Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے لیے قواعد میں ترمیمات

شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے لیے قواعد میں ترمیمات

متعلقہ محکمہ جات کو رہنمایانہ خطوط کی اجرائی ، شادی مبارک کے تحت لڑکی کی والدہ کو چیک اجرائی ہوگی
حیدرآباد ۔ 24 ۔اگست (سیاست نیوز)  تلنگانہ حکومت نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں رقم کی اجرائی کو آسان بنانے کیلئے قواعد میں اہم ترمیمات کی ہیں۔ اس سلسلہ میں محکمہ فینانس کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے اور دونوں اسکیمات پر عمل آوری سے متعلق محکمہ جات کیلئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ سابق میں استفادہ کنندگان کو اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی یا پھر چیک کی اجرائی میں تاخیر کی شکایات مل رہی ہیں۔ نئے قواعد کے مطابق حکومت نے بی سی ، ایس ٹی اور اقلیتی بہبود کے ہر ضلع میں موجود عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنا علحدہ پی ڈی اکاؤنٹ کھولیں جو ڈسٹرکٹ ٹریژری کے تحت کام کرے گا۔ ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیتی بہبود کے ضلع انچارج و عہدیدار منظورہ درخواستوں کے احکامات اور استفادہ کنندگان کی فہرست کے ساتھ بل ڈسٹرکٹ ٹریژری کو داخل کریں گے ، جس کے بعد درکار رقم ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کے پی ڈی اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی۔ ہر محکمہ کو ضلع میں پی ڈی اکاؤنٹ میں رقم حاصل ہونے کے بعد وہ استفادہ کنندگان کی تفصیلات بینک اکاؤنٹ نمبر برانچ کا نام اور آئی ایف ایس سی کوڈ کے ساتھ بینک کو چیک جاری کریں گے جس کے بعد یہ بینک استفادہ کنندگان کے لئے انفرادی طور پر کراسڈ چیک تیار کرے گا جنہیں محکمہ جات کے ضلعی عہدیدار منظورہ درخواست گزاروں میں تقسیم کریں گے ۔ اس تبدیلی کا مقصد نہ صرف بجٹ کے استعمال پر نظر رکھنا ہے بلکہ محکمہ فینانس راست طورپر ان اسکیمات کی نگرانی کرسکتا ہے۔ حکومت نے شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی جانچ کا کام متعلقہ تحصیلداروں کے ذمہ کیا ہے تاکہ شفافیت کے ساتھ حقیقی مستحقین کا انتخاب کیا جاسکے۔ حکومت نے بے قاعدگیوں کی روک تھام کیلئے لڑکی کی والدہ کے نام پر چیک جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق میں درمیانی افراد کے رول کے سبب اسکیم میں کئی بے قاعدگیوں کی شکایت ملی ۔ بتایا جاتا ہے کہ تحصیلداروں کے ذریعہ اسکیم کی درخواستوںکی جانچ کی صورت میں درمیانی افراد کا رول از خود ختم ہوجائے گا ۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران اسکیم پر عمل آوری کی رفتار سست دیکھی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 6000 سے زائد درخواستیں ریاست بھر میں منظوری کی منتظر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT