Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی قرض اسکیم میں بدعنوانیوں کے پختہ ثبوت

شادی مبارک اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی قرض اسکیم میں بدعنوانیوں کے پختہ ثبوت

عہدیداروں ، ملازمین اور درمیانی افراد کی ملی بھگت ، کسی بھی وقت گرفتاریوں کا آغاز ممکن
حیدرآباد۔ 23 ۔ مارچ ( سیاست نیوز) شادی مبارک اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی قرض اسکیم میں بے قاعدگیوں کی جانچ کے دوران اینٹی کرپشن بیورو کو کئی عہدیداروں ، ملازمین اور درمیانی افراد کے خلاف پختہ ثبوت ملے ہیں اور کسی بھی وقت گرفتاریوں کا آغاز ہوسکتا ہے۔ اے سی بی کے ذرائع نے بتایا کہ ہر ضلع میں خصوصی ٹیموں نے متعلقہ دفاتر پہنچ کر درخواستوں کی جانچ کی اور استفادہ کنندگان کے مکانات پہنچ کر اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی کہ وہ کس حد تک مستحق ہیں۔ شہر اور اضلاع میں شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک 10 تا15  افراد کی نشاندہی کرلی گئی ہے جو راست طور پر بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں۔ ان میں 4 تحصیلدار اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بعض ملازمین شامل ہیں۔ درمیانی افراد خاص طور پر آن لائین سنٹرس اور بعض رضاکارانہ تنظیمیں بھی اس اسکام میں ملوث پائی گئیں۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں جو تحقیقات کی راست نگرانی کر رہے ہیں، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ملوث افراد کے خلاف ٹھوس ثبوت اکٹھا کریں تاکہ ان کے خلاف کارروائی میں مدد ملے۔ حیدرآباد میں مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

چارمینار اسمبلی حلقہ کے بعض علاقوں کے علاوہ عنبرپیٹ ، بورہ بنڈہ اور دیگر علاقوں میں بھی درمیانی افراد کی جانب سے شادی مبارک اسکیم کیلئے 5 تا 10 ہزار روپئے حاصل کرنے کے ثبوت ملے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاؤز میں گزشتہ چند برسوں تک غیر قانونی طریقہ سے موجود آن لائین اور زیراکس سنٹرس کی سرگرمیوں کے بارے میں اینٹی کرپشن بیورو کو شکایت ملی ہے۔ اس کے علاوہ گن فاؤنڈری میں واقع اگزیکیٹیو ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفتر میں بھی درمیانی افراد کی سرگرمیوں کا پتہ چلا ہے۔ عوام نے شکایت کی ہے کہ اس عمارت میں موجود ایک خانگی زیراکس و آن لائین سنٹر میں اس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اینٹی کرپشن بیورو نے عادل آباد ، نظام آباد ، تانڈور ، محبوب نگر اور آرمور میں سنگین بے قاعدگیوں کا پتہ چلایا ہے۔ تحقیقات کے دوران کئی حیرت انگیز انکشافات منظر عام پر آئے۔ حیدرآباد میں بعض ایسے افراد نے امداد حاصل کرلی جن کو کئی بچے ہیں جبکہ اس اسکیم کا آغاز 2014 ء سے ہوا تھا ۔ ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا جس میں لڑکا اور لڑکی کے ایک ہی نام کا تین مرتبہ استعمال کرتے ہوئے 51 ہزار روپئے تین بار حاصل کئے گئے۔ اس کیس میں ہر درخواست کے ساتھ  ایک نیا نکاح نامہ منسلک کیا گیا ۔ اینٹی کرپشن بیورو نے متعلقہ قاضی کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود مذکورہ قاضی کی معطلی کی کارروائی کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق مزید 10 دن تک شادی مبارک اسکیم کی جانچ اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور بعض سرکاری ملازمین کو معطل کیا جاسکتا ہے ۔ دوسرے مرحلہ میں قرض اسکیم پر مکمل توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اے کے خاں نے حیدرآباد اور سائبر آباد کے پولیس کمشنرس کے علاوہ تمام ضلع  سپرنٹنڈنٹ پولیس سے ربط قائم کرتے ہوئے انہیں اسکیمات میں تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے شروع کی گئی کلیان لکشمی اسکیم کی جانچ کا منصوبہ رکھتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT