Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / شادیوں میں لین دین معاشرہ کی سب سے بڑی لعنت ‘ خاتمہ ضروری

شادیوں میں لین دین معاشرہ کی سب سے بڑی لعنت ‘ خاتمہ ضروری

روزگارڈن فنکشن ہال میں 76 واں دوبہ دو ملاقات پروگرام ‘سابق رکن پارلیمان سیدعزیز پاشاہ کا خطاب

حیدرآباد ۔ 13 اگسٹ ( دکن نیوز) جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمان نے کہا کہ مسلم شادیوں میں جہیز کی مانگ اور لین دین معاشرہ کی سب سے بڑی لعنت ہے ۔ اس سلسلہ کو اب ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ جناب سید عزیز پاشاہ آج ادارہ سیاست اور میناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام روزگارڈن فنکشن ہال چمپا پیٹ میں منعقدہ 76 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام کو بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب کر رہے تھے۔ انہوں نے کاکہا کہ مسلم معاشرہ میں طلاق ‘ خلع کے بڑھتے ہوئے واقعات افسوسناک ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ویمن پولیس اسٹیشن اور کریمنل کورٹس میں 60% فیصد برقعہ پوش خواتین موجود رہتی ہیں ۔ اس صورتحال کے لئے بعض والدین ذمہ داری ہیں ۔ لین دین کے ساتھ ساتھ شوہر اور بیوی کے اختلافات اور ساس و بہو کے جھگڑے عام ہوتے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ سے ان برائیوں کو ختم کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملت کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ خدمت سے زیادہ اپنے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر ادارہ سیاست کی ملی خدمات کو مسلم معاشرہ کے لئے ایک عظیم اصلاحی انقلاب قرار دیا اور کہا کہ شادی تقاریب میں کئی مسلم والدین اسراف اور فضول خرچی کرتے ہوئے اپنی ذاتی معیشت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اجتماعی معیشت کو بھی تباہ کر رہے ہیں ۔ نام و نمود ‘ جھوٹی شان اور دکھاوے کی خاطر انہیں تقاریب کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ جس کے نتائج بھیانک اور سنگین صورتحال میں منظر عام پر آ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں میں نظم و ضبط اور مہمان نوازی کا رجحان اب مفقود ہو رہا ہے ۔ دلہے کی بارات 11 بجے کے بعد شادی خانہ پہنچتی ہے اور لوگ بھوکے پیٹ انتظار کرتے رہتے ہیں ۔ اب تو کئی شادیوں پر بینڈ باجہ اور دیگر خرافات کی وجہ سے پولیس کے دھاوے ہونے لگے ہیں جو ہمارے لئے باعث شرم ہے ۔جناب عزیز پاشاہ نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں غریب اور متوسط طبقات شدید بحران سے دو چار ہیں ۔ کئی مسلم نوجوان بے روزگار ہیں انہیں بینکوں سے قرضے نہیں ملتے ۔ اور قرض ملتا بھی ہے تو سخت سے سخت شرائط عائد کی جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دولتمند ‘ صنعتکاروں کے ایک لاکھ بارہ ہزار کروڑ روپئے کا قرضہ معاف کیا ہے اور غریبوں کے قرضوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی ۔ انہوںنے کہا کہ جو لوگ ووٹ کی ٹھیکداری کرتے ہیں وہ عوام کی خدمت کیا سمجھ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ان حالات میں اقلیتوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی طرف توجہ دیں ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے صدارت کی ۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ نکاح کو آسان بنانے کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ ہم لڑکے یا لڑکی کے انتخاب کے سلسلہ میں دینداری کو انتخاب کا معیار بنائیں ۔ دولت اور حسن و جمال کے ذریعہ خوشگوار زندگی کی ضمانت حاصل نہیں ہوتی ۔ ہم اپنی اولاد کی شادیوں میں دوسروں کی نقل کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں خواہ لڑکے یا لڑکی کا انتخاب ہو یا پھر تقاریب کا اہتمام ۔ اسراف اور فضول خرچی نے ہماری کمر توڑ کر رکھی ہے ۔ قیمتی شادی خانوں بیانڈ باجہ ‘ اور انتہائی پر تکلف لوازمات کے ذریعہ ہم غیر مسلموں کو یہ پیام دے رہے ہیں کہ مسلمان اپنے مذہب کے وفادار نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جناب زاہد علی خان کی قیادت میں ایک کھانا ہم کو بڑے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں ‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر خاندان اس رجحان کو اختیار کرلیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست و ایم ڈی ایف ڈی کی جانب سے عنقریب لڑکی اور لڑکے کے والدین شادی سے پہلے کونسلنگ کا آغاز ہوگا ۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ایک صحتمند مسلم معاشرہ کی تشکیل میں اپنا حصہ ادا کریں ۔ جناب سید اصغر حسین نے جلسہ کی کارروائی چلائی ۔ قاری سید الیاس باشاہ کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ جناب احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالتؐ میں ہدیہ نعت پیش کیا ۔ اس موقع پر جناب ایم اے قدیر آرگنائزنگ پریسڈنٹ ‘ جناب میر انورالدین ‘ ڈاکٹر ایس اے مجید ‘ ڈاکٹر ایوب حیدری ‘ سید ناظم الدین ‘ محمد شاہد حسین ‘ اے اے کے امین ‘ محمد برکت علی ‘ ڈاکٹر ناظم علی ‘ ڈاکٹر سیادت علی ‘ کوثر جہاں ‘ محمد احمد ‘ خدیجہ سلطانہ ‘ شبانہ نعیم‘ لطیف النساء ‘ فرزانہ ‘ آمنہ فاطمہ ‘ ثناء‘ثانیہ ‘ تسکین ‘ امتیاز ترنم خان ‘ افسر بیگم ‘ محمد نصراللہ خان ‘ شاہد حسین ‘ ریحانہ نواز ‘ مہر النساء ‘ صالح بن عبداللہ باحاذق اور دوسرے بھی موجو د تھے ۔ جناب ایم اے قدیر نے انتظامات کی نگرانی کی ۔ جناب محمد بشیر علی پروپرائیٹر روز گارڈن فنکشن ہال نے ایم ڈی ایف کے کارکنوں کے علاوہ والدین اور سرپرستوں کے لئے خصوصی سہولتیں فراہم کیں ۔ دوبہ دو ملاقات پروگرام میں مختلف زمروں کے 8 کاؤنٹرس بنائے گئے تھے جن میں انجنیئرنگ ‘ میڈیسن ‘ پوسٹ گریجویٹ ‘ گریجویٹ ‘ انٹر اور ایس ایس سی ‘ عقدثانی ‘ تاخیر سے شادی ‘ معذورین اور دیگر زمروں کے کاؤنٹرس بنائے گئے ۔ اس کے علاوہ 10 کمپیوٹرس پر مشتمل کمپیوٹر سسٹم کی مدد سے والدین نے اسکرین پر لڑکوں کے بائیوڈاٹاس کا مشاہدہ کیا۔ ادارہ سیاست کی جانب سے سیاست میٹری ڈاٹ کام کا کاؤنٹر بھی لگایا گیا ۔ جناب عابد صدیقی نے آخر میں روزگارڈن فنکشن ہال کے انتظامیہ بالخصوص جناب محمد شبیرعلی ‘ جناب محمد اقبال علی اور اسٹاف کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ۔ اس کے علاوہ محکمہ پولیس ‘ اخبارات ،محکمہ بلدیہ کے تعاون پر اظہار تشکر کیا ۔ آج دوبہ دو ملاقات پروگرام لڑکوں کے 86 اور لڑکیوں کے 160 پیامات کا رجسٹریشن کروایا گیا ۔ جناب سید اصغرحسین نے کارروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT