Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم درخواستوں کی پولیس اسپیشل برانچ سے جانچ

شادی مبارک اسکیم درخواستوں کی پولیس اسپیشل برانچ سے جانچ

جلال الدین اکبر کی تجویز پر عمل کرنے حکومت کا اتفاق ، بے قاعدگیوں کو روکنے میں مدد ملے گی
حیدرآباد۔/12اپریل، ( سیاست نیوز) حکومت نے آخر کار آئی ایف ایس عہدیدار جلال الدین اکبر کی پیش کردہ تجویز کو قبول کرلیا ہے جس کے ذریعہ ’ شادی مبارک ‘ اسکیم میں بے قاعدگیوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے ایم جے اکبر نے حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ درخواستوں کی جانچ کا کام محکمہ پولیس کے اسپیشل برانچ کو دیا جائے کیونکہ یہ برانچ پاسپورٹ کی درخواستوں کی جانچ میں مہارت رکھتی ہے اور انہیں درخواست گذار کا پتہ چلانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ ایم جے اکبر کی اس تجویز کو حکومت نے نئے مالیاتی سال یعنی اپریل سے عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ یکم اپریل کے بعد گریٹر حیدرآباد کے حدود میں داخل کی جانے والی تمام درخواستوں کی جانچ اب تحصیلدار نہیں کریں گے بلکہ اسپیشل برانچ کے ذریعہ کی جائے گی۔ اس طرح بوگس درخواست گذار بھی پولیس کے ڈر سے بے قاعدگیوں سے رک جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع میں درخواستوں کی جانچ کا کام تحصیلدار بدستور انجام دیں گے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اسپیشل برانچ اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر حیدرآباد کے درمیان لائزن آفیسر کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے جو موصولہ درخواستوں کو اسپیشل برانچ سے رجوع کریں گے۔ اسپیشل برانچ کے عہدیدار جانچ کے بعد آن لائن رپورٹ داخل کردیں گے جس طرح وہ پاسپورٹ کے معاملہ میں داخل کرتے ہیں۔ سنٹر فار گڈ گورننس کی جانب سے اسپیشل برانچ کو ’ شادی مبارک‘ اسکیم کے سلسلہ میں آن لائن لنک فراہم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ اضلاع میں تحصیلداروں کو آن لائن لنک فراہم کیا جائے گا تاکہ درخواستوں کی رپورٹ میں تاخیر نہ ہو۔ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی کے سبب درمیانی افراد اس اسکیم کا استحصال کررہے تھے۔ جلال الدین اکبر نے سب سے پہلے اے سی بی سے ابتدائی جانچ کی سفارش کی جو بعد میں تمام اضلاع تک توسیع اختیار کرگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست بھر میں 6000 سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں جن میں 3تا 4ہزار درخواستیں حیدرآباد سے تعلق رکھتی ہیں۔ گزشتہ 6 ماہ تک اس تجویز کا جائزہ لینے کے بعد حکومت نے آخر کار ایم جے اکبر کی تجویز پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن افسوس کہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں شفافیت پیدا کرنے والے اس دیانتدار عہدیدار کو نشانہ بناتے ہوئے حکومت کو تبادلہ کیلئے مجبور کردیا گیا۔انہیں محکمہ جنگلات میں واپس کرتے ہوئے کنٹررویٹر ضلع ورنگل مقرر کیا گیا۔لچسپ بات تو یہ ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں سے قربت رکھنے والے جس شخص نے ایم جے اکبر کے خلاف مہم چلائی تھی اور مقامی سیاسی جماعت کے صدر کا چیف منسٹر کے نام مکتوب حاصل کیا تھا آج بھی وہ شخص غیرقانونی طور پر محکمہ میں نہ صرف برقرار ہے بلکہ اعلیٰ عہدیداروں کا پسندیدہ بنا ہوا ہے۔ غیر قانونی طور پر گزشتہ 5سال سے عہدہ پر برقرار اس شخص کے معاملہ میں محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی خاموشی کے بارے میں اقلیتی بہبود کے ملازمین میں کئی باتیں گشت کررہی ہیں اور عہدیداروں سے اس شخص کی قربت کی وجوہات سے متعلق کئی واقعات محکمہ میں زیر گشت ہیں۔ اسی دوران حکومت شادی مبارک اسکیم کی امدادی رقم کو لڑکی کے اکاؤنٹ کے بجائے والدہ کے اکاؤنٹ میں جمع کرنے کی تجویز پر بھی غور کررہی ہے۔ یہ تجویز بھی جلال الدین اکبر نے پیش کی تھی۔ ان کے جبراً تبادلہ کے بعد محکمہ کی ابتر صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہر سطح پر ملازمین انہیں یاد کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT