Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم کی رقومات گرین چیانل سے جاری کرنے کا عزم

شادی مبارک اسکیم کی رقومات گرین چیانل سے جاری کرنے کا عزم

زیرالتواء درخواستوں کی یکسوئی کے اقدامات، محمد علی شبیر کے استفسار پر جی جگدیش ریڈی کا جواب
حیدرآباد۔26ڈسمبر (سیاست نیوز) شادی مبارک اسکیم کے ذریعہ غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے چلائی جا رہی شادی مبارک اسکیم کا مختص کردہ بجٹ گرین چینل سے جاری کیا جائے گا۔اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے غریب خاندانو ںکی لڑکیوں کی شادی میں حکومت کی جانب سے تحفہ کے طور پر 51ہزار کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ریاستی وزیر مسٹر جی جگدیش ریڈی نے مختصر مدتی مباحث کے دوران حکومت کی جانب سے ایوان کو اس بات سے واقف کروایا کہ اس اسکیم میں بجٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور اقلیتوں کے لئے 150کروڑ کی تخصیص عمل میںلائی گئی ہے لیکن اگر اس رقم سے زیادہ درخواستیں بھی موصول ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں حکومت ہر درخواست گذار کو رقم جاری کرنے تیار ہے۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ جاریہ سال 9463اقلیتی طبقہ کے درخواست گذاروں کو رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جا چکی ہے جبکہ 15ہزار 657درخواستیں زیر التواء ہیں لیکن انہیں جلد رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ریاست آندھرا پردیش میں سال 2006کے دوران تروملا تروپتی دیواستھانم کی اجتماعی شادیوں کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے مسلم لڑکیوں کے لئے بھی اجتماعی شادیوں کے آغاز کی تجویز بحیثیت وزیر اقلیتی بہبود ان کے سامنے پیش کی جس پر انہوں نے مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے منصوبہ تیار کیا اور اس منصوبہ پر 2007کے وسط سے عمل آوری کا آغاز کیا گیا ۔ جناب محمد علی شبیر نے بتایا کہ ریاست میں اس اسکیم کیلئے پہلے سال 5کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی گئی اور فی نکاح 15ہزار روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس دور حکومت میں شروع کی گئی اقلیتی لڑکیوں کے لئے اس اسکیم کو موجودہ حکومت نے برقرار رکھتے ہوئے اس میں کچھ ترمیم کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں شادی مبارک اسکیم کے تحت زیر التواء درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ درخواست داخل کرنے والوں کو بروقت رقومات کی اجرائی ممکن ہو سکے۔ جناب محمد علی شبیر نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں زیر التواء شادی مبارک اسکیم کی تمام درخواستوں کی یکسوئی کیلئے فوری بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے بقایاجات کی فوری ادائیگی کو بھی ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گذاروں میں مایوسی پیدا ہونے سے قبل انہیں رقومات کی اجرائی عمل میںلائی جانی چاہئے۔ مسٹر پی سدھاکر ریڈی نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے درخواست گذاروں کی حد آمدنی میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حد آمدنی 2لاکھ میں اضافہ کرتے ہوئے شہری اور دیہی اساس پر ان میں تفریق کی جانی چاہئے تاکہ حکومت کی اس منفرد اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے والو ںکی تعداد میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے گذشتہ 6ماہ سے درخواستوں کے زیر التواء رہنے کے مسئلہ کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا جس پر ریاستی وزیر مسٹر کے جگدیش ریڈی نے کہا کہ ریاست میں اضلاع کی تنظیم جدید کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے جلد ہی اس صورتحال سے نجات حاصل کرلی جائے گی۔جناب سید الطاف حیدر رضوی نے مباحث کے دوران اسکیم کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے لئے 150کروڑ کے علاوہ ایس سی کیلئے 200کروڑ ‘ ایس ٹی کیلئے 80کروڑ اور بی سی کیلئے 300کروڑ کی تخصیص عمل میںلائی گئی ہے جو کہ جملہ 783کروڑ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کا آغاز راجستھان کی اقلیتی بہبود کمیٹی کی آمد اور ان کے تجربات کا جائزہ لینے کے لئے آندھرا پردیش اقلیتی بہبود کمیٹی کے دورۂ راجستھان کے بعد ہوا تھا ۔ جناب سید الطاف حیدررضوی نے بتایا کہ حکومت کی اس اسکیم سے اقلیتوں کی کافی مدد ہورہی ہے۔مباحث میں مسٹر ایم ایس پربھاکر‘ مسٹر رامچندر راؤ ‘ مسٹر ایس نائک کے علاوہ دیگر ارکان قانون ساز کونسل نے حصہ لیا۔ریاستی وزیر مسٹر جی جگدیش ریڈی نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے 2014-15کے دوران 5779استفادہ کنندگان میں 29.47کروڑ کی تقسیم عمل میںآئی جبکہ 2015-16کے دوران اس اسکیم سے 27ہزار 453خاندانوں نے استفادہ حاصل کیا جنہیں 140.01کروڑ جاری کئے گئے اور جاریہ مالی سال کے دوران تاحال 48.26کروڑ کی اجرائی عمل میںلائی جا چکی ہے۔اس اسکیم کے نئے احکام کے سلسلہ میں انہوں نے ایوان کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ لڑکی کی والدہ کے نام پر چیک کی اجرائی عمل میںلائی جا رہی ہے اور چیکس کی تقسیم متعلقہ رکن اسمبلی کے ذریعہ عمل میںآرہی ہے۔درخواستوں کی تنقیح کے لئے ٓر ڈی او اور تحصیلدار کے توسط سے متعلقہ رکن اسمبلی سے تنقیح کروائی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2اکٹوبر 2014سے یہ اسکیم قابل عمل ہے اور اس اسکیم کے استفادہ کنندگان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مسٹر جی جگدیش ریڈی نے بتایا کہ تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے درخواست گذاروں کو اطمینان بخش اجرائی عمل میںلائی جا رہی ہے۔انہوں نے اس سلسلہ میں جاری کردہ رقومات کی مکمل تفصیلات معہ اعداد و شمار پیش کئے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT