Tuesday , April 25 2017
Home / شہر کی خبریں / سی بی ایس سی اسکولس میں ہندی کے لزوم پر جنوبی ریاستوں کی مخالفت

سی بی ایس سی اسکولس میں ہندی کے لزوم پر جنوبی ریاستوں کی مخالفت

مرکزی حکومت کو لزوم کا اختیار نہیں ، ہندی سے علاقائی زبانوں کو نقصان ہونے کے خدشات کا اظہار
حیدرآباد۔21اپریل(سیاست نیوز) حکومت ہند کی جانب سے سی بی ایس سی اسکولوں میں ہندی کے لزوم کی جنوبی ریاستوں بالخصوص آندھراپردیش ‘ تلنگانہ‘ تمل ناڈو اور کیرالہ میں مخالفت کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت ان ریاستوں میں ہندی کا لزوم عائد نہیں کرسکتی کیونکہ ان ریاستوں کے عوام کی اپنی علاقائی زبانیں موجود ہیں اور طلبہ اپنی علاقائی زبانوں کا اختیاری زبان کے ساتھ انتخاب کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے قومی سطح پر ہندی کے فروغ کیلئے اقدامات کے طور پر سی بی ایس سی اور کیندر ودیالیہ اسکولوں میں ہندی زبان کے لزوم کے احکام جاری کئے ہیں لیکن ان احکامات سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ شروع کیا جا چکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ طلبہ پر ہندی سیکھنے کے لئے دباؤ ڈالنا ان کی علاقائی زبان سے انہیں محروم کرنے کی کوشش کے مترادف ثابت ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگو ریاستوں کے علاوہ دیگر جنوبی ریاستوں میں یہ مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس مطالبہ میں طلبہ تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریاستی سطح کی تنظیمیں حکومت ہند کو ہندی کے لزوم کی پابندی برخواست کروانے کے لئے جدوجہد کا منصوبہ تیار کررہی ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ ریاستی علاقائی زبان متاثر ہو۔حکومت ہند کی جانب سے جاری کئے جانے والے ان احکامات پر عمل آوری کی صورت میں کیندر ودیالیہ اور سی بی ایس سی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو سنسکرت یا دیگر کوئی اختیاری زبان کے انتخاب کا موقع نہیں رہے گا اور طلبہ کو 6ویں تا10ویں جماعت تک ہندی زبان بطور اختیاری زبان حاصل کرنی پڑے گی۔ طلبہ تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ قانون حق تعلیم کے تحت طلبہ کو کسی بھی زبان کے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر ہندی کا لزوم عائد کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں طلبہ دیگر کوئی زبان اختیار نہیں کرپائیں گے کیونکہ انہیں حاصل اختیارات ختم ہو جائیں گے۔ اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور ان احکامات کو طلبہ کے مفاد میں قرار دیا جا رہا ہے اوراس کے لئے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ ریاست کے طلبہ تلگو یا دیگر زبانیں جو ان کی مادری زبانیں ہیں ان میں ماہر ہوتے ہیں اور وہ بولنے ‘ لکھنے اور پڑھنے کے اہل ہوتے ہیں لیکن ہندی زبان کی شمولیت ان طلبہ کیلئے مزید ایک زبان سیکھنے اور شمالی ریاستوں کے عوام کے مماثل ہندی بولنے اور سمجھنے کا اہلیت پیدا کردے گی۔ اولیائے طلبہ کی جانب سے حکومت ہند کے احکامات پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے اور یہکہا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت کے زیر انتظام تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اس سے فائدہ ہوگا لیکن طلبہ تنظیموں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالوں سے بھی اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو انکار نہیں ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ مادری زبان اور علاقائی زبان کے تحفظ کیلئے ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ہندی کے لزوم سے علاقائی زبانوںکو نقصان پہنچے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT