Friday , April 28 2017
Home / شہر کی خبریں / سی ڈبلیو سی، اے آئی سی سی ارکان مستعفی ہوجائیں

سی ڈبلیو سی، اے آئی سی سی ارکان مستعفی ہوجائیں

ملک میں کامراج منصوبہ کے مرحلہ دوم کی اشد ضرورت،ششی دھر ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) سابق وائس چیرمین این ڈی ایم اے اور سینئر کانگریس لیڈر تلنگانہ ایم ششی دھر ریڈی نے آج کہا کہ 1963میں آنجہانی شری کے کامراج نے اسوقت کے وزیر اعظم جواہرلعل نہرو اور تمام سینئر قائدین کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ وہ اپنے عہدوں سے استعفی دے دیں اور پارٹی کیلئے کام کریں۔ 1962 میں تیسری مرتبہ مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد کامراج نے کانگریس قائدین کو حکومت سے استعفی دے کر پارٹی کیلئے کام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت ایسا محسوس کیا گیا تھا کہ مسلسل اقتدار میں رہنے کی وجہ سے قائدین کے اندر خوف و احساس ختم ہوجاتا ہے۔ عوام الناس کے بارے میں ان کی سوچ زنگ آلود ہوجاتی ہے اس لئے پنڈت جواہر لعل نہرو نے کامراج کے اس نکتہ کا جائزہ لیا اور کامراج جی سے کہا تھا کہ وہ سب سے پہلے استعفی دینا چاہیں گے۔ تاہم کامراج جی نے ان کی اس رائے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ پنڈت جی کو وزیر اعظم کی حیثیت سے برقرار رہتے ہوئے دیگر قائدین کو استعفی دینا چاہیئے۔ 2014 میں انتخابی ناکامی کی روشنی میں اور اس کے بعد بعض ریاستوں میں ہونے والی سیاسی ہزیمت کے پیش نظر کانگریس پارٹی کیڈرس کے ساتھ ساتھ عمومی طور پر عوام میں کانگریس کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت تھی۔ ملک میں اس وقت بی جے پی کو چیلنج کرنے والی صرف کانگریس پارٹی ہے لہذا اس پارٹی کو کامراج منصوبہ کے مرحلہ دوم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ارکان اور اے آئی سی سی کے عہدیداروں کو نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کو استعفے پیش کرتے ہوئے انہیں کانگریس کی تنظیم جدید کی کھلی چھوٹ دی جانی چاہیئے۔ کانگریس کی تنظیم نو وقت کا تقاضہ ہے۔ قومی سطح پر پارٹی کو نئے طرز پر منظم کرتے ہوئے اس میں نئے چہروں کے ساتھ ساتھ بزرگ اور نوجوان قائدین کی ملی جلی طاقت کو مجتمع کرنے کی ضرورت ہے۔ ششی دھر ریڈی نے مزید کہا کہ پنجاب میں حالیہ کامیابی سے بھی پارٹی کو سبق حاصل کرنا چاہیئے جہاں ایک سینئر لیڈر کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے حصہ کے طور پر بہترین کارکردگی انجام دی ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں ہماچل پردیش میں شری ویر بہادر سنگھ جی نے کیا تھا۔ مسٹر ششی دھر ریڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ قومی سطح پر بعض سینئر قائدین ایک طویل عرصہ سے اپنے عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی بعض ریاستوں میں بہتر کام انجام دینے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے اندر ڈر و خوف بھی باقی نہیں رہا۔ وہ عوام الناس کے بارے میں نہیں سوچتے انہیں عوام کی فکر نہیں ہے لہذا ان قائدین کی ان کی اپنی ریاستوں کو واپس بھیج دیا جانا چاہیئے اور پارٹی کی تنظیم جدید میں ان کا تعاون لیا جائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT