Tuesday , September 26 2017
Home / کھیل کی خبریں / شاراپوا کی کل واپسی پر اسپانسرس اور شائقین کی توجہ مرکوز

شاراپوا کی کل واپسی پر اسپانسرس اور شائقین کی توجہ مرکوز

زیورخ ۔ 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )روسی ٹینس اسٹار اور سابق عالمی نمبر ایک ماریا شاراپووا اپنے کریئر کے سب سے مشکل چیلینج کا سامنا کرنے والی ہیں اور وہ  ممنوعہ ادویات کے استعمال کے باعث عائد 15ماہ کی پابندی کے خاتمے کے بعد ٹینس کورٹ میں واپسی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ماریا شاراپووا کو کھیل کے میدان سے باہراپنے اسپانسروں سے پہلے کی طرح آمدن حاصل ہو سکے گی؟29 سالہ شاراپووا جرمنی کے شہر شٹٹ گارٹ میں 26 اپریل کو شروع ہونے والے ٹورنمنٹ میں شرکت کریں گی جس کے لئے ان کو وائلڈ کارڈ دیا گیا ہے۔18 سال کی عمر میں 18 ادویات سے پابندی تکشراپووا کی چند ساتھی کھلاڑیوں نے ان کی کھیل میں واپسی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے لیکن خواتین ٹینس کی انتظامیہ ویمن ٹینس اسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) اور شاراپووا کے مداح ان کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ٹینس کورٹ میں اور کورٹ سے باہر رقم کمانے میں شاراپووا کی سب سے بڑی حریف سرینا ولیمز امید سے ہونے کے سبب کھیل سے دور ہیں۔جریدہ فوربز کے مطابق جون2015 سے اب تک شاراپووا نے کھیل کی مد میں صرف 19 لاکھ ڈالرس کمائے ہیں لیکن اپنے اسپانسروں کی مدد سے انھوں نے دو کروڑ ڈالر کی رقم کمائی ہے جس کا مقابلہ صرف سرینا ویلیمز کر سکی ہیں اور کھیل میں واپسی کے بعد شاراپووا کی توجہ آمدن کے اسی مرکزی ذریع کو بحال کرنے پر ہوگی۔ سالفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن چیڈوک کے بموجب کھیل سے دور رہنے کے باوجود شاراپووا نے اپنے اسپانسروں سے تعلق جوڑ ے رکھا ہو گا لیکن مجھے یقین ہے کہ ان اسپانسروں نے ان کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں میں پابندی کے بعد جرمانہ عائد کرنے والی شق رکھی ہو گی۔یاد رہے کہ مارچ 2016 میں شاراپووا نے یہ تسلیم کیا تھا کہ سال کے پہلے گرانڈ سلام میں انھوں نے ایک ممنوع دوا کا استعمال کیا تھا۔ اعتراف کے بعد ان پر دو سال کی پابندی عاید ہوئی تھی لیکن اپیل کے بعد اس کا دورانیہ کم کر کے 15 ماہ کر دیا گیا تھا لیکن امریکی گولفر ٹائیگر ووڈز کے غیر ازدواجی تعلقات کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے اسپانسروں نے ان کا جس تیزی سے ساتھ چھوڑ تھا، ایسا شاراپووا کے ساتھی نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسپانسروں نے شاراپووا پر بہت رقم خرچ کی ہے۔ جب بھی وہ کھیل میں واپس آتی ہیں اور دوبارہ کامیابیاں سمیٹنا شروع کرتی ہیں، تو اگر کسی ایک کمپنی نے شاراپووا سے معاہدہ ختم کر دیا تھا تو عین ممکن ہے کہ ان کا حریف معاہدہ کر لے۔شاراپووا پر پابندی کے بعد اسپانسروں کا رویہ ملا جلا تھا۔ ‘ہیڈ’ اور ایویان’ نے فوراً ان کی حمایت کی جبکہ پورشے اور نائیکی نے معاہدوں میں کچھ توقف کیا لیکن بعد میں دوبارہ ساتھ آ گئے۔ ٹاگ ہوئر اور ایوون نے پابندی کے بعد معاہدے ختم کر دیے۔یورپی اسپانسرشپ اسوسی ایشن کے چیئر مین کارن ارل نے کہا کہ اس پوری معاملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاراپووا بذات خود ایک برانڈ ہیں۔ میڈیا ان کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ان کی واپسی کی خبر کا بہت چرچا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنی اہم ہیں اور خواتین ٹینس کو ان کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں ان کے ساتھ کئے گئے معاہدے جاری رکھنا چاہتی ہیں۔کیونکہ شاراپووا نے الزام لگنے کے فوراً بعد اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی تو اس وجہ سے ان کی شہرت کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔شاراپووا نے فوراً اعتراف کر لیا کہ انھوں نے ایک غلط کام کیا ہے اور اپنی غلطی پر معافی مانگی اور کہا کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کیونکہ شائقین شاراپووا کے خلاف نہیں ہوئے تھے اور ان کی ساکھ اتنی متاثر نہیں ہوئی تھی، شاید اس لئے بھی شاراپووا کے اسپانسروں نے ان کا ساتھ دیا۔ڈبلیو ٹی اے کے سربراہ اسٹیو سائمن نے بھی کہا ہے کہ ٹینس کھیلنے والے اور ٹینس دیکھنے والے دونوں شاراپووا کو واپس آنے کے بعد خوش آمدید کہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT