Wednesday , July 26 2017
Home / شہر کی خبریں / سی ای او وقف بورڈ کو توہین عدالت کی نوٹس

سی ای او وقف بورڈ کو توہین عدالت کی نوٹس

انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کے سکریٹری نے مقدمہ دائر کیا
حیدرآباد۔/15جولائی،( سیاست نیوز) انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کی جانب سے چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ایم اے منان فاروقی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو نوٹس موصول ہوئی۔ انوارالعلوم تعلیمی اداروں کے سلسلہ میں گزشتہ ہفتہ وقف بورڈ کی کارروائی پر ہائی کورٹ کے عبوری حکم التواء کے بعد اسوسی ایشن کے سکریٹری نے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس مقدمہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے 11 اپریل 2014 کو جسٹس ولاس افضل پورکر کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ہے جس میں 45 دن کی نوٹس دیئے جانے کی ہدایت دی گئی۔ درخواست گذار نے استدلال پیش کیا کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو اپنی راست تحویل میں لینے کی کوشش کی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو نوٹس ملنے کے بعد صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ اس طرح کے مقدمات کا مقصد عہدیداروں کو خوفزدہ کرنا ہے تاکہ وہ مزید کوئی کارروائی نہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمہ کے سلسلہ میں نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے کہا کہ وہ اوقافی ریکارڈ کے اعتبار سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں لہذا انہیں اس طرح کے مقدمات اور نوٹس سے کوئی خوف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کا یہ مقدمہ دراصل ایک نفسیاتی حربہ ہے تاکہ انہیں مرعوب کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں بھی عہدیداروں کے خلاف اسی طرح کے مقدمات درج کئے گئے اور انہیں بہتر طور پر کام کرنے سے روکا گیا۔ منان فاروقی نے کہا کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کریں اور وہ وقف ایکٹ کے مطابق جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں انوارالعلوم تعلیمی اداروں کے وقف ہونے سے متعلق تمام دستاویزات موجود ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT