Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی جلد از جلد یکسوئی کی ہدایت

شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی جلد از جلد یکسوئی کی ہدایت

وزراء کی انتخابی دوروں پر توجہ، دفتر چیف منسٹر کی اظہار ناراضگی
حیدرآباد۔/23جنوری، ( سیاست نیوز) شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر پر چیف منسٹر کے سی آر کے دفتر نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد انتخابی مہم کے سلسلہ میں وزراء اور عوامی نمائندے جب حیدرآباد اور رنگاریڈی کے علاقوںکا دورہ کررہے ہیں تو اقلیتوں کی جانب سے انہیں شادی مبارک اسکیم کی رقم کی عدم اجرائی کی شکایات کی جارہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد اور رنگاریڈی میں 2500سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں جو کئی ماہ سے انہیں امدادی رقم جاری نہیں کی گئی۔ چیف منسٹر کے دفتر نے اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود کی توجہ مبذول کرائی اور زیر التواء درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کی ہدایت دی تاکہ گریٹر انتخابات میں برسراقتدار پارٹی کو کوئی نقصان نہ ہو۔ انتخابی مہم میں شامل وزراء اور قائدین نے چیف منسٹر کے دفتر کو شکایت کی کہ جہاں بھی اقلیتوں کی آبادی ہے وہاں شادی مبارک اسکیم کے بارے میں عوام شکایت کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے سکریٹری برائے اقلیتی اُمور بھوپال ریڈی کی ہدایت پر سکریٹری اقلیتی بہبود نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد اور رنگاریڈی کے ضلعی دفاتر میں درخواستوں کی یکسوئی کی رفتار انتہائی سُست ہے جس کے نتیجہ میں زیر التواء درخواستوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے دونوں اضلاع کی زیر التواء درخواستوں کے بارے میں رپورٹ طلب کی اور رقم کی اجرائی کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد اور رنگاریڈی کلکٹرس نے محکمہ اقلیتی بہبود کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے زیر التواء اور منظورہ درخواستوں کی تفصیلات روانہ کی ہیں۔ اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ پیر تک تمام زیر التواء درخواستوں کیلئے رقم جاری کردی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ رقم کی اجرائی کے سلسلہ میں محکمہ فینانس سے موثر نمائندگی نہ ہونے پر یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں حیدرآباد اور رنگاریڈی میں ابتداء ہی سے شکایات موصول ہوئی ہیں اور متعلقہ عہدیداروںکی عدم دلچسپی کے سبب غریب خاندانوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات میں درمیانی افراد اور بروکرس غریب خاندانوں کا استحصال کرتے ہوئے رقومات حاصل کرنے میں مصروف ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT