کے احتجاجیوں نے بتایا کہ ناندیڑ غیور مسلمانوں کا شہر ہے جہاں کے مسلمان ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں اور انہیں داخلی دشمنوں سے نمٹنے کا طریقہ بھی معلوم ہے۔ ان احتجاجی کارکنوں نے بتایا کہ صورتحال تیزی سے واضح ہو گئی ہے اسی لئے ان کا اعتماد ایسی جماعت سے اٹھ گیا ہے جو مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ان کے احساسات کو سودا کرتی ہے۔ ناندیڑ میں کئے گئے احتجاج کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اس احتجاج میں بیشتر وہ لوگ شامل تھے جنہوں نے صدر کو ناندیڑ میں متعارف کروایا تھا۔ ناندیڑ کے علاوہ ممبئی میں انتخابات کے فوری بعد لاتور اور اطراف کے علاقوں کے سینکڑوں کارکنوں نے اجلاس منعقد کرتے ہوئے جماعت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور اس دوران یہ الزام عائد کیا تھا کہ جماعت کے قائدین امت مسلمہ کا نام لیتے ہوئے امت مسلمہ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور گمراہی کا شکار بناتے ہوئے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کارکنوں نے جماعت کے قائدین پر بی جے پی کی راست یا بالواسطہ مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کو ان لوگوں نے ایک سیاسی جماعت سے زیادہ مسلمانوں کی متاع عزیز تصور کیا تھا لیکن یہ جماعت مسلمانوں کے احساس و جذبات کی تجارت میں ملوث ہے ۔ بھیونڈی میں اترپردیش انتخابی نتائج کے بعد جماعت سے قطع تعلق کرنے والے جماعت کے کارکنوں نے باضابطہ ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں جماعت کے صدر کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ اگر وہ سودے بازی میں ملوث نہیں بھی ہیں تب بھی وہ مسلمانوں کے قائد نہیں ہو سکتے کیونکہ اگر ان میں اتنی سیاسی بردباری نہیں ہے کہ وہ اس انجام سے باخبر نہیں ہیں جو ان کے میدان میں اترنے سے بننے والا ہے اور ان کے انتخابی میدان میں رہنے سے کسے فائدہ حاصل ہوگا اس کا اندازہ نہ ہونا ان کی سیاسی نا اہلی کا ثبوت ہے اسی لئے وہ ایسی قیادت کو تسلیم نہیں کرتے جو راست یا بالواسطہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT