Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / شادیوں میں اسراف کو بالکلیہ ترک کردینے مسلمانوں کو مشورہ

شادیوں میں اسراف کو بالکلیہ ترک کردینے مسلمانوں کو مشورہ

30تا 35 سالہ 40 ہزار لڑکیاں شادیوں کی منتظر ۔ 75 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کاخطاب

حیدرآباد۔ 23 ؍ جولائی( دکن نیوز) جناب محمد محمو علی ڈپٹی چیف منسٹر حکومت تلنگانہ نے آج مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ شادیوں میں اسراف کو بالکلیہ طور پرترک کر دیں ۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہزار رہا کروڑ روپئے مسلمان اپنی شادیوں میں خرچ کرتے ہیں جس سے ان کی معیشت برباد ہور ہی ہے ۔ اسی پیسوں سے وہ مسلمانوں کو معاشی ‘ سماجی اور تعلیمی ترقی کے لئے کام کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ بننے کے بعد ایک سروے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ہماری ریاست میں تقریباً 40 ہزار لڑکیاں بن بیاہی ہیں اور اُن کی عمریں 30 تا 35 سال سے تجاوز کرچکی ہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر آج صبح ٹولی چوکی میں واقع ایس اے ایمرپیل گارڈن میں ادارہ سیاست اور مینارٹیز ڈپولیمٹ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ 75 ویں ڈائمنڈ جوبلی دو بہ دو ملاقات پروگرام کو مہمان خصوصی مخاطب کررہے تھے ۔ انہوں نے اس موقع پر دوبہ دو کے ڈائمنڈ جوبلی پروگرام پر جناب زاہد علی خان اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کے سنگین اور نازک مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جناب زاہد علی خان اور ادارہ سیاست کی کوششیں ناقابل فراموش ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ تحریک میں بھی جناب زاہد علی خان اور اخبار سیاست کا غیر معمولی رورل رہا ۔ انہوں نے تلنگانہ کے مجاہدین کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر شادی بیاہ کے معاملات میں والدین کے رویہ کے باعث معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔ شادی کو آسان بنانے اور سادگی سے انجام دینے کے بجائے جھوٹی شان و شوکت کے خاطر کئی طرح کے رسوم و رواج پیدا کر دیئے ہیں اس صورتحال کے باعث مسلم سماج کا متوسط اور غریب طبقہ مصائب و آلام سے دو چار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ حقیقی معنی میں ایک مسلم دوست چیف منسٹر ہیں ۔ جو مسلمانوں کی مجموعی ترقی کے لئے ہمیشہ مثبت اقدامات کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو اعلی عہددوں پر فائز ہونے کے لئے حکومت کی جانب سے آئی اے ایس کوچنگ کاآغاز کیا گیا ہے تاکہ نوجوان سیول سرویس امتحان میں کامیاب بھی حاصل کریں اور اپنے معاشرہ کو غربت اور افلاس اور سماجی پسماندگی سے نجات دلواسکے ۔ جناب محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت کی اسکیمات سے مسلمان استفادہ کریں اور اپنی کمائی کو اپنے خاندان اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں ۔ انہوں نے کہا اقامتی اسکولس کا سارا خرچ حکومت برداشت کر رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ہمیشہ اردو زبان کے ساتھ انصاف کیا ہے چنانچہ امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو میڈیم کو بحال کرنے کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے خصوصی توجہ دی اور اردو والوں کے اس سنگین مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا گیا ۔ جناب محمو علی نے اس موقع پر بانی روزنامہ سیاست جناب عابد علی خان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کے سی آر کے قریبی ساتھیوں میں تھے ۔ انہوں نے کئی امور میں ان سے صلاح و مشورہ کیا اور مجھے خوشی ہے کہ جناب زاہد علی خان نے اس وراثت کو قائم رکھا ہے ۔ اور وہ بھی قوم و ملت کی ترقی اور کامیابی کے سلسلہ میں پوری طرح سرگرم ہیں۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے اپنی صدارتی خطاب میں کہاکہ دوبہ دو ملاقات پروگرام کے ذریعہ تقریباً 11 ہزار سے زائد شادیاں طئے پا چکی ہیں اور آج بیرونی ملکوں میں بھی دو بہ دو پروگرام کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ شادیوں میں غیر ضروری مسائل اور فضول خرچی سے پرہیز کریں ۔ ان حالات کے پیش نظر سیاست نے ایک کھانا اور ایک میٹھا کی تحریک شروع کی تھی جس کے کامیاب نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے بدلتے ہوئے حالات کو محسوس کریں اور اپنے معاملات زندگی میں کفایت شعاری اور سمجھداری کو اختیار کریں ۔ اسی صورت میں وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کے ذریعہ غریب لڑکیوں کی شادیوں کو ممکن بنایا ہے ۔ اور اس امداد میں 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپئے کر دیا ہے جو حکومت کا غیر معمولی اور فراخدلانہ اقدام ہے۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ لڑکے والوں کی جانب سے مطالبات کی لعنت معاشرہ میں عام ہوتی جا رہی ہے ۔ لڑکی کے ماں باپ کو چاہئے کہ وہ مطالبات کو رد کریں تب ہی معاشرہ میں انقلابی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ والدین ایک لڑکی کی شادی پر لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہیں۔(سلسلہ صفحہ 8 پر )

 

TOPPOPULARRECENT