Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اور دیگر اسکیمات میں شفافیت اور درمیانی افراد کے رول کو ختم کرنے کی ہدایت

شادی مبارک اور دیگر اسکیمات میں شفافیت اور درمیانی افراد کے رول کو ختم کرنے کی ہدایت

درخواستوں کی جانچ کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مشورہ ، محمد محمود علی کا محکمہ اقلیتی بہبود کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/29اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے شادی مبارک اور دیگر اسکیمات میں مکمل شفافیت اور درمیانی افراد کے رول کو ختم کرنے کیلئے عہدیداروں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے شادی مبارک اسکیم کے استفادہ کنندگان میں کم از کم 10فیصد افراد کی ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کے ذریعہ دوبارہ جانچ اور اندرون 15یوم حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ محمد محمود علی نے آج سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور دیگر اقلیتی عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں مختلف اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں بروکرس کے رول کی شکایات وصول ہوئی ہیں جس سے اسکیم میں بے قاعدگیوں میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ نہ صرف درمیانی افراد کے رول کو ختم کریں بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے شہر اور اضلاع میں منظورہ درخواستوں اور استفادہ کنندگان کے فون نمبرس کے ساتھ تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی تاکہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ذریعہ دوبارہ جانچ کی جاسکے۔ حکومت چاہتی ہے کہ غریب خاندانوں کو شادی کیلئے 51ہزار روپئے کی امداد کا صحیح استعمال ہو۔ انہوں نے درخواستوں کی جانچ کے طریقہ کار میں تبدیلی اور متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کے ذریعہ جانچ کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹاف کی کمی کو دور کرنے کیلئے شہر میں 10 ملازمین پر مشتمل اسٹاف کا اضافہ کرے گی۔ اسی طرح اضلاع میں بھی اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر کی شکایات کا حوالہ دیا اور عہدیداروں سے کہا کہ وہ درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ وہ تلنگانہ میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کی 7 مخلوعہ جائیدادوں پر جلد تقررات عمل میں لائیں تاکہ اضلاع میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے۔ جن سات اضلاع میں اقلیتی بہبود کے عہدیدار موجود نہیں وہاں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس کو اس عہدہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کلکٹر رتبہ کے عہدیداروں کے تقرر کے سلسلہ میں فائیل روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ جائزہ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ اگرچہ شادی مبارک اسکیم کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں تاہم درمیانی افراد کے رول کی شکایات باعث افسوس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے تحت ایک سال میں 21800 خاندانوں میں امداد جاری کی گئی ہے اور مزید 3000 درخواستیں زیر التواء ہیں۔ انہوں نے حج 2015 کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ جاریہ سال حیدرآباد سے 5451 حجاج کرام کیلئے تلنگانہ حج کمیٹی نے نمایاں خدمات انجام دی ہے۔ ملک بھر میں بہتر انتظامات کیلئے حیدرآباد سرفہرست رہا۔ نظام رباط میں 597حجاج کرام کیلئے قیام کے علاوہ طعام کی سہولت فراہم کی گئی۔ تلنگانہ حج کمیٹی نے آندھرا پردیش کے 1819اور کرناٹک کے 1694 حجاج کرام کیلئے خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خادم الحجاج کے بارے میں حکومت کو شکایات وصول ہوئیں جن کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ آئندہ سال سے خادم الحجاج کو پابند کیا جائے گا اور ان سے اس سلسلہ میں حلف نامہ حاصل کیا جائے گا۔ جائزہ اجلاس میں رکن اسمبلی عامر شکیل، رکن قانون ساز کونسل سدھاکر ریڈی، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ، ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ اور دوسروں نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT