Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اور سبسیڈی قرض اسکیم میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف

شادی مبارک اور سبسیڈی قرض اسکیم میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف

بروکرس اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں ملی بھگت کا ثبوت : اے سی بی کی تحقیقات
حیدرآباد۔ 21 ۔ مارچ ( سیاست نیوز) شادی مبارک اور سبسیڈی سے مربوط قرض اسکیم کی تحقیقات کے دوران اینٹی کرپشن بیورو کو کئی سنگین بے قاعدگیوں کا پتہ چلا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں اسکیمات کے سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے بعض عہدیداروں اور بروکرس میں ملی بھگت کے ثبوت ملے ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں نے ان اسکیمات میں بے قاعدگیوں کا پتہ چلانے کیلئے شہر اور اضلاع میں اپنی ٹیموں کو متحرک کیا ہے۔ یہ ٹیمیں دونوں اسکیمات کی درخواستوں کی جانچ میں مصروف ہیں۔ اگرچہ اینٹی کرپشن بیورو نے شادی مبارک اسکیم کیلئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا لیکن قرض اسکیم میں بے قاعدگیوں کا بھی پتہ چلا جس پر انہوں نے اس اسکیم کی درخواستوں کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ میدک ، عادل آباد اور دیگر مقامات پر دونوں اسکیمات میں سنگین بے قاعدگیاں پائی گئیں۔ قرض اسکیم کے فارم سرکاری دفتر کے بجائے خانگی افراد کے گھروں میں پائے گئے۔ عوام نے شکایت کی کہ قرض کی منظوری کا لالچ دے کر پروسیڈنگ لیٹر حوالہ کیا جارہا ہے جس کیلئے 20 تا30  ہزار روپئے وصول کئے جارہے ہیں جبکہ اس مکتوب کی کوئی اہمیت نہیں اور کوئی بھی بینک اسے قبول نہیں کرے گا۔ بتایا جاتا ہیکہ مبینہ بے قاعدگیوں کے الزامات کے تحت عادل آباد میں اگزیکیٹیو آفیسر اقلیتی فینانس کارپوریشن کا تبادلہ کردیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں اسکیمات میں جس انداز کی بے قاعدگیاں منظر عام پر آئی ہیں ، اس سے عہدیدار خود حیرت میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کے تار فینانس کارپوریشن کے ہیڈ آفس سے جڑے ہوئے ہیں اور بروکرس کی سرپرستی کرنے والے افراد ہیڈ آفس سے کام کر رہے ہیں۔ مینجنگ ڈائرکٹر کارپوریشن کی جانب سے پروسیڈنگ لیٹر کو منسوخ کرنے کے بیان کے باوجود بتایا جاتا ہے کہ اندرونی طور پر لیٹرس کی اجرائی کا کام ابھی بھی جاری ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں درمیانی افراد کا زبردست رول منظر عام پر آیا ہے۔ انفرادی بروکرس اور بعض نام نہاد رضاکارانہ تنظیموں نے عوام سے رقم حاصل کرتے ہوئے انہیں 51,000 روپئے منظور کرائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض سرکاری ملازمین نے اس اسکیم سے استفادہ کیا جبکہ وہ اس کے مستحق نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ایسے افراد کو امداد منظور کی گئی جن کی حقیقت میں شادی بھی نہیں ہوئی اور بعض تو ایسے ہیں جن کی شادی کو کئی سال ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حیدرآباد میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کے عہدہ پر ایک مخصوص عہدیدار کی میعاد سے متعلق منظوری کی باریک بینی سے جانچ کی جارہی ہے کیونکہ اس عہدیدار پر بدعنوانیوں کے کئی الزامات پہلے ہی سے موجود ہیں۔ اینٹی کرپشن بیورو دونوں اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی شخصی طور پر جانچ کر رہا ہے اور ان کے گھر پہنچ کر معلومات حاصل کی جارہی ہے۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اسکیم میں ملوث پائے جانے والے عہدیداروں اور درمیانی افراد کے خلاف سخت کارروائی کے حق میں ہیں اور توقع ہے کہ تحقیقات کی تکمیل کے بعد بعض افراد معطل کئے جاسکتے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے آدھار کارڈ کا لزوم عائد کیا ہے ، تاکہ ایک سے زائد مرتبہ اسکیم سے استفادہ نہ کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT