Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سی ای او وقف بورڈ اسد اللہ کو سیاسی دھمکیاں ، طویل رخصت پر روانہ

سی ای او وقف بورڈ اسد اللہ کو سیاسی دھمکیاں ، طویل رخصت پر روانہ

پروفیسر ایس اے شکور عارضی سی ای او مقرر ، اسد اللہ وقف ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے خواہاں
حیدرآباد ۔ 18۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ بورڈ میں آج اس وقت بحران پیدا ہوگیا جب چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے اچانک طویل رخصت حاصل کرلی۔ وقف مافیا ، اعلیٰ عہدیداروں اور سیاسی قائدین کے بڑھتے دباؤ سے عاجز آکر چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے طویل رخصت حاصل کرلی اور وہ حکومت سے خواہش کر رہے ہیں کہ انہیں اس ذمہ داری سے سبکدوش کردیا جائے۔ حکومت نے عارضی انتظام کے طورپر اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری دی ہے جو ان کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ وقف بورڈ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کئی اہم قدم اٹھائے تھے اور اس راہ میں انہیں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں، ان کی جانب سے بعض فائلوں کی یکسوئی کیلئے دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ وقف قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان فائلوں کی یکسوئی کو محمد اسد اللہ تیار نہیں تھے۔ اسی طرح کئی اوقافی جائیدادوں کی کمیٹیوں اور متولیوں سے متعلق معاملات میں سی ای او نے اعلیٰ عہدیدار اور مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجہ میں انہیں دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ کئی معاملات میں سی ای او کو فون کرتے ہوئے مقامی جماعت کے قائدین نے دھمکیاں دیں لیکن محمد اسداللہ نے دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی اور وقف ایکٹ کے مطابق فیصلے کئے ۔ اس طرح مسلسل دباؤ سے عاجز آکر انہوں نے 15 دن کی میڈیکل لیو حاصل کرلی۔ بتایا جاتاہے کہ انہیں اس عہدہ سے ہٹانے کیلئے بھی زبردست سازشیں چل رہی ہیں تاکہ وقف مافیا اپنی مرضی مطابق احکامات وقف بورڈ سے حاصل کرسکے۔ اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں شہر کی اہم درگاہ کی کمیٹی کی منظوری کے سلسلہ میں محمد اسد اللہ نے وقف ایکٹ کا حوالہ دیا تھا لیکن عہدیدار مجاز نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مقامی سیاسی جماعت کے اشارہ پر نئی کمیٹی کو منظوری دی، اس کمیٹی میں سابقہ کمیٹی کے ان ارکان کو بھی شامل کیا گیا جن پر بے قاعدگیوں کے الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ بعض غیر مقامی افراد کو بھی کمیٹی میں شامل کرلیا گیا۔ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ سے متعلق یہ کمیٹی اگرچہ اعلیٰ عہدیداروں کی منظوری حاصل کرچکی ہے۔ تاہم یہ حکومت کے احکامات اور وقف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ محبوب نگر کی ایک اہم اوقافی جائیداد کے متولی کے تقررکے سلسلہ میں محمد اسد اللہ پر زبردست دباؤ تھا اور وہ غیر قانونی طور پر تقرر کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ عہدیدار مجاز نے انہیں تقرر کیلئے بارہا اصرار کیا لیکن سی ای او ا پنے اصولی موقف پر قائم رہے۔ اس طرح کئی معاملات میں سی ای او اور عہدیدار مجاز کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی تھی۔ وقف بورڈ میں چونکہ ایماندار اور دیانتدار افراد کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ لہذا چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی حیثیت سے مزید خدمات کو جاری رکھنا محمد اسد اللہ نے مناسب نہیں سمجھا اور حکومت سے خواہش کی ہے کہ انہیں متعلقہ محکمہ میں واپس کردیا جائے۔ طویل رخصت کی وجہ جاننے کیلئے جب سیاست نے ربط پیدا کرنے کی کوشش کی تو محمد اسد اللہ دستیاب نہیں ہوئے۔ اسی دوران چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری پروفیسر ایس اے شکور کو دی گئی اور احکامات جاری کئے گئے۔ انہوں نے اس عہدہ کو قبول کرنے کیلئے کافی مزاحمت کی تاہم عہدیداروں کی کمی کا بہانہ بناکر ذمہ داری دیدی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ 15 دنوں میں اعلیٰ عہدیدار اپنی مرضی سے متعلق فائلوں کی یکسوئی کس حد تک کرپائیں گے۔ وقف بورڈ میں سرگرم وقف مافیا کو اس بات پر مطمئن دیکھا گیا کہ محمد اسد اللہ نے رخصت حاصل کرلی ہے اور وہ بآسانی اپنے مفادات کی تکمیل کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT