Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اور اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے ادخال درخواست میں تکالیف

شادی مبارک اور اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے ادخال درخواست میں تکالیف

حیدرآباد۔/6فبروری، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے عہدیداروں کے دعوے اس وقت کھوکھلے ثابت ہوئے جب گزشتہ چار دن سے شادی مبارک اور اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے آن لائن درخواستوں کے ادخال میں طلبہ دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ پیر سے دونوں آن لائن ویب سائیٹس نے کام کرنا بند کردیا ہے اور درخواستیں داخل کرنے کی صورت میں رجسٹریشن فیل بتارہا ہے۔ اس طرح دونوں اسکیمات کیلئے آن لائن درخواستوں کا عمل مفلوج ہوچکا ہے۔ سینکڑوں امیدواروں کو اس صورتحال کے سبب مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ شادی مبارک اور اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے عہدیداروں نے نئی شرائط کو شامل کردیا جس کے بعد سے درخواستوں کی قبولیت کا سسٹم ٹھپ ہوچکا ہے۔ حکام نے شادی مبارک اسکیم کیلئے لڑکی کے ماں باپ کے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا ہے جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ ووٹر آئی ڈی کارڈ کی بنیاد پر درخواستوں کو قبول کیا جائے گا۔ انہوں نے آدھار کارڈ اور دیگر شرائط کو ختم کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن عہدیدار شرائط میں کمی کے بجائے نئی شرائط عائد کرتے ہوئے اسکیم پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ اسی طرح اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے بھی امیدوار کے ماں باپ کے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا جس سے دوسرے مرحلہ کیلئے درخواستوں کے ادخال میں رکاوٹ پیدا ہوچکی ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلات جاننے کیلئے جب امیدوار حج ہاوز کے دفتر پہنچے تو انہیں عہدیداروں کے رویہ کے سبب مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ کسی بھی اقلیتی ادارے میں عوامی مسائل کا موثر جواب دینے والا کوئی موجود نہیں برخلاف اس کے امیدواروں کے ساتھ بدزبانی اور بدسلوکی کا رویہ عام ہے۔ امیدواروں اور سرپرستوں نے شکایت کی کہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار کبھی بھی اپنی نشست پر موجود نہیں ہوتے اور ملازمین بھی ہمیشہ دیگر اضافی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک درخواست گذار نے بتایا کہ عہدیداروں کے اس رویہ کے باعث بھولے بھالے عوام بروکرس کے جال میں پھنس رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بروکرس اور عہدیداروں کی ملی بھگت ہے۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کو چاہیئے کہ فوری ان اسکیمات کے بارے میں جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اضافی شرائط سے دستبرداری کی ہدایت دیں۔

TOPPOPULARRECENT