Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / س80 سالہ قدیم سرکاری مدرسہ وسطانیہ ٹپہ چبوترہ کاروان کی تعمیر کا مسئلہ

س80 سالہ قدیم سرکاری مدرسہ وسطانیہ ٹپہ چبوترہ کاروان کی تعمیر کا مسئلہ

کام کب مکمل ہوگا ؟ منتخبہ عوامی نمائندوں سے عثمان الہاجری کا سوال
حیدرآباد ۔ 15 ۔ دسمبر : ( راست ) : جناب عثمان بن محمد الہاجری صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی نے کہا کہ اردو سے محبت کا دم بھرنے والے سیاسی قائدین کی لاپرواہی کی وجہ سے حیدرآباد کے قدیم اردو میڈیم اسکول جس میں تعلیم حاصل کر کے طلباء وطالبات بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے اور ملک کا نام روشن کئے ۔ اس اردو میڈیم سرکاری اسکول کی حالت زار کا آج عالم یہ ہے کہ 5 سال قبل اسکول کی عمارت کی تعمیر نو کے لیے حکومت نے زمین تو حاصل کرلی اور اس کے تعمیری کام کا آغاز تقریبا 5 سال قبل شروع بھی کردیا گیا تھا پھر اچانک کام روک دیا گیا جہاں آج کچرا ، کوڑا پھینکا جارہا ہے ۔ اس دوران اس اسکول کو جو کہ اپرپرائمری اور ہائی اسکول میں تبدیل کردیا گیا ۔ تعلیم عملہ پور کاروان میں عارضی طور پر منتقل کردیا گیا ۔ جہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات انتہائی چھوٹی عمارت ہونے کی وجہ سے کافی تکالیف کا شکار ہیں ۔ طلباء کی تعداد بھی دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے ۔ گذشتہ انتخابات میں بھی اسکول کی تعمیر کے نام پر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے ۔ جیت حاصل کرنے کے بعد وہ بھی خاموشی اختیار کرچکے ہیں، اس لیے کہ ان کی اولاد سرکاری مدرسوں میں زیر تعلیم نہیں ہے ۔ غریب عوام ان تکالیف کا شکار ہیں ۔ الیکشن قریب آچکے ہیں ۔ غریب عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین روڈ شوز کا اہتمام بڑے زور و شور سے کررہے ہیں ۔ عثمان الہاجری نے کہا کہ کاروان کی عوام کا سوال ہے کہ منتخبہ نمائندوں سے اور تمام سیاسی جماعتوں سے اس عمارت کی تعمیر کے لیے اور کتنی بار ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا ؟ ۔۔

TOPPOPULARRECENT