Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی تقاریب میں محدود خرچ پر لوک سبھا میں خانگی بل کی پیش کشی

شادی تقاریب میں محدود خرچ پر لوک سبھا میں خانگی بل کی پیش کشی

ایوان میں مباحث کا امکان ، حیدرآباد کی پرتعیشات شادیوں کا قومی سطح پر تذکرہ ، بہار کی کانگریس ایم پی کی مساعی
حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) ملک بھر میں شادی کی تقاریب پر خرچ اور مہمانوں کی تعداد پر حد کے نفاذ کیلئے کانگریسی رکن پارلیمنٹ محترمہ رنجیت رنجن نے لوک سبھا میں خانگی بل پیش کیا ہے جس پر پارلیمنٹ کے جاریہ بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ میں مباحث کا امکان ہے۔ اسراف اور پر تعیش شادی کی تقاریب کی روک تھام کیلئے مہمانوں کی تعداد کو محدود کرنے کے علاوہ شادی کے جملہ اخراجات کو 5لاکھ تک محدود کرنے کیلئے پیش کردہ اس بل کو ’لازمی رجسٹریشن و انسداد فضول خرچی ‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں شادی کی تقاریب میں مدعوین کی تعداد کو محدود کرنے کے علاوہ فضول خرچ کو روکنے کے لئے 5لاکھ کے اخراجات سے تجاوز کرنے والوں پر جملہ اخرجات کا 10فیصد جرمانہ وصول کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ ریاست بہار سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ نے اس بل کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعہ شادی میں شاہ خرچی پر روک لگانے کیلئے قانون سازی موجود ہے۔ محترمہ رنجیت رنجن نے بتایا کہ شادی کی تقاریب میں کی جانے والی فضول خرچیوں کو روکنا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس طرح کی شادیوں کے سبب غریب لڑکیوں کی شادی میں دشواریاں ہونے لگی ہیں اور وہ بن بیاہی بیٹھی ہیں۔ سماج میں پائی جانے والی اس برائی کے خاتمہ کیلئے قانون سازی ممکن ہے اسی لئے لازمی رجسٹریشن و انسداد فضول خرچی قانون کو روشناس کروایا جانا ناگزیر ہے۔ بل میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ جو خاندان 5لاکھ سے زائد شادی کی تقریب پر خرچ کرنا چاہتے ہیں انہیں سرکاری طور پر اجازت حاصل کرتے ہوئے خرچ کی جانے والی رقم کا 10فیصد حصہ حکومت کو ادا کرنا چاہئے تاکہ حکومت غریب و مستحق لڑکیوں کی شادی پر یہ رقم خرچ کرسکے۔ علاوہ ازیں شادی کی تقاریب میں مہمانوں کی تعداد پر حد لگانے کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ مہمانوں کی تعداد کا تعین کیا جانا چاہئے اور اس سے اضافی تعداد میں مہمانوں کو مدعو کرنے کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کئے جانے چاہئے۔ حالیہ عرصہ میں شادی کی تقاریب میں شاہ خرچیوں کی متعدد مثالیں سامنے آچکی ہیں اوراس لعنت کا شکار ہونے والوں میں تمام طبقات شامل ہیں۔ شہر حیدرآباد میںہونے والی شادیوں کا قومی سطح پر تذکرہ کیا جانے لگا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ شہر حیدرآباد کی تقاریب کی صنعت انتہائی منفعت بخش ہے کیونکہ اس شہر میں شادی کی تقاریب میں لاکھوں روپئے خرچ کرنے کو معیوب نہیں سمجھا جانے لگا ہے ۔ اس مجوزہ بل کا مقصد شادی کے اندرون 60یوم رجسٹریشن اور فضول خرچی پر کنٹرول کے اقدامات کو یقینی بنانا تصور کیا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT