Tuesday , August 22 2017
Home / آپ کے سوال / شادی اور ولیمہ ایک ہی دن

شادی اور ولیمہ ایک ہی دن

سوال : قرآن و حدیث کی روشنی میں ولیمہ کا مفہوم کیا ہے ۔ دیکھا گیا کہ شادی دن میں ظہر کی نماز سے قبل اس کے بعد ولیمہ کی ضیافت کی جاتی ہے ۔ دعوت ولیمہ اور شادی ایک ہی دن کرنا کیا صحیح ہے ؟ رہنمائی فرمائیے ۔
محمو وجیہہ الدین، کنگ کوٹھی
جواب : شادی کی خوشی میںجو دعوت کی جاتی ہے اس کو ولیمہ کہتے ہیں اور کتاب ’’ المغرب‘‘ میںہے کہ زفاف کے کھانے کو ولیمہ کہا جاتا ہے ۔ ’’ الولیمۃ والعرس ھما جمیعاً طعام الزفاف و قیل : الولیمۃ اسم لکل طعام ‘‘ ۔ مغرب ج : 2 ، ص : 363 ۔ جمہور علماء کے نزدیک ولیمہ مسنون ہے اور اس کا اہتمام کرنا باعث اجر و ثواب ہے ۔ دولہا دلہن کے ملاپ کے بعد پڑوسی ، رشتہ دار و دوست احباب کو دعوت دینا اور ان کے لئے کھانے کا انتظام کرنا چاہئے۔
و ولیمۃ العرس سنۃ و فیھا مثوبۃ عظیمۃ و ھی اذا بنی الرجل بامراتہ ینبغی ان یدعو الجیران و الأقرباء والا صدقاء و یذبح لھم و یصنع لھم طعاما ، عالمگیری ج : 8 ، ص : 343 ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے کہ آپ نے بعد زفاف دوسرے دن ولیمہ فرمایا ۔ المنقول من فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم انھا بعدالدخول لقولہ : اصبح عروسا بزینب فدعا القوم (نیل الاوطار ۔ 167/2 ) عالمگیری ج : 8 ، ص : 343 میں ہے کہ ولیمہ تین دن تک کیا جاسکتا ہے اور شادی کے دن تنہائی میں میاں بیوی کے ملنے کے بعد بھی ولیمہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ ’’ ولا بأس بان یدعو یومیئذ من الغد و بعد الغد ثم ینقطع العرس والولیمۃ۔

مرد و زن کی مخلوط دعوت میں شرکت
سوال : مسلمان بھی مغربی تہذیب کی قدم بہ قدم پیروی کر رہے ہیں، دعوتوں اور ضیافتوں میں ان کے طور طریق کو صد فیصد اختیار کرتے جارہے ہیں، آج کل دعوتیں بڑی بڑی ہوٹلوں میں ہورہی ہیں، جہاں مرد و خواتین یکساں طورپر رہتے ہیں، حجاب و پردہ کا کوئی اہتمام نہیں رہتا، رشتہ دار غیر رشتہ دار ، دوست احباب سب اپنے اہل و عیال کے ساتھ بے پردہ آتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں ۔ ایسی دعوتوں میں دانشوران قوم و عمائدین ملت بھی شریک ہوتے ہیں۔ اس قسم کی دعوت کرنے کو بڑا فخر محسوس کیا جارہا ہے، اعلیٰ تہذیب ، اونچی سوسائٹی کا شعار سمجھا جارہا ہے۔ کیا ایسی دعوتوں میں مسلمانوں کو شریک ہونا چاہئے یا نہیں اور مسلمان کا اس قسم کی دعوت کا ا ہتمام کرنا کیسا ہے۔
نصرت محی الدین، مستعدپورہ
جواب : محرم و غیر محرم مرد کے ساتھ عورتوں کا مخلوط اجتماع، احکام شریعت کے خلاف ہے۔ صورت مسئول عنہا میں مذکور طریقہ کی دعوت کرنا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ لہذا عام مسلمان کو ایسی دعوت میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔ بالخصوص مقتداء حضرات کے لئے اجتناب لازم ہے۔
کرایہ کو زکوۃ میں ضم کرنا
سوال : میں جس گھر میں مقیم ہوں اس سے متصل ایک سفالی مکان تھا جس کو میں خریدلیا لیکن وہ رہائش کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ اس کا کرایہ تقریباً بارہ سو روپئے آسکتا ہے۔ اور میں اس میں کسی کو کرایہ پر بھی رکھنا نہیں چاہتا ۔ ہمارے پاس ایک خاتون کام کرتی ہے، اس کا شوہر اس کو چھوڑ چکا ہے ، اس کے دو بچے ہیں۔ کیا ہم اس عورت کو اس مکان میں رہنے کی اجازت دیکر اس سے کرایہ حاصل کئے بغیر تقریباً ایک ہزار روپئے ہم پر فرص شدہ زکوٰۃ میں شامل کرسکتے ہیں ۔ اگر اس طرح رخصت ہو تو بہتر ہوگا۔
محمد سبحان، کاروان
جواب : زکوٰۃ میں مستحق زکوۃ کو مال کا مالک بنانا لازم ہے ۔ اس لئے اگر کوئی شخص کسی محتاج و ضرورتمند کو اپنے گھر میں زکوۃ کی نیت سے سکونت فراہم کرے تو یہ اس کی طرف سے زکوۃ کے لئے کافی نہ ہوگا ۔ البحرالرائق جلد 2 ص : 353 میں ہے : الزکاۃ لاتتأدی الا بتملیک عین متقومۃ حتی لواسکن الفقیر دارہ سنۃ بنیۃ الزکاۃ لا یجزئہ لان المنفعۃ لیست بعین متقومۃ۔
پس صورت مسئول عنہا میں آپ گھر کی خادمہ کو اپنے مکان میں زکوۃ کی نیت سے سکونت فراہم کریں تو شرعاً زکوۃ ادا نہ ہوگی۔

قبرستان میں دنیوی گفتگو کرنا
سوال : عموماً نماز جنازہ کے لئے وقت باقی رہے تو لوگ گفتگو کرتے ہیں اور قبرستان میں میت کے قریبی عزیز و اقارب تدفین میں مصروف رہتے ہیں اور دیگر رشتہ دار و احباب باتیں کرتے رہتے ہیں، وہ بھی دنیا کی باتیں کرتے ہیں۔
آپ سے معلوم کرنا یہ ہے کہ ایسے وقت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ کوئی خاص ذکر اس وقت مسنون ہے تو بیان کیجئے ؟
محمد برہان الدین مراد نگر
جواب : نماز جنازہ میں شرکت کرنا تدفین میں شریک رہنا موجب اجر و ثواب ہے۔ اسی طرح کسی کا انتقال کرجانا دنیا کی بے ثباتی پر دلالت کرتا ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اس دنیا سے رخصت ہونا ہے اور ہمارے بدن میں موجود ہماری روح ایک دن اس بدن کو چھوڑ کر روانہ ہوجائے گی پھر اس جسم میں کوئی حس و حرکت باقی نہیں رہے گی۔ اور وہ شخص جو مانباپ کا منظور نظر تھا ، اولاد کا محبوب تھا، دوست و احباب کا دلعزیز تھا ، وہی ماں باپ ، اولاد ، دوست و احباب اس کے بے جان جسم کو جلد سے جلد زمین کے نیچے کرنے کی فکر کریں گے اور اس کے بعد کے منازل اس کو اکیلے ، تنہا طئے کرنے ہوں گے ۔ اس کے ماں باپ ، اولاد ، دوست و ا حباب ، رشتہ دار قبر تک ساتھ آئیں گے پھر واپس چلے جائیں گے ۔ قبر میں تنہا چھوڑ جائیں گے۔ نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مونس پاس ہوگا ۔ بس وہ ہوگا ، اس کے اعمال ہوں گے اور خدا کا فضل ہوگا ۔ اسی بناء پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور کی تر غیب دی کیونکہ اس سے آخرت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی ہے۔
بناء بریں حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص : 401 میں ہے : جنازہ کے ساتھ جانے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے اور غور و فکر کرے کہ میت کو کیا حالات درپیش ہوں گے اور اس دنیا کے انجام و نتیجہ پر غور کرے اور اس موقعہ پر بالخصوص لا یعنی بے فائدہ گفتگو سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ ذکر و شغل اور نصیحت حاصل کرنے کا وقت ہے ۔ تاہم بلند آواز سے ذکر نہ کرے اور ایسے وقت میں غافل رہنا نہایت بری بات ہے اور اگر وہ ذکر نہ کرے تو اس کو خاموش رہنا چاہئے ۔ وفی السراج یستحب لمن تبع الجنازۃ ان یکون مشغولا بذکراللہ تعالیٰ والتفکر فیما یلقاہ المیت وان ھذا عاقبۃ أھل الدنیا ولیحذر عمالا فائدۃ فیہ من الکلام فان ھذا وقت ذکر و موعظۃ فتقبح فیہ الغفلۃ فان لم یذکراللہ تعالیٰ فلیلزم الصمت ولا یرفع صوتہ بالقراء ۃ ولا بالذکر۔

فتویٰ کو نہ ماننا، شریعت کی تو نہیں ہے؟
سوال : (1 فتویٰ کی اہمیت کیا ہے۔ (2) فتویٰ کس حد تک پابند ہوتا ہے ؟ (3) کیا فتویٰ قابل عمل ہے ؟ (4) اگر کسی فتویٰ پر عمل نہ کیا جائے تو اس کا مذہبی رد عمل کیا ہوگا ۔ (5) اگر فتویٰ پر عمل نہ کیا جائے تو دوسرا اقدام کیا کیا جاسکتا ہے؟ (6) اگر فتویٰ کا احترام نہ کیا جائے تو شریعت کا کیا حکم ہے ؟
نام …
جواب : کسی بھی مسئلہ کے شرعی حکم یا اس مسئلہ کے حل کا نام ’’ فتویٰ ‘‘ ہے جو سوال کی صحت پر موقوف ہوگا۔ (2) فتوی فقہ (جو قرآن ، حدیث اور اجماع و اجتہاد) سے حکم شرعی کے مطابق ہوتا ہے۔ ( 3 تا 5) اگر انسان کے ذاتی عمل سے متعلق ہے (جیسے صحت نماز) تو مستفتی کو اس پر عمل کرنا چاہئے ورنہ وہ عنداللہ ماخوذ ہوگا اور کسی دوسرے کے حقوق سے متعلق ہے تو اس پر عمل نہ کرنے کی صورت فریق ثانی کو یہ حق ہے کہ حاکم مجاز سے رجوع ہو۔ (6) فتویٰ چونکہ حکم شرعی ہے، اس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ اس کی توہین سے شریعت کی توہین ہوگی جس میں کفر کا اندیشہ ہے۔

اجتھاد
سوال : جاننا چاہتا ہوں کہ اجتہاد کیا ہے ۔ اس کے معنی اور مطلب کیا ہے اور اس پر کب اور کیسے عمل کیا جاسکتا ہے ۔ مہربانی فرماکر اجتہاد کے بارے میں مکمل تفصیل، شرعی اعتبار اور احکامات کے مطابق ارشاد فرمائیں تو ممنون رہوں گا ؟
حافظ محمد سرفراز احمد، نامپلی
جواب : اجتھاد ، جھد سے ماخوذ ہے جس کے معنی کوشش کرنا ، مشقت اٹھانا ہے۔ اصطلاح میں اجتھاد (حکم شرعی کو معلوم کرنے کے لئے فقیہ کی تابحد امکان کوشش کرنے کا نام اجتھاد ہے ۔ اجتھاد ، قرآن سے ہو یا سنت سے اس کا درجہ قیاس ہے ۔ مجتھد وہ شخص کہلاتا ہے جو قرآن و حدیث سے جدوجہد کر کے ذاتی طور پر حکم شرعی کو متعین کرتا ہے اور مقلد جو کسی مجتھد یا امام کے قول کو دلیل کے بغیر تسلیم کرلیتا ہے ۔
اجتھاد کی بنیاد یہ آیت شریفہ ہے ۔ والذین جاھدوا فینا لنھد ینھم سبلنا ۔ (وہ لوگ جو ہم میں اجتھاد کئے ہم ضرور ان کو ہمارے راستوں کی رہنمائی کریں گے ۔ چنانچہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل کو یمن کا والی مقرر کیا تو ارشاد فرمایا ’’ تم فیصلے کس طرح کرو گے ۔ انہوں نے عرض کیا ’’ کتاب اللہ ‘‘ سے ۔ فرمایا اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے۔ عرض کیا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس میں بھی نہ پاؤ تو کیا کروگے ۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے جواب دیا ’’ میں اپنی رائے سے اجتھاد کروں گا‘‘۔
اس سے واضح ہے کہ اجتھاد امت کی ایک مستقل ضرورت ہے کیونکہ قرآنی آیات اور احادیث شریفہ محدود ہیں اور عوام الناس کے مسائل و حالات ان گنت ہیں۔ ایسی صورت میں اجتھاد کی ضرورت درکار ہے ۔ ورنہ شریعت میں تعطل لازم آئے گا۔
اہلسنت والجماعت کے نزدیک مجتھد مطلق کا درجہ چار ائمہ کرام حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ، حضرت امام مالک حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل علیھم الرحمتہ والرضوان کو حاصل ہے۔ ممکن ہے اور مجتھد مطلق گزرے ہوں لیکن ان کی فقہ ائمہ اربعہ کی طرح مدون و مرتب نہیں ہوپائی۔ اکثر و بیشتر فقہاء مجتھدین ایسے گزرے ہیں جو اصول میں کسی نہ کسی امام کے پابند رہے۔ البتہ فروع و جزائیات میں آزاد۔
اجتھاد ہر کس و ناکس کا کام نہیں بلکہ یہ فقیہ کا عمل ہے ۔ جب کوئی نیا مسئلہ در پیش ہوتا ہے تو فقیہ اپنی رائے سے قرآن و حدیث صحابہ کرام و ائمہ سلف کے اقوال کی روشنی میں اجتھاد کرتا ہے اور یہ اجتھاد خطا سے محفوظ نہیں رہتا۔ غلطی کا امکان برقرار رہتا ہے ۔ البتہ بصورت صواب و درستگی مجتھد دوہرے اجر کا مستحق قرار پاتا ہے اور بصورت خطا اپنے اجتھاد پر ایک اجر کا حقدار ہوتا ہے ۔ اجتھاد ایک عظیم فن ہے جس کے لئے فقیہ کا قرآن و سنت اقوال صحابہ ، فقہاء کے اقوال کے علاوہ اپنے زمانے کے احوال و ظروف سے واقف ہونا ضروری ہے ۔ کسی مسئلہ کے استنباط و استخراج کے اعلیٰ درجہ کی عقل اور اونچے درجہ کی فہم درکار ہوتی ہے اور یہ عام آدمی توکجا کسی جید عالم کا بھی منصب نہیں۔ (تفصیلات کیلئے دیکھئے رسم المفتی لابن عابدین شرح عقائد نسفی۔ الورقات فی اصول الفقہ للجوینی۔ اعلام الموقعین لابن قیم)

TOPPOPULARRECENT