Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / سی پی آئی لیڈر رویندر کمار کا فیصلہ چونکا دینے والا

سی پی آئی لیڈر رویندر کمار کا فیصلہ چونکا دینے والا

رکن اسمبلی دیور کنڈہ کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر چیف منسٹر کا احساس

حیدرآباد۔/15جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دیور کنڈہ کے سی پی آئی رکن اسمبلی رویندر کمار کی ٹی آر ایس میں شمولیت کو چونکا دینے والا فیصلہ قرار دیا۔ رویندر کمار کی آج تلنگانہ بھون میں ٹی آر ایس میں شمولیت کے موقع پر چیف منسٹر نے کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ رویندر کمار بھی پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رویندر کمار کی شمولیت سے وہ لاعلم تھے۔ سابق رکن پارلیمنٹ جی ویویک کی قیامگاہ پہنچ کر میڈیا کے سامنے ٹی آر ایس میں شمولیت کے اعلان کے بعد ہی انہیں رویندر کمار کے فیصلہ کا علم ہوا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ رویندر کمار کو پارٹی میں شمولیت کیلئے انہوں نے کبھی دعوت بھی نہیں دی تھی۔ حکومت کے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کو دیکھتے ہوئے سی پی آئی رکن اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ڈنڈی پراجکٹ سے دیور کنڈہ میں پینے کے پانی کے مسئلہ کی یکسوئی ہوجائیگی اور حکومت کی اس سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے رویندر کمار نے ٹی آر ایس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ نلگنڈہ ضلع میں ترقیاتی اقدامات اور ضلع کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے سبب رویندر کمار کو ٹی آر ایس میں شمولیت کا جذبہ پیدا ہوا۔ واضح رہے کہ رویندر کمار تلنگانہ میں سی پی آئی کے واحد رکن اسمبلی تھے اور ان کی شمولیت سے اسمبلی میں سی پی آئی کا عملاً صفایا ہوگیا۔ گذشتہ دو برسوں میں بائیں بازو کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے یہ پہلے رکن اسمبلی ہیں جو بائیں بازو نظریات سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ تلنگانہ بھون میں خطاب کے دوران چیف منسٹر نے مختلف قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں سیاسی استحکام کیلئے شمولیت اختیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ صرف ٹی آر ایس کے ہاتھوں میں تلنگانہ محفوظ ہے اسی لئے ہر انتخابات میں عوام نے ٹی آر ایس کو کامیاب کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آج ٹی آر ایس پر تنقید کرنے والے اسوقت کیوں خاموش تھے جب وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو کانگریس میں شامل کیا تھا۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی سے چیف منسٹر نے سوال کیا کہ سیاسی انحراف کے مسئلہ پر دوہرا معیار کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس دیگر جماعتوں کے قائدین کو شامل کرتی ہے تو یہ فیصلہ درست اور اگر ٹی آر ایس کرے تو سیاسی قحبہ گری کیسے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد بھی تلگودیشم اور کانگریس نے مل کر ٹی آر ایس حکومت کے زوال کی سازش کی۔ ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی سازش کی گئی اس موقع پر مجلس نے ٹی آر ایس کی تائید کی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT