Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم کے غریب خاندان درخواستوں کی منظوری کے منتظر

شادی مبارک اسکیم کے غریب خاندان درخواستوں کی منظوری کے منتظر

پولیس کے ذریعہ جانچ کا فیصلہ ، عمل ندارد ، چار ہزار درخواستیں التواء کا شکار
حیدرآباد۔ 11۔ مئی  ( سیاست نیوز) حکومت نے شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی جانچ کا کام پولیس کے اسپیشل برانچ سے کرانے کا اعلان تو کردیا لیکن آج تک اس کا آغاز نہیں ہوسکا جس کے نتیجہ میں گریٹر حیدرآباد کے حدود میں زیر التواء درخواستوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوچکا ہے۔ شادی مبارک اسکیم میں بے قاعدگیوں کو روکنے اور حیدرآباد میں اسٹاف کی کمی کو دیکھتے ہوئے یکم اپریل سے گریٹر حیدرآباد حدود کی تمام درخواستوں کی جانچ پولیس کے اسپیشل برانچ سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے احکامات بھی جاری ہوچکے ہیں لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اسپیشل برانچ نے یہ کام اپنے ذمہ نہیں لیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں وزارت داخلہ سے علحدہ احکامات کی اجرائی ضروری ہے جس کے بعد ہی اسپیشل برانچ شادی مبارک اسکیم کی درخواستوںکی جانچ کا کام شروع کرے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں وزارت داخلہ کو فائل روانہ کی گئی ہے اور جی او کی اجرائی کا انتظار ہے ۔ دفتری امور کی تکمیل میں تاخیر کی سزا غریب خاندانوںکو مل رہی ہے جو اپنی لڑکیوں کی شادی کیلئے شادی مبارک اسکیم کے تحت 51,000 روپئے کی امداد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیس حیدرآباد کے حکام نے یکم اپریل سے موصولہ تمام درخواستوں کو ہر منڈل کے اعتبار سے علحدہ کردیا ہے اور اسپیشل برانچ کو حوالہ کرنا باقی ہے۔

 

یکم اپریل کے بعد ایک اندازہ کے مطابق 12,00 سے زائد درخواستیں داخل کی گئیں، جن کی یکسوئی اس وقت تک نہیں ہوگی ، جب تک اسپیشل برانچ جانچ نہیں کرتی۔ پاسپورٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں جس طرح اسپیشل برانچ کو جانچ کا کام دیا گیا ہے، اسی طرز پر شادی مبارک درخواستوں کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی دوران حیدرآباد میں مجموعی طور پر زیر التواء درخواستوں کی تعداد 4,000 سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت نے میناریٹی ویلفیر دفاتر میں اسٹاف میں اضافہ کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک اس کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد جو دارالحکومت میں قائم ہے، وہاں باقاعدہ طور پر صرف تین ملازمین کام کر رہے ہیں۔ دو سینئر اسسٹنٹ اور ایک اٹنڈر سے آفس چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ حج کمیٹی ، اردو اکیڈیمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن سے 6 ملازمین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ حیدرآباد میں اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت دوسرے مرحلہ میں 146 طلبہ کا انتخاب کیا گیا۔ اسٹیٹ سلیکشن کمیٹی نے 46 زیر التواء درخواستوں میں سے 20 کو منظوری دیدی ہے اور مزید 16 زیر التواء ہے ۔ پہلے مرحلہ کے تحت 93 طلبہ کو اسکالرشپ کی دوسری قسط جاری کردی گئی جبکہ مزید 30 سے زائد طلبہ بجٹ کی کمی کے باعث دوسری قسط سے محروم ہے۔

TOPPOPULARRECENT