Saturday , October 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / شادی بیاہ… اسلامی نقطۂ نظر

شادی بیاہ… اسلامی نقطۂ نظر

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

عفت وعصمت ایک اعلی قدرہے۔ اسلام نے اس کی حفاظت کیلئے نکاح کو حصاربنایا ہے ،نکاح کی وجہ معاشرہ کی پاکیزگی برقراررہتی ہے،اسلام نے نکاح میں دین داری کوقابل ترجیح قراردیا ہے ۔نبی اکرم ﷺ کا ارشادپاک ہے ’’نکاح چاربنیادوں پر کیا جاتاہے ،مال و متاع کی بنیادپر،حسن وجمال کی بنیادپر،حسب ونسب کی بنیادپر،دین داری،تقوی وپرہیزگاری کی بنیادپر۔دین داری کی بنیادپر نکاح انجام دیکرکامیابی حاصل کر و ‘‘اسلام رہبانیت کو پسندنہیں کرتاکیونکہ طریقہ رہبانیت انسانی فطرت کے خلاف ہے ،اور اس بات بھی پسندنہیں کرتا کہ جائز فطری خواہشات کی تکمیل کے لئے اسلام کے بنائے گئے نظام نکاح کو رسوم ورواجات کے بندھنوں میں جکڑدیا جائے،اسلامی نقطئہ  نظر سے نکاح ایک آسان عمل ہے اوراس کوایساہی آسان رکھے جانے میں عافیت ہے ،نکاح کوجس قدرآسان بنایا جائے اسی قدرزنا مشکل ہوجائے گا،نکاح کواگرغیراسلامی رسوم ورواجات اختیارکرکے مشکل کردیا جائے تو زناآسان ہو جائے گا۔موجودہ دورمیں ان ہی غیراسلامی رسوم ورواجات نے نکاح کومشکل کردیاہے ،کہ جس کی وجہ زناکے راستے آسان ہوگئے ہیں ،حدیث پاک میں واردہے ’’عورت کا مبارک وبابرکت ہو نایہ ہے کہ اسکی منگنی کے پیغام میں آسانی ہو اوراس کا مہرکم ہو اورجلد اولادپیداہو‘‘۔کنزالعمال کی ایک حدیث پاک میں ارشادہے’’ بہترین عورتیں وہ ہیں جن کے مہرہلکے پھلکے ہوں ‘‘  اسلام جب مہرکے آسان ہونے کوپسندکرتا ہے توپھرنکاح وولیمہ کے انعقادمیں غیراسلامی رسوم ورواجات اختیارکرکے زیربارہونے کوکیسے پسندکرسکتاہے ،شادی جتنی سادی ہو وہ بابرکت ہے حدیث پاک میں وارد ہے ’’وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے جس میں اخرجات کم سے کم ہوں‘‘ ۔مسنداحمدرقم الحدیث: ایک بزرگ کا قول ہے لفظ’’ شادی‘‘ کی شین سے تین نقطے الگ کردیں یعنی شادی کو ’’سادی ‘‘ بنائیں۔

نکاح میں دین داری کو ترجیح نہ دینے کی وجہ مسلم معاشرہ مسائل ومشاکل سے درچارہے ،لڑکی والے اورلڑکے والے ہردودین دارگھرانے کا انتخاب کریں ،لڑکا اورلڑکی کے انتخاب میں دین داری کوترجیح دیں ،یہی وہ کامیابی کارازہے جس کو ملت اسلامیہ کے اکثراصحاب نے فراموش کردیاہے ۔اوراسی وجہ سے مسلم سماج مشکلات کا شکارہے ،۱۱ جنوری کے اخبارسیاست میں یہ خبرشائع ہوئی کہ سلطنت عمان کا ایک شہری کا نکاح حیدرآبادکی ایک ۲۸ سا لہ خاتون کے ساتھ ہوا،نکاح کے بعد جب وہ لڑکی اپنی شوہرکے ساتھ سلطنت عمان پہنچ گئی وہاں جاکراسے پتہ چلا کہ اپنے آپ کو دولت مندظاہرکرکے نکاح کرنے والادھوکہ بازکوئی دولت مند شیخ نہیں بلکہ گداگرہے ۔مذکورہ لڑکی نے اس کی اطلاع اپنے والدین کو دی  والدکی شکایت پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرکے ملزمہ خاتون بروکرکوتحقیقات کے درمیان گرفتارکرلیا گیاہے ۔

حیدرآبادکے کئی غریب خاندان نارواحرص ولالچ میں آکردھوکہ دہی کا شکارہوتے رہے ہیں اوراپنی لڑکیوں کا نکاح معمرعرب شیوخ سے کرکے سخت پریشان ہوئے ہیں ۔ان واقعات کی کثرت کی وجہ حکومت نے بھی اس مسئلہ میں خصوصی دلچسپی لیکرشہریوں کودھوکہ کھانے سے بچانے کیلئے سخت قوانین مدون کئے ہیں ۔لیکن اسکے باوجود بعض متوسط اورغریب شہری اس دھوکہ دہی کا شکارہوتے جارہے ہیں ،اس جیسے واقعا ت میں لڑکی والوں کے پیش نظرعام طورپردوچیزیں ہواکرتی ہیں ،ایک تولین دین اورجہیز کی مانگ جس کے غریب بلکہ متوسط گھرانے بھی متحمل نہیں ،دوسری وجہ خوش حالی اورمالی مشکلات کی دوری کے وہ سنہرے خواب ہوتے ہیں جن کو ایجنٹ حالت بیداری میں دکھایا کرتے ہیں جبکہ ان کی تعبیر الٹی نکلتی ہے ،دھوکہ دہی کے ساتھ کئے جانے والے نکاح کا شہرہ اس قدرزیادہ اورمتحقق ہے جیسے دن میں سورج کا نکلنا۔دھوکہ دہی کی ایک اورخبربھی ۱۱؍جنوری کے اخبارات میں شائع ہو ئی ہے ، ایک مقامی فردنے جوپہلے ہی سے شادی شدہ جس کا پہلی بیوی سے خلع ہوچکاہے نے اپنی پہلی شادی کورازمیں رکھ کراوراپنا غیرشادی شدہ ہونا ظاہرکرکے ایک مسلم گھرانے کی لڑکی سے دھوکہ دیکر رشتہ طے کرلیا لڑکی کی والدنے وسط نومبرمیں رسم کی تقریب منعقدکی جس میں مہانوں کی ضیافت کے ساتھ لڑکے کو۶ہزارمالیتی دستی گھڑی تحفے میں دی ، ماہ دسمبرکے دوسرے ہفتے میں جوڑے کے نام سے ڈھائی لاکھ روپیے کی رقم اداکی گئی ،جاریہ ماہ جنوری کی ۳/ تاریخ کوتخمینی دولاکھ کافرنیچر،۵۱ ہزارسے زائد رقم کی الکٹرانک اشیاء اوردیگرسازوسامان پرمشتمل مالیتی ڈیڑلاکھ لڑکے کے گھرپہنچا دیا ۴؍ جنوری کو آغاپورہ فنکشن ہال میں رسم سانچق کی تقریب منعقد کی گئی  جس پر ۸۰ ہزارروپیے کے مصارف عائد ہوئے ۵؍ جنوری کو منعقد ہونے والی شادی کی تیاری میں دولاکھ روپیہ خرچ کئے گئے تھے اس طرح تخمینی جملہ کچھ کم سات لاکھ روپیے خرچ ہوئے ۔لیکن یہ شادی اپنے اچھے انجام کوپہنچنے سے پہلے ہی برے انجام  سے درچارہو گئی ۔اس واقعہ میں دوچیزیں قابل توجہ ہیں ،ایک تو بغیرکسی شدید تحقیق کے رشتہ طے کرلینا، دوسرے شادی بیاہ میں لاکھوں روپے کے اخرجات کابار برداشت کرنا۔ان جیسے واقعات سے ملت اسلامیہ کوسبق سیکھنا چاہئے ،رشتہ کرنے میں جانے بوجھے ، دیکھے بھالے دین دارگھرانوں میں رشتہ کرنا ۔دوسرے نکاح کے انعقادمیں زرکثیرخرچ کرنے سے سخت احتراز برتنا ۔بھلے ہی لڑکے کی معاشی حالت کمزورہو کیونکہ شادی کی کامیابی میں لڑکے کا دولت مندہونا کامیابی کاضامن نہیں ۔بلکہ اس کا دین دار،حسن اخلاق کاپیکر گوکہ غریب ہواوروہ محنتی وجفاکش ہو نکاح وشادی کی کامیابی کی ضمانت دے سکتاہے ۔ تونگری وغناء ،غربت وتنگی اللہ کی طرف سے ہے ،دولت آنی جانی چیزہے، کوئی تونگرکب محتاج ہو جائے اورکوئی غریب کب صاحب ثروت بن جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا ،اللہ سبحانہ جس کیلئے چاہتے ہیں روزی کو کشادہ فرما دیتے ہیں اورجس کیلئے چاہے تنگ فرمادیتے ہیں ۔(الزمر/۵۲) چونکہ رزق کے خزانے اس کے دست قدرت میں ہیں ،وہ جس کو چاہتاہے اورجتنا چاہتاہے اپنے خزانوں سے عطافرماتاہے ،اس طرح رزق کی تقسیم میں اس کی حکمت کی صدہا نشانیا ں پوشیدہ ہیں ۔

اللہ سبحانہ نے نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے ارشادفرمایا ’’تم ان کا نکاح کرادوجوتم میں بے نکاح اورجو نیک ہیں تمہارے غلاموں اورباندیوں میں اگروہ تنگ دست اورمحتاج ہوں تو اللہ سبحانہ اپنے فضل سے ان کو غنی اوربے نیاز کردیگا، اللہ سبحانہ وسعت والااورجاننے والاہے- (النور۔۳۲) اسلام دین فطرت ہے معاشرہ کو بے حیائی سے بچانے اوراس کو پاکیزہ بنائے رکھنے میں اپنی بڑی دلچسپی رکھتا ہے ،اس ہدف کی تکمیل کیلئے جو تعلیمات پیش کرتاہے وہ اس قدرسادہ اورقابل عمل ہیں کہ اس پر عمل کرنے میں ہی انسانی معاشرہ کی ساری مشکلات اوراس کے مصائب کا صحیح حل ہے، معاشرہ میں اکثر غربت ومعاشی تنگ حالی انعقادنکاح میں رکاوٹ مانی جاتی ہے، رشتہ کے انتخاب میں لڑکی والے کسی متمول لڑکے کی تلاش وجستجومیں رہتے ہیں ،لڑکے والے بھی کسی مالدارگھرانے کی لڑکی سے رشتہ کرنے کی جستجومیں لگے رہتے ہیں ،تاکہ خوب دام دہیزملے اوروارے نیارے ہو جائیں ۔اللہ کے پیارے نبی ﷺ نے بھی شادی کے ذریعہ غناء تلاش کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ التمسواالغنی فی النکاح۔(ابن کثیر ۳/۲۸۶) سیدنا صدیق اکبرؓ فرماتے ہیں ’’اللہ سبحانہ نے نکاح کرنے کا جوحکم دیا ہے تم اس کی اطاعت کرواس نے تمہیں غنی کرنے کا جووعدہ فرمایا ہے وہ اسے پورافرمائے گا‘‘ مسلم معاشرہ کی کامیابی اسی میں ہے کہ نکاح کے بارے میں ہردوجانب دین داری کالحاظ رکھاجائے ،رشتہ کے انتخاب میں لڑکی یا لڑکے والوں کی معاشی تنگی کو خاطرمیں نہ لایا جائے ،غیراسلامی رسوما ت لین دین رقم جوڑا،جہیز سانچق،مہندی،چوتھی اور ان جیسے رسومات کے انعقاداور ان میں اہتمام طعام نیزشادی وولیمہ کی تقاریب میں مہما نوں کی ضیافت کیلئے کھانے کے انتظام میں فضول خرچی واسراف اوردیگرغیراسلامی رسوم ورواجات سے اپنا دامن بچایا جائے ۔ اس خصوص میں محترم نواب زاہدعلی خان صاحب نے تقاریب نکاح وولیمہ کو سادگی سے منعقد کرنے کی جومہم شروع کی ہے اس کوروبہ عمل لانے میں تعاون عمل کریں۔

TOPPOPULARRECENT