Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی و دیگر تقاریب میں تحائف دینے والوں کیلئے مشکلات

شادی و دیگر تقاریب میں تحائف دینے والوں کیلئے مشکلات

کالے دھن پر کنٹرول، اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کی سفارشات پر عمل، صرف آن لائن رقومات منتقلی کی اجازت
حیدرآباد 17 جولائی (سیاست نیوز) ملک میں کالے دھن پر کنٹرول کے لئے جسٹس ایم بی شاہ کی نگرانی میں تشکیل دی گئی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کی سفارشات پر عمل آوری کی صورت میں زیورات کے علاوہ مہنگے اشیاء اور 3 لاکھ سے زائد قیمت کے تحفے تحائف کی خرید و فروخت پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے کی گئی سفارشات 3 لاکھ سے زائد کے نقد معاملت پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد حکومت ہند اور محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے تمام معاملتوں پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی میکانزم تیار کیا جارہا ہے۔ شادی و دیگر تقاریب میں لاکھوں روپئے قیمت کے تحائف دینے والوں کے لئے اب مشکلات پیدا ہونی شروع ہوجائیں گی کیوں کہ اُنھیں یہ معاملتیں نقد رقومات کے ذریعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں رہے گی بلکہ وہ صرف آن لائن رقومات منتقل کرسکتے ہیں یا پھر اُنھیں کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کرنی ہوگی۔ عموماً مہنگے تحائف دینے والے افراد نقد معاملتوں کے ذریعہ یہ تحائف خریدتے ہیں جس کے سبب وہ انکم ٹیکس کی نگاہوں سے محفوظ رہ پاتے ہیں لیکن اب تین لاکھ سے زائد کی رقم نقد لینے والے پر بھی پابندی عائد کئے جانے کے بعد ایسا کرنا ممکن نہیں ہوپائے گا۔ زیورات کی خرید و فروخت میں بھی لاکھوں روپئے کی معاملتیں نقد ہوا کرتی تھیں لیکن اب ایسا کرنا ناممکن ہوجائے گا جس کے سبب زیورات کے کاروبار پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ پایا جارہا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے برانڈیڈ اشیاء جن کی قیمت لاکھوں روپئے سے تجاوز کرجاتی ہے اُن اشیاء کی خریدی میں بھی اب تک نقد رقومات کا چلن ہوا کرتا تھا لیکن اب وہ بھی بالکلیہ طور پر بند ہوجائے گا اور برانڈیڈ اشیاء فروخت کرنے والی کمپنیاں بھی تین لاکھ روپئے سے زائد کی رقم نقد وصول کرنے سے گریز کریں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ 15 لاکھ روپئے سے زائد نقد رقم رکھنے کے لئے بھی محکمہ انکم ٹیکس سے پیشگی اجازت حاصل کرنی ہوگی کیوں کہ عموماً تقاریب میں پکوان، سجاوٹ، حمل و نقل و دیگر اُمور کی انجام دہی کے لئے رقومات ادا کرنی پڑتی ہیں اور اُس کے لئے بسااوقات 15 لاکھ سے زائد اخراجات ہوا کرتے ہیں لیکن یہ رقم ساتھ رکھنے کے لئے بھی محکمہ انکم ٹیکس سے اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ کے شعبہ پر بھی اِن سفارشات پر عمل آوری کی صورت میں کافی منفی اثر پڑسکتا ہے کیوں کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں 40 تا 60 فیصد معاملتیں نقدی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ کالے دھن کو باہر لانے کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا تجارتی برادری پر منفی اثر پڑنے کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT