Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سی رام موہن ریڈی کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

سی رام موہن ریڈی کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

بھائی کی ٹی آر ایس پارٹی میں شمولیت پر بہن ڈی کے ارونا کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانگریس کی رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر مسز ڈی کے ارونا نے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے اپنے بھائی کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔ سیاسی اغراض و مقاصد کے لیے ان کے خاندان میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے کا چیف منسٹر تلنگانہ پر الزام عائد کیا ۔ وہ آج گاندھی بھون میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی سے ملاقات کی اور اپنے بھائی اسمبلی حلقہ مکتھل کی نمائندگی کرنے والے مسٹر سی رام موہن ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر وضاحت کی ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسز ڈی کے ارونا نے کہا کہ ان کے بھائی نے کانگریس سے بے وفائی کرتے ہوئے ان کے والد کی روح کو تکلیف پہونچائی ہے ۔ انہوں نے پارٹی تبدیل کرنے والے اپنے بھائی سے فوری اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں عہدے ہی سب کچھ نہیں ہوتے ۔ وفاداری اور خدمات ہی بہت کچھ ہوتے ہیں ۔ انہوں نے ان کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس پارٹی میں برقرار رہتے ہوئے عوامی خدمات انجام دیتے رہیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اصول پسند ہے ۔ اپنے والد آنجہانی نرسی ریڈی کی وہ تقلید کرتی ہیں بھلے ہی ان کے بھائی نے کانگریس سے بے وفائی کی ہے مگر وہ کانگریس پارٹی میں برقرار رہتے ہوئے عوامی خدمات کو جاری رکھیں گی اور کانگریس پارٹی کارکن کا سہارا بن کر رہیں گی ۔ کانگریس کی رکن اسمبلی مسز ڈی کے ارونا نے کہا کہ ٹی آر ایس اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کرنے کے باوجود عوام سے کئے گئے وعدوں میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا ہے ۔ حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنی جماعت میں شامل کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہے کہ ان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی حکمران ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں چیف منسٹر کو جمہوریت پر یقین نہیں ہے ۔ ریاست سے اپوزیشن کا صفایا کرنے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے کام کررہے ہیں ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT