Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم میں دھاندلیوں اور درمیانی افراد کے خاتمہ کے اقدامات

شادی مبارک اسکیم میں دھاندلیوں اور درمیانی افراد کے خاتمہ کے اقدامات

شرائط پر سختی سے عمل کا فیصلہ ، ووٹر آئی ڈی کے بجائے آدھار لازمی
حیدرآباد ۔ /11 فبروری ، ( سیاست نیوز) غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد سے متعلق ’ شادی مبارک ‘ اسکیم میں دھاندلیوں اور درمیانی افراد کے رول کو ختم کرنے کیلئے شرائط میں سختی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سابق میں درخواست گذار لڑکی کا ووٹر آئی ڈی کارڈ قبول کیا جارہا تھا لیکن اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اسکیم میں مبینہ دھاندلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لڑکی کے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا ہے۔ آدھار کارڈ کے لزوم سے نہ صرف بے قاعدگیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ درمیانی افراد کے رول کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ عام طور پر دیکھا گیا کہ صرف ووٹر آئی ڈی کی شرط کے باعث درمیانی افراد نے ایک لڑکی کے نام پر ایک سے زائد مرتبہ امداد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں اینٹی کرپشن بیورو کی تحقیقات میں بعض ثبوت دستیاب ہوئے تھے۔ اس بات کی شکایت ملی ہے کہ درمیانی افراد نے امیدواروں سے رقم حاصل کرتے ہوئے اس طرح کی دھاندلیوں کا ارتکاب کیا جس میں اقلیتی بہبود کے بعض ملازمین کی ملی بھگت کا بھی انکشاف ہوا۔ ووٹر آئی ڈی کارڈ قبول کرنے کی صورت میں دوبارہ درخواست دینے پر جانچ میں ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ امیدوار کو پہلے ہی رقم جاری کی جاچکی ہے۔ ایک شخص کے پاس ایک سے زائد پتہ پر ووٹر آئی ڈی کارڈ موجود ہیں اس کے علاوہ ووٹر آئی ڈی کارڈ نمبر سے الیکشن کمیشن کا کوئی لنک نہیں جس سے یہ پتہ چلانا مشکل ہے کہ آیا اس کارڈ ہولڈر کو پہلے امدادی رقم جاری کی گئی تھی۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر ایک لڑکی کے نام پر ایک سے زائد مرتبہ رقم حاصل کرنے کے معاملات سامنے آئے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اگرچہ اسمبلی میں آدھار کارڈ کے لزوم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بے قاعدگیوں کے واقعات کے بعد آدھار کارڈ کی شرط کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے بتایا کہ درخواست گذار لڑکی کا آدھار کارڈ لازمی طور پر داخل کیا جانا چاہیئے تاکہ دوبارہ درخواست دینے کی صورت میں آدھار کارڈ نمبر ٹائپ کرتے ہی ویب سائٹ درخواست فارم کو از خود مسترد کردیتی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آدھار کارڈ کے لزوم سے اسکیم میں دھاندلیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اسی دوران اسکیم کے آغاز کے بعد سے 15 ماہ میں 31ہزار خاندانوں کو فی کس 51ہزار روپئے کے حساب سے 150کروڑ سے زائد جاری کردیئے گئے۔ گزشتہ 10ماہ میں 25ہزار 457 درخواستوں کی یکسوئی کی گئی جبکہ جملہ 31,550 درخواستیں داخل کی گئیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 5000 درخواستیں جانچ کے مرحلہ میں ہیں ان میں سے بیشتر درخواستیں ایسی ہیں جن کی ہارڈ کاپی امیدواروں نے داخل نہیں کی۔ حیدرآباد میں سب سے زیادہ 11,212 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں 8390 امیدواروں کو امدادی رقم جاری کردی گئی۔ عادل آباد میں 2218، کریم نگر 1458 ، کھمم 726، محبوب نگر 1767، میدک 1954، نلگنڈہ 1151 ، نظام آباد 2828، رنگاریڈی 3996 اور ورنگل میں 969 درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے امدادی رقم جاری کردی گئی۔

TOPPOPULARRECENT