Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / سی آر پی ایف خواتین پہلی بار انسداد نکسلائٹس کارروائیوں میں

سی آر پی ایف خواتین پہلی بار انسداد نکسلائٹس کارروائیوں میں

راجستھان میں لڑائی کی تربیت کی کامیابی سے تکمیل ‘ بیک وقت 100خواتین کی تعیناتی
نئی دہلی ۔ 8مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک اور مصنوعی روایت کو توڑتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی نیم فوجی تنظیم سی آر پی ایف 560 خواتین کمانڈوز کو انسداد نکسلائٹس کارروائیوں کیلئے روانہ کرے گی ۔ منتخبہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں میں خاتون سی آر پی ایف کمانڈوز کو تعینات کیا جائے گا ۔ اتنی کثیر تعداد میں خواتین کی تعیناتی کا پُرعزم منصوبہ انتہائی چیالنج بھرا ہے ۔ ملک کے داخلی صیانتی شعبہ میں لڑاکا طاقتوں کو ایسا چیلنج قبل ازیں کبھی درپیش نہیں ہوا تھا ۔ 560خواتین کا ایک بیاچ  سی آر ی ایف کے تربیتی مرکز اجمیر میں گذشتہ ہفتہ اپنی تربیت کی تکمیل کرچکا ہے ۔ سی آر پی ایف کے ڈائرکٹر جنرل کے درگا پرساد نے کہا کہ یہ پورا بیاچ اب مرحلہ وار انداز میں بائیں بازو کی انتہا پسندی کے زیر اثر علاقوں میں تعینات کیا جائے گا ۔ ان کی کمپنیاں تشکیل دی جائیں گی اور انہیں کارروائی کے طریقے سکھائے جائیں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 100خواتین کمانڈوز ایک وقت میں کارروائیوں کیلئے تعینات کی جائیں گی ۔ ان خواتین نے 6مئی کو اجمیر میں اپنی تربیت کی تکمیل کی ہے اور یہ ذہن نشین رکھتے ہوئے کی ہے کہ انہیں انتہا پسند بائیں بازو کے زیر اثر علاقوں میں خدمات انجام دینا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ اُن کی مشکل ترین مہم ہوگی ۔ ایک کمپنی ایک وقت میں تعینات کی جائے گی اور چند دن بعد اُن کی کارکردگی میں مزید ذمہ داریوں کا اضافہ کیا جائے گا ۔ ڈی جی نے کہا کہ یہ فورس پہلے ہی انفراسٹرکچر اور بیارکس ان خواتین کیلئے تیار کرچکی ہے ۔ بعض مقامات پر ایسی مزید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور بعض دیگر مقامات پر وقت آنے سے پہلے انفراسٹرکچر تعمیر کئے جائیں گے اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ فی الحال سرحد کی حفاظت کرنے والی فورس انڈو تبتاً بارڈر پولیس ہے جس نے اعلان کردیا ہے کہ وہ بھی خاتون عملہ کو بھرپور لڑاکا مہم کیلئے ہند ۔ چین سرحد پر روانہ کرے گی ۔ سی آر پی ایف کی خواتین کا تازہ ترین بیاچ 44ہفتے تک جنگل میں لڑائی کا تجربہ بھی حاصل کرچکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT