Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / سی بی آئی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع ہونے مہلوکین کے خاندانوں کا فیصلہ

سی بی آئی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع ہونے مہلوکین کے خاندانوں کا فیصلہ

فرضی انکاؤنٹر سفاکانہ سردخون قتل کے مترادف، سخت سکیورٹی جیل کا قفل ٹوتھ برش سے کیسے کھولا جاسکتا ہے، وکیل کا بیان

بھوپال ۔ یکم نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سیمی کے آٹھ کارکنوں کی گزشتہ روز جیل توڑ کر فرار ہونے کے دیدہ دلیرانہ واقعہ اور مبینہ پولیس انکاؤنٹر میں ان تمام کی ہلاکت کے ایک دن بعد ان (مہلوکین) کے خاندانوں نے بقول ان کے ’’سرد خوں سفاکانہ قتل‘‘ کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے ایک وکیل پرویز نے پی ٹی آئی سے کہاکہ ’’مہلوکین کے ارکان خاندان میرے پاس آئے تھے جو حصول انصاف کے لئے زار و قطار روتے ہوئے قابو سے باہر ہوچکے تھے اور ہم اس سارے واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کی درخواست کے ساتھ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے رجوع ہورہے ہیں‘‘۔ پرویز عالم نے کہاکہ ’’یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ حکام یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ملزمین جیل کی 32 فٹ بلند باؤنڈری وال پر چڑھ گئے تھے‘‘۔ انھوں نے سوال کیاکہ ’’کیا یہ ممکن ہے‘‘۔ پولیس نے دعویٰ کیاکہ ممنوعہ تنظیم سیمی سے تعلق رکھنے والے ملزمین گزشتہ روز انتہائی سخت ترین سکیورٹی کے حامل اس جیل کے ایک پہرہ دار کا گلا کاٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ پھر چادروں کا استعمال کرتے ہوئے رات 2 اور 3 بجے کے درمیان جیل سے فرار ہوگئے تھے جس کے چند گھنٹوں بعد انھیں مبینہ پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ پرویز عالم نے اس انکاؤنٹر کو ’فرضی‘ قرار دیا اور کہاکہ ٹی وی فٹیج میں پولیس اور اے ٹی ایس کو فائرنگ کرتا دکھایا گیا ہے۔ لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ملزمین نے بھی فائرنگ کی تھی۔ پرویز عالم نے دعویٰ کیاکہ ’’یہ ایک فرضی انکاؤنٹراور سفاکانہ سرد خوں قتل ہے‘‘۔ انھوں نے کہاکہ انسپکٹر جنرل یوگیش چودھری نے کل رات میڈیا سے کہا تھا کہ ملزمین نے اپنی جیل کوٹھری کو کھولنے کے لئے ٹوتھ برش‘‘ سے کنجیاں تیار کیا تھا۔ پرویز عالم نے حیرت کے ساتھ استفسار کیاکہ ’’آیا کوئی انتہائی سخت سکیوریٹی کی حامل بھوپال جیل جس کو سخت انتظامات کے ضمن میں آئی ایس او سرٹیفکٹ حاصل ہوا ہے اس کی کوٹھریوں کو ٹوتھ بریش سے کھول سکتا ہے‘‘۔ (جیل) حکام بھی کیا جھوٹ بول رہے ہیں‘‘۔ امجد خاں، ذاکر حسین، محمد سالک، شیخ محبوب اور عقیل خلجی کا تعلق ضلع کھنڈوا سے ہے اور ان کے رشتہ داروں نے نعشوں کو اپنے گھر منتقل کردیا ہے۔ تاہم مہاراشٹرا کے ضلع شولاپور سے تعلق رکھنے والے محمد خالد کی نعش پر کسی نے اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا۔ شیخ مجیب کے ارکان خاندان اس کی نعش کو احمدآباد منتقل کررہے ہیں۔ عبدالمجید کی نعش مدھیہ پردیش کے ضلع اجین کے ماہدپور کو لیجائی جارہی ہے۔

 

انسانی حقوق صرف دہشت گردوں کے، جوانوں کی زندگیاںبے قیمت
نئی دہلی ۔ یکم / نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر ہرش وردھن نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ انسانی حقوق صرف دہشت گردوں کیلئے ہیں ۔ فوجیوں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے وہ ذرائع ابلاغ اور دانشوروں کے چند گروپس کا حوالہ دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی افضل ، یعقوب ، عشرت ، برہان اور باٹلہ ہاؤز انکاؤنٹر ہوتا ہے تو یہ سب اسے جعلی قرار دیتے ہوئے شور مچاتے ہیں ۔ وہ بالواسطہ طور پر انکاؤنٹر میں سیمی کارکنوں کی کل ہلاکت پر سیاسی پارٹیوں کے مطالبات کا اور انسانی حقوق کمیشن کی نوٹسوں کا حوالہ دے رہے تھے ۔

 

مدھیہ پردیش حکومت اور ڈی جی پی
کو انسانی حقوق کمیشن کی نوٹسیں
نئی دہلی۔ یکم نومبر (سیاست ڈاٹ کام) قومی انسانی حقوق کمیشن نے حکومت ِ مدھیہ پردیش ، پولیس اور جیل خانہ کے عہدیداروں کو سیمی کے 8 کارکنوں کی مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاکت کے سلسلے میں نوٹسیں جاری کردی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT