Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سی بی آئی تحقیقات پر تلنگانہ چیف منسٹر کی خاموشی معنیٰ خیز

سی بی آئی تحقیقات پر تلنگانہ چیف منسٹر کی خاموشی معنیٰ خیز

کے سی آر کو فوری مستعفی ہونے کا مشورہ ، ورکنگ پریسیڈنٹ کانگریس ملوبٹی وکرامارک کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 2 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے بدعنوانیوں کے معاملے میں راجیا اور کے سی آر کے معاملے اصول تبدیل ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینے کا چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ بدعنوانیوں کے الزام پر چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے فوری راجیا کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے سے ہٹادیا جب کہ سی بی آئی کے سی آر کے خلاف مرکزی وزیر کی حیثیت سے کی گئی بدعنوانیوں کی تحقیقات کررہی ہے تو وہ بھلا چیف منسٹر کے عہدے پر کیسے برقرار رہ سکتے ہیں ۔ انہیں اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ بٹی وکرامارک نے کہا کہ سی بی آئی تحقیقات پر چیف منسٹر کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ سی بی آئی کی جانب سے پوچھ تاچھ کے بعد عوام میں غلط پیغام پہونچا ہے ۔ لہذا چیف منسٹر اپنی بدعنوانیوں اور سی بی آئی تحقیقات پر عوام سے وضاحت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت مرکزی وزیر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے والے کے سی آر چیف منسٹر کے عہدے پر کیسے برقرار رہ سکتے ہیں جب کہ انہوں نے بدعنوانیوں کا خاتمہ کرنے کا عزم کیا اور عوام کو ٹول فری نمبر دیتے ہوئے بدعنوانیوں میں ملوث ہونے والوں کی شکایت کرنے کی ہدایت دی اور راجیا کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے سے بدعنوانیوں کے الزام میں برطرف کردیا ۔ اصول سب کے لیے ایک ہونے چاہئے جس پر عمل کرنا چیف منسٹر تلنگانہ کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر فوری مستعفی ہوجائیں بصورت دیگر پی ایف میں جو بدعنوانیاں ہوئی ہیں اس کی تحقیقات کرانے کی سپریم کورٹ سے اپیل کی جائے گی ۔ ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ راجیا کی بدعنوانیوں کے تعلق سے میڈیا کو خفیہ معلومات فراہم کرتے ہوئے انہیں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT